Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Blood Money (Ad-Diyat)

كتاب الديات

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَدَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلاَّ لُدَّ، غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha: We poured medicine into the mouth of the Prophet (PBUH) during his ailment. He said, "Don't pour medicine into my mouth." (We thought he said that) out of the aversion a patient usually has for medicines. When he improved and felt better he said, "There is none of you but will be forced to drink medicine, except Al-`Abbas, for he did not witness your deed." ھم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن ابی عائشھ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللھ بن عبداللھ نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے منھ میں ( مرض الوفات کے موقع پر ) آپ کی مرضی کے خلاف ھم نے دوا ڈالی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ میرے حلق میں دوا نھ ڈالو لیکن ھم نے سمجھا کھ مریض ھونے کی وجھ سے دوا پینے سے نفرت کر رھے ھیں لیکن جب آپ کو ھوش ھوا تو فرمایا کھ تم جتنے لوگ گھر میں ھو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا حضرت عباس رضی اللھ عنھ کے کھ وھ اس وقت موجود نھیں تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 87 Hadith no 6886
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 83 Hadith no 25


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ وَبِإِسْنَادِهِ ‏"‏ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: That he heard Allah's Messenger (PBUH) saying, "We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)." And added, "If someone is peeping (looking secretly) into your house without your permission, and you throw a stone at him and destroy his eyes, there will be no blame on you." ھم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کھا ھم کو شعیب نے خبر دی ، کھا ھم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا ، انھوں نے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ سے سنا ، بیان کیا کھ انھوں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ھم آخری امت ھیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رھنے والے ھیں ۔ اور اسی اسناد کے ساتھ ( روایت ھے کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ) اگر کوئی شخص تیرے گھر میں ( کسی سوراخ یا جنگلے وغیرھ سے ) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رھا ھو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نھیں ھے ۔ نھ گناھ ھو گا نھ دنیا کی کوئی سزا لاگو ھو گی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 87 Hadith no 6887, 6888
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 83 Hadith no 26


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ،، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ‏.‏

Narrated Yahya: Humaid said, "A man peeped into the house of the Prophet (PBUH) and the Prophet (PBUH) aimed an arrow head at him to hit him." I asked, "Who told you that?" He said, "Anas bin Malik" (See Hadith No. 258 and 259, Vol. 8) ھم سے مسدد نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے حمید نے کھ ایک صاحب نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے گھر میں جھانک رھے تھے تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا ۔ میں نے پوچھا کھ یھ حدیث تم سے کس نے بیان کی ھے ؟ تو انھوں نے بیان کیا حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 87 Hadith no 6889
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 83 Hadith no 27


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ‏.‏ فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ‏.‏ قَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ‏.‏


Chapter: If someone dies or is killed in a big crowd

Narrated `Aisha: "When it was the day of (the battle of) Uhud, the pagans were defeated. Then Satan shouted, "O Allah's worshipers! Beware of what is behind you!" So the front files attacked the back files of the army. Hudhaifa looked, and behold, there was his father, Al-Yaman (being attacked) ! He shouted (to his companions), "O Allah's worshipers, my father, my father!" But by Allah, they did not stop till they killed him (i.e., Hudhaifa's father). Hudhaifa said, "May Allah forgive you." (`Urwa said, Hudhaifa continued asking Allah's Forgiveness for the killer of his father till he died. مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کھا ھم کو ابواسامھ نے خبر دی ، انھیں ھشام نے خبر دی ، کھا ھم کو ھمارے والد نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ احد کی لڑائی میں مشرکین کو پھلے شکست ھو گئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کھا اے اللھ کے بندو ! پیچھے کی طرف والوں سے بچو ! چنانچھ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے ( جو مسلمان ھی تھے ) بھڑ گئے ۔ اچانک حذیفھ رضی اللھ عنھ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللھ عنھ تھے ۔ حذیفھ رضی اللھ عنھ نے کھا اللھ کے بندو ! یھ تو میرے والد ھیں ، میرے والد ۔ بیان کیا کھ اللھ کی قسم مسلمان انھیں قتل کر کے ھی ھٹے ۔ اس پر حذیفھ رضی اللھ عنھ نے کھا اللھ تمھاری مغفرت کرے ۔ عروھ نے بیان کیا کھ اس واقعھ کا صدمھ حضرت حذیفھ رضی اللھ عنھ کو آخر وقت تک رھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 87 Hadith no 6890
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 83 Hadith no 28


حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ‏.‏ فَحَدَا بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ السَّائِقُ ‏"‏ قَالُوا عَامِرٌ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ رَحِمَهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلاَّ أَمْتَعْتَنَا بِهِ‏.‏ فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ حَبِطَ عَمَلُهُ، قَتَلَ نَفْسَهُ‏.‏ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا، إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ، إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، وَأَىُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏


Chapter: If someone kills himself by mistake, there is no Diya

Narrated Salama: We went out with the Prophet (PBUH) to Khaibar. A man (from the companions) said, "O 'Amir! Let us hear some of your Huda (camel-driving songs.)" So he sang some of them (i.e. a lyric in harmony with the camels walk). The Prophet (PBUH) said, "Who is the driver (of these camels)?" They said, "Amir." The Prophet said, "May Allah bestow His Mercy on him !" The people said, "O Allah's Messenger (PBUH)! Would that you let us enjoy his company longer!" Then 'Amir was killed the following morning. The people said, "The good deeds of 'Amir are lost as he has killed himself." I returned at the time while they were talking about that. I went to the Prophet (PBUH) and said, "O Allah's Prophet! Let my father be sacrificed for you! The people claim that 'Amir's good deeds are lost." The Prophet (PBUH) said, "Whoever says so is a liar, for 'Amir will have a double reward as he exerted himself to obey Allah and fought in Allah's Cause. No other way of killing would have granted him greater reward." ھم سے مکی بن ابراھیم نے بیان کیا ، کھا ھم سے یزید بن ابی عبید نے ، اور ان سے سلمھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ھم نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے ۔ جماعت کے ایک صاحب نے کھا عامر ! ھمیں اپنی حدی سنائیے ۔ انھوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے پوچھا کھ کون صاحب گاگاکر اونٹوں کو ھانک رھے ھیں ؟ لوگوں نے کھا کھ عامر ھیں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اللھ ان پر رحم کرے ۔ صحابھ نے عرض کیا یا رسول اللھ ! آپ نے ھمیں عامر سے فائدھ کیوں نھیں اٹھانے دیا ۔ چنانچھ عامر رضی اللھ عنھ اسی رات کو اپنی ھی تلوار سے شھید ھو گئے ۔ لوگوں نے کھا کھ ان کے اعمال برباد ھو گئے ، انھوں نے خودکشی کر لی ( کیونکھ ایک یھودی پر حملھ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ھو گئے تھے ) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کھ لوگ آپس میں کھھ رھے ھیں کھ عامر کے اعمال برباد ھو گئے تو میں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا اور عرض کیا اے اللھ کے نبی ! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ھوں ، یھ لوگ کھتے ھیں کھ عامر کے سارے اعمال برباد ھوئے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا جو شخص یھ کھتا ھے غلط کھتا ھے ۔ عامر کو دوھرا اجر ملے گا وھ ( اللھ کے راستھ میں ) مشقت اٹھانے والے اور جھاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ھو گا ؟

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 87 Hadith no 6891
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 83 Hadith no 29


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لاَ دِيَةَ لَكَ ‏"‏‏.‏


Chapter: If somebody bites a man and has his tooth broken

Narrated `Imran bin Husain: A man bit another man's hand and the latter pulled his hand out of his mouth by force, causing two of his incisors (teeth) to fall out. They submitted their case to the Prophet, who said, "One of you bit his brother as a male camel bites. (Go away), there is no Diya (Blood-money) for you." ھم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے قتادھ نے بیان کیا کھ میں نے زرارھ بن ابی اوفی سے سنا ، ان سے عمران بن حصین رضی اللھ عنھما نے کھ ایک شخص نے ایک شخص کے ھاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ھاتھ کاٹنے والے کے منھ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس لائے توآنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ تم اپنے ھی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ھو جیسے اونٹ کاٹتا ھے تمھیں دیت نھیں ملے گی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 87 Hadith no 6892
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 83 Hadith no 30



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.