Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Al-Adha Festival Sacrifice (Adaahi)

كتاب الأضاحي

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Al-Bara: The Prophet (PBUH) said (on the day of Idal-Adha), "The first thing we will do on this day of ours, is to offer the (`Id) prayer and then return to slaughter the sacrifice. Whoever does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered (the sacrifice) before the prayer, what he offered was just meat he presented to his family, and that will not be considered as Nusak (sacrifice)." (On hearing that) Abu Burda bin Niyar got up, for he had slaughtered the sacrifice before the prayer, and said, "I have got a six month old ram." The Prophet (PBUH) said, 'Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be sufficient for any-one else (as a sacrifice after you). Al-Bara' added: The Prophet (PBUH) said, "Whoever slaughtered (the sacrifice) after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims." ھم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کھا ھم سے غندر نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، ان سے زبید ایامی نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایاآج ( عیدالاضحی کے دن ) کی ابتداء ھم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وھ ھماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نمازعید سے ) پھلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ھو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ھے قربانی وھ قطعاًبھی نھیں ۔ اس پر ابوبردھ بن نیار رضی اللھ عنھ کھڑے ھوئے انھوں نے ( نمازعید سے پھلے ھی ) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کھ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ھے ( کیا اس کی دوبارھ قربانی ا ب نماز کے بعد کر لوں ؟ ) آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اس کی قربانی کر لو لیکن تمھارے بعد یھ کسی اور کے لیے کافی نھیں ھو گا ۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا جس نے نمازعید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ھو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 73 Hadith no 5545
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 68 Hadith no 453


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik: The Prophet (PBUH) said, "Whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, he just slaughtered it for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims." ھم سے مسددنے بیان کیا ، کھا ھم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا جس نے نمازعید سے پھلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نمازعید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ھوئی ۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 73 Hadith no 5546
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 68 Hadith no 454


حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ جَذَعَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ضَحِّ بِهَا ‏"‏‏.‏


Chapter: The distribution of the animals among the people

Narrated `Uqba bin 'Amir Al-Juhani: that the Prophet (PBUH) distributed among his companions some animals for sacrifice (to be slaughtered on `Id-al-Adha). `Uqba's share was a Jadha'a (a six month old goat). `Uqba said, "O Allah's Messenger (PBUH)! I get in my share of Jadha'a (a six month old ram)." The Prophet (PBUH) said, "Slaughter it as a sacrifice." ھم سے معاذ بن فضالھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھشام بن عروھ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجھ الجھنی نے اور ان سے عقبھ بن عامر جھنی رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنے صحابھ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے ۔ حضرت عقبھ رضی اللھ عنھ کے حصھ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچھ آیا ۔ انھوں نے بیان کیا کھ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! میرے حصھ میں تو ایک سال سے کم کا بچھ آیا ھے ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ تم اسی کو قربانی کر لو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 73 Hadith no 5547
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 68 Hadith no 455


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ، قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ وَهْىَ تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ‏.‏


Chapter: Sacrifices on behalf of travelers and women

Narrated `Aisha: that the Prophet (PBUH) entered upon her when she had her menses at Sarif before entering Mecca, and she was weeping (because she was afraid that she would not be able to perform the Hajj). The Prophet (PBUH) said, "What is wrong with you? Have you got your period?" She said, "Yes." He said, "This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform all the ceremonies of Hajj like the others, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba." `Aisha added: When we were at Mina, beef was brought to me and I asked, "What is this?" They (the people) said, "Allah's Messenger (PBUH) has slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives." ھم سے مسدد نے بیان کیا ، ھم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ان کے پاس آئے وھ مکھ مکرمھ میں داخل ھونے سے پھلے مقام سرف میں حائضھ ھو گئی تھیں ۔ اس وقت آپ رو رھی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا کھ کیا بات ھے کیا تمھیں حیض کا خون آنے لگا ھے ؟ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے عرض کیا کھ جی ھاں ۔ آپ نے فرمایا کھ یھ تو اللھ تعالیٰ نے حضرت آدم علیھ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ھے ۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللھ کا طواف نھ کرو ، پھر جب ھم منیٰ میں تھے تو ھمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا ۔ میں نے پوچھا کھ یھ کیا ھے ؟ لوگوں نے بتایا کھ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 73 Hadith no 5548
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 68 Hadith no 456


حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ جِيرَانَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ‏.‏ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا‏.‏


Chapter: Meat is desired on the day of Nahr

Narrated Anas bin Malik: The Prophet (PBUH) said on the day of Nahr, "Whoever has slaughtered his sacrifice before the prayer, should repeat it (slaughter another sacrifice)." A man got up and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! This is a day on which meat is desired." He then mentioned his neighbors saying, "I have a six month old ram which is to me better than the meat of two sheep." The Prophet (PBUH) allowed him to slaughter it as a sacrifice, but I do not know whether this permission was valid for other than that man or not. The Prophet (PBUH) then went towards two rams and slaughtered them, and then the people went towards some sheep and distributed them among themselves. ھم سے صدقھ نے بیان کیا ، کھا ھم کو ابن علیھ نے خبر دی ، انھیں ایوب نے ، انھیں محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کھ جس نے نمازعید سے پھلے قربانی ذبح کر لی ھے وھ دوبارھ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ھو کر عرض کیا یا رسول اللھ ! یھ وھ دن ھے جس میں گوشت کھانے کی خواھش ھوتی ھے پھر انھوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کھا کھ ) میرے پاس ایک سا ل سے کم کا بکری کا بچھ ھے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بھتر ھے تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں اس کی اجازت دے دی ۔ مجھے نھیں معلوم کھ یھ اجازت دوسروں کو بھی ھے یا نھیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انھیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انھیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 73 Hadith no 5549
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 68 Hadith no 457


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏


Chapter: Sacrifices on the day of Nahr

Narrated Abu Bakra: The Prophet (PBUH) said, "Time has come back to its original state which it had on the day Allah created the Heavens and the Earth. The year is twelve months, four of which are sacred, three of them are in succession, namely Dhul-Qa'da, Dhul Hijja and Muharram, (the fourth being) Rajab Mudar which is between Juma'da (ath-thamj and Sha'ban. The Prophet (PBUH) then asked, "Which month is this?" We said, "Allah and his Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We said, "Yes." He said, "Which town is this?" We said, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it t,y a name other than its real name. He said, "isn't it the town (of Mecca)?" We replied, "Yes." He said, "What day is today?" We replied, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the day of Nahr?" We replied, "Yes." He then said, "Your blood, properties and honor are as sacred to one another as this day of yours in this town of yours in this month of yours. You will meet your Lord, and He will ask you about your deeds. Beware! Do not go astray after me by cutting the necks of each other. It is incumbent upon those who are present to convey this message to those who are absent, for some of those to whom it is conveyed may comprehend it better than some of those who have heard it directly." (Muhammad, the sub-narrator, on mentioning this used to say: The Prophet then said, "No doubt! Haven't I delivered (Allah's) Message (to you)? Haven't I delivered Allah's message (to you)?" ھم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبدالوھاب نے بیان کیا ، کھا ھم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے ، ان سے ابن ابی بکر ھ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ! زمانھ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ھے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللھ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے ۔ سال بارھ مھینھ کا ھوتا ھے ان میں چار حرمت کے مھینے ھیں ، تین پے درپے ذی قعدھ ، ذی الحجھ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ھے ( پھر آپ نے دریافت فرمایا ) یھ کون سا مھینھ ھے ، ھم نے عرض کیا اللھ اور اس کے رسول زیادھ جانتے ھیں ۔ آپ خاموش ھو گئے ۔ ھم نے سمجھا کھ شاید آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یھ ذی الحجھ نھیں ھے ؟ ھم نے عرض کیا ذی الحجھ ھی ھے ۔ پھر فرمایا یھ کون سا شھر ھے ؟ ھم نے کھا کھ اللھ اور اس کے رسول کو اس کا زیادھ علم ھے ۔ پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم خاموش ھو گئے اور ھم نے سمجھا کھ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یھ بلدھ ( مکھ مکرمھ ) نھیں ھے ؟ ھم نے عرض کیا کیوں نھیں ۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا یھ دن کون سا ھے ؟ ھم نے عرض کیا کھ اللھ اور اس کے رسول کو اس کا بھتر علم ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم خاموش ھو گئے اور ھم نے سمجھا کھ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یھ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نھیں ھے ؟ ھم نے عرض کیا کیوں نھیں ! پھر آپ نے فرمایا پس تمھارا خون ، تمھارے اموال ۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کھ میرا خیال ھے کھ ( ابن ابی بکرھ نے ) یھ بھی کھا کھ ” اور تمھاری عزت تم پر ( ایک کی دوسرے پر ) اس طرح با حرمت ھیں جس طرح اس دن کی حرمت تمھارے اس شھر میں اور اس مھینھ میں ھے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وھ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاھ ھو جاؤ میرے بعد گمراھ نھ ھو جانا کھ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے ۔ ھاں جو یھاں موجود ھیں وھ ( میرا یھ پیغام ) غیر موجود لوگوں کو پھنچا دیں ۔ ممکن ھے کھ بعض وھ جنھیں یھ پیغام پھنچایا جائے بعض ان سے زیادھ اسے محفوظ کرنے والے ھوں جو اسے سن رھے ھیں ۔ اس پر محمد بن سیرین کھا کرتے تھے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے سچ فرمایا پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا آگاھ ھو جاؤ کیا میں نے ( اس کا پیغام تم کو ) پھنچا دیا ھے ۔ آگاھ ھو جاؤ کیا میں نے پھنچا دیا ھے ؟

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 73 Hadith no 5550
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 68 Hadith no 458



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.