Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Asking Permission

كتاب الاستئذان

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَأَسْرَعَ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ‏.‏


Chapter: The one who walks quickly for some necessity

Narrated `Uqba bin Al-Harith: Once the Prophet (PBUH) offered the `Asr prayer and then he walked quickly and entered his house. ھم سے ابو عاصم نے بیان کیا ، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکھ نے اور ان سے عقبھ بن حارث رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ھمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ چل کر آپ گھر میں داخل ھو گئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith no 6275
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith no 292


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَسْطَ السَّرِيرِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ تَكُونُ لِيَ الْحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَقُومَ فَأَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلاً‏.‏


Chapter: The bed.

Narrated `Aisha: Allah's Messenger (PBUH) used to offer his prayer (while standing) in the midst of the bed, and I used to lie in front of him between him and the Qibla It I had any necessity for getting up and I used to dislike to get up and face him (while he was in prayer), but I would gradually slip away from the bed. ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابو الضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم تخت کے وسط میں نماز پڑھتے تھے اور میں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم اور قبلھ کے درمیان لیٹی رھتی تھی مجھے کوئی ضرورت ھوتی لیکن مجھ کو کھڑے ھو کر آپ کے سامنے آنا برا معلوم ھوتا ۔ البتھ آپ کی طرف رخ کر کے میں آھستھ سے کھسک جاتی تھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith no 6276
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith no 293


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَىَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَمْسًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبْعًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تِسْعًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِحْدَى عَشْرَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ‏"‏‏.‏


Chapter: Anyone for whom a cushion was put

Narrated `Abdullah bin `Amr: The news of my fasting was mentioned to the Prophet (PBUH) . So he entered upon me and I put for him a leather cushion stuffed with palm-fibres. The Prophet (PBUH) sat on the floor and the cushion was between me and him. He said to me, "Isn't it sufficient for you (that you fast) three days a month?" I said, "O Allah's Messenger (PBUH)! (I can fast more than this)." He said, "You may fast) five days a month." I said, "O Allah's Messenger (PBUH)! (I can fast more than this)." He said, "(You may fast) seven days." I said, "O Allah's Apostle!" He said, "Nine." I said, "O Allah's Messenger (PBUH)!" He said, "Eleven." I said, "O Allah's Messenger (PBUH)!" He said, "No fasting is superior to the fasting of (the Prophet (PBUH) David) which was one half of a year, and he used, to fast on alternate days. (See Hadith No. 300, Vol 3) ھم سے اسحاق بن شاھین واسطی نے بیان کیا ، کھا ھم سے خالد نے بیان کیا ( دوسری سند ) حضرت امام بخاری رحمھ اللھ نے کھا اور مجھ سے عبداللھ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، ان سے خالد ( بن عبداللھ طحان ) نے بیان کیا ، ان سے خالد ( حذاء ) نے ، ان سے ابوقلابھ نے بیان کیا ، کھا کھ مجھے ابوالملیح عامربن زید نے خبر دی ، انھوں نے ( ابوقلابھ ) کو ( خطاب کر کے ) کھا کھ میں تمھارے والد زید کے ساتھ حضرت عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما کی خدمت میں حاضر ھوا ، انھوں نے ھم سے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے میرے روزے کا ذکر کیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم میرے یھاں تشریف لائے میں نے آپ کے لئے چمڑے کا ایک گدا ، جس میں کھجو ر کی چھا ل بھری ھوئی تھی بچھادیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم زمین پر بیٹھے اور گدا میرے اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے درمیان ویساھی پڑا رھا ۔ پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمھارے لئے ھر مھینے میں تین دن کے ( روزے ) کافی نھیں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا پھر پانچ دن رکھا کر ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! فرمایا سات دن ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! فرمایا نودن ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! فرمایا گیارھ دن ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! فرمایا حضرت داؤ د علیھ السلام کے روزے سے زیادھ کوئی روزھ نھیں ھے ۔ زندگی کے نصف ایام ، ایک دن کا روزھ اور ایک دن بغیر روزھ کے رھنا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith no 6277
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith no 294


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا‏.‏ فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ـ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ـ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ كَانَ فِيكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الشَّيْطَانِ ـ يَعْنِي عَمَّارًا ـ أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ ـ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ـ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏‏.‏ قَالَ ‏{‏وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ فَقَالَ مَا زَالَ هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي، وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Ibrahim: 'Alaqama went to Sham and came to the mosque and offered a two-rak`at prayer, and invoked Allah: "O Allah! Bless me with a (pious) good companion." So he sat beside Abu Ad-Darda' who asked, "From where are you?" He said, "From the people of Kufa." Abu Darda' said, "Wasn't there among you the person who keeps the secrets (of the Prophet (PBUH) ) which nobody knew except him (i.e., Hudhaifa (bin Al-Yaman)). And isn't there among you the person whom Allah gave refuge from Satan through the request (tongue) of Allah's Messenger (PBUH)? (i.e., `Ammar). Isn't there among you the one who used to carry the Siwak and the cushion (or pillows (of the Prophets)? (i.e., Ibn Mas`ud). How did Ibn Mas`ud use to recite 'By the night as it conceals (the light)?" (Sura 92). 'Alqama said, "Wadhdhakari Wal Untha' (And by male and female.") Abu Ad-Darda added. 'These people continued to argue with me regarding it till they were about to cause me to have doubts although I heard it from Allah's Messenger (PBUH)." مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ، کھا ھم سے یزید بن ھارون نے بیان کیا ، ان سے شعبھ نے ، ان سے مغیرھ بن مقسم نے ، ان سے ابراھیم نخعی نے اور ان سے علقمھ بن قیس نے کھ آپ ملک شام میں پھنچے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کھا کھ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، ان سے مغیرھ نے اور ان سے ابراھیم نے بیان کیا کھ علقمھ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یھ دعا کی اے اللھ ! مجھے ایک ھم نشین عطا فرما ۔ چنانچھ وھ ابودرداء رضی اللھ عنھ کی مجلس میں جابیٹھے ۔ ابودرداء رضی اللھ عنھ نے دریافت کیا ۔ تمھارا تعلق کھاں سے ھے ؟ کھا کھ اھل کوفھ سے ۔ پوچھا کیا تمھارے یھاں ( نفاق اور منافقین کے ) بھیدوں کے جاننے والے وھ صحابی نھیں ھیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نھیں ھے ۔ ان کااشارھ حذیفھ رضی اللھ عنھ کی طرف تھا ۔ کیا تمھارے یھاں وھ نھیں ھیں ( یا یوں کھا کھ ) تمھارے وھ جنھیں اللھ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللھ علیھ وسلم کی زبانی شیطان سے پنا ھ دی تھی ۔ اشارھ عمار رضی اللھ عنھ کی طرف تھا ۔ کیا تمھارے یھاں مسواک اور گدے والے نھیں ھیں ؟ ان کا اشارھ ابن مسعود رضی اللھ عنھما کی طرف تھا ۔ عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما سورۃ ” واللیل اذا یغشیٰ “ کس طرح پڑھتے تھے ۔ علقمھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ وھ ” والذکر والانثیٰ “ پڑھتے تھے ۔ ابودرداء رضی اللھ عنھ نے اس پر کھا کھ یھ لوگ کوفھ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کھ مجھے شبھ میں ڈال دیتے حالانکھ میں نے نبی کریم سے خود اسے سنا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith no 6278
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith no 295


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ‏.‏


Chapter: After Al-Jumu'ah (prayer)

Narrated Sahl bin Sa`d: We used to have a midday nap and take our meals after the Jumua (prayer). ھم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے حضرت سھل بن سعد ساعدی رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ھم کھانا اور قیلولھ نماز جمعھ کے بعد کیا کرتے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith no 6279
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith no 296


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ ‏"‏ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ‏"‏ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ ـ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏ قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ ‏"‏‏.‏


Chapter: Mid-day nap in the Mosque

Narrated Sahl bin Sa`d: There was no name dearer to `Ali than his nickname Abu Turab (the father of dust). He used to feel happy whenever he was called by this name. Once Allah's Messenger (PBUH) came to the house of Fatima but did not find `Ali in the house. So he asked "Where is your cousin?" She replied, "There was something (a quarrel) between me and him whereupon he got angry with me and went out without having a midday nap in my house." Allah's Messenger (PBUH) asked a person to look for him. That person came, and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! He (Ali) is sleeping in the mosque." So Allah's Messenger (PBUH) went there and found him lying. His upper body cover had fallen off to one side of his body, and so he was covered with dust. Allah's Messenger (PBUH) started cleaning the dust from him, saying, "Get up, O Abu Turab! Get up, Abu Turab!" (See Hadith No. 432, Vol 1) ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبد العزیز بن حازم نے بیان کیا ، ان سے حضرت سھل بن سعد ساعدی رضی اللھ عنھ نے بیان کیاکھ حضرت علی رضی اللھ عنھ کو کوئی نام ” ابوتراب “ سے زیادھ محبوب نھیں تھا ۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وھ خوش ھوتے تھے ۔ ایک مرتبھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم حضرت فاطمھ علیھا السلام کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللھ عنھ کو گھر میں نھیں پایا تو فرمایا کھ بیٹی تمھارے چچا کے لڑکے ( اور شوھر ) کھاں گئے ھیں ؟ انھوں نے کھا میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخ کلامی ھو گئی تھی وھ مجھ پر غصھ ھو کر باھر چلے گئے اور میرے یھاں ( گھر میں ) قیلولھ نھیں کیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک شخص سے کھا کھ دیکھو وھ کھاں ھیں ۔ وھ صحابی واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللھ ! وھ تو مسجد میں سوئے ھوئے ھیں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللھ عنھ لیٹے ھوئے تھے اور چادر آپ کے پھلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ھو گئی تھی آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے ، ابوتراب ! ( مٹی والے ) اٹھو ، ابوتراب ! اٹھو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith no 6280
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith no 297



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.