Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Fasting

كتاب الصوم

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ فَقَالَ ‏"‏ شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ فَقَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ‏.‏ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏

Narrated Talha bin 'Ubaidullah: A bedouin with unkempt hair came to Allah's Messenger (PBUH) and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! Inform me what Allah has made compulsory for me as regards the prayers." He replied: "You have to offer perfectly the five compulsory prayers in a day and night (24 hours), unless you want to pray Nawafil." The bedouin further asked, "Inform me what Allah has made compulsory for me as regards fasting." He replied, "You have to fast during the whole month of Ramadan, unless you want to fast more as Nawafil." The bedouin further asked, "Tell me how much Zakat Allah has enjoined on me." Thus, Allah's Messenger (PBUH) informed him about all the rules (i.e. fundamentals) of Islam. The bedouin then said, "By Him Who has honored you, I will neither perform any Nawafil nor will I decrease what Allah has enjoined on me. Allah's Messenger (PBUH) said, "If he is saying the truth, he will succeed (or he will be granted Paradise). ھم سے قتبیھ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوسھیل نے ، ان سے ان کے والد مالک نے اور ان سے طلحھ بن عبیداللھ رضی اللھ عنھ نے کھ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ھوئے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا اس نے پوچھا یا رسول اللھ صلی اللھ ! بتائیے مجھ پر اللھ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ھیں ؟ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ پانچ نمازیں ، یھ اور بات ھے کھ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو ، پھر اس نے کھا بتائیے اللھ تعالیٰ نے مجھ پرر وزے کتنے فرض کئے ھیں ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ رمضان کے مھینے کے ، یھ اور بات ھے کھ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو ، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللھ تعالیٰ نے فرض کی ھے ؟ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتا دیں ۔ جب اس اعرابی نے کھا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللھ علیھ وسلم کو عزت دی نھ میں اس میں اس سے جو اللھ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کر دیا ھے کچھ بڑھاؤں گا اور نھ گھٹاؤں گا ، اس پر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اگر اس نے سچ کھا ھے تو یھ مراد کو پھنچایا ( آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے یھ فرمایا کھ ) اگر سچ کھا ھے تو جنت میں جائے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 30 Hadith no 1891
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 31 Hadith no 115


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَاشُورَاءَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ‏.‏ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ‏.‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَصُومُهُ، إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ‏.‏

Narrated Ibn `Umar: The Prophet (PBUH) observed the fast on the 10th of Muharram ('Ashura), and ordered (Muslims) to fast on that day, but when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, the fasting of the 'Ashura' was abandoned. `Abdullah did not use to fast on that day unless it coincided with his routine fasting by chance. ھم سے مسدد بن مسرھد نے بیان کیا ، کھا ھم سے اسماعیل بن علیھ نے بیان کیا ان سے ایوب نے ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی للھ علیھ وسلم نے یوم عاشورھ کا روزھ رکھا تھا اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اس کے رکھنے کا صحابھ رضی اللھ عنھم کو ابتداء اسلام میں حکم دیا تھا ، جب ماھ رمضان کے روزے فرض ھو گئے تو عاشورھ کا روزھ بطور فرض چھوڑ دیا گیا ، عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما عاشورھ کے دن روزھ نھ رکھتے مگر جب ان کے روزے کا دن ھی یوم عاشورھ آن پڑتا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 30 Hadith no 1892
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 31 Hadith no 116


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قُرَيْشًا، كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha: (The tribe of) Quraish used to fast on the day of Ashura' in the Pre-Islamic period, and then Allah's Apostle ordered (Muslims) to fast on it till the fasting in the month of Ramadan was prescribed; whereupon the Prophet (PBUH) said, "He who wants to fast (on 'Ashura') may fast, and he who does not want to fast may not fast." ھم سے قتیبھ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے اور ان سے عراک بن مالک نے بیان کیا ، انھیں عروھ نے خبر دی کھ ام المؤمنین عائشھ رضی اللھ عنھا نے فرمایا قریش زمانھ جاھلیت میں عاشورھ کا روزھ رکھتے تھے ، پھر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے بھی اس دن روزھ کا حکم دیا یھاں تک کھ رمضان کے روزے فرض ھو گئے ، پھر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ جس کا جی چاھے یوم عاشورھ کا روزھ رکھے اور جس کا جی چاھے نھ رکھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 30 Hadith no 1893
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 31 Hadith no 117


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ‏.‏ مَرَّتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ‏"‏‏.‏


Chapter: The superiority of As-Saum (the fasting)

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, 'I am fasting." The Prophet (PBUH) added, "By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), 'He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times." ھم سے عبداللھ بن مسلمھ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا روزھ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ھے اس لیے ( روزھ دار ) نھ فحش باتیں کرے اور نھ جھالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یھ ھونا چاھئے کھ میں روزھ دار ھوں ، ( یھ الفاظ ) دو مرتبھ ( کھھ دے ) اس ذات کی قسم ! جس کے ھاتھ میں میری جان ھے روزھ دار کے منھ کی بو اللھ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادھ پسندیدھ اور پاکیزھ ھے ، ( اللھ تعالیٰ فرماتا ھے ) بندھ اپنا کھانا پینا اور اپنی شھوت میرے لیے چھوڑ دیتا ھے ، روزھ میرے لیے ھے اور میں ھی اس کا بدلھ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ھوتا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 30 Hadith no 1894
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 31 Hadith no 118


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ‏.‏ قَالَ وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا‏.‏ قَالَ فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ قَالَ يُكْسَرُ‏.‏ قَالَ ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لاَ يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ‏.‏ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ‏.‏


Chapter: As-Saum (the fasting) is an expiation (for sins)

Narrated Abu Wail from Hudhaifa: `Umar asked the people, "Who remembers the narration of the Prophet (PBUH) about the affliction?" Hudhaifa said, "I heard the Prophet (PBUH) saying, 'The affliction of a person in his property, family and neighbors is expiated by his prayers, fasting, and giving in charity." `Umar said, "I do not ask about that, but I ask about those afflictions which will spread like the waves of the sea." Hudhaifa replied, "There is a closed gate in front of those afflictions." `Umar asked, "Will that gate be opened or broken?" He replied, "It will be broken." `Umar said, "Then the gate will not be closed again till the Day of Resurrection." We said to Masruq, "Would you ask Hudhaifa whether `Umar knew what that gate symbolized?" He asked him and he replied "He (`Umar) knew it as one knows that there will be night before tomorrow, morning. ھم سے علی بن عبداللھ نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینھ نے بیان کیا ، ان سے جامع بن راشد نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفھ رضی اللھ عنھ نے کھ حضرت عمر رضی اللھ عنھ نے پوچھا فتنھ کے متعلق رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی حدیث کسی کو یاد ھے ؟ حذیفھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ میں نے سنا ھے ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا تھا کھ انسان کے لیے اس کے بال بچے ، اس کا مال اور اس کے پڑوسی فتنھ ( آزمائش و امتحان ) ھیں جس کا کفارھ نماز روزھ اور صدقھ بن جاتا ھے ۔ عمر رضی اللھ عنھ نے کھا کھ میں اس کے متعلق نھیں پوچھتا میری مراد تو اس فتنھ سے ھے جو سمندر کی موجوں کی طرح امنڈ آئے گا ۔ اس پر حذیفھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ آپ کے اور اس فتنھ کے درمیان ایک بند دروازھ ھے ۔ ( یعنی آپ کے دور میں وھ فتنھ شروع نھیں ھو گا ) عمر رضی اللھ عنھ نے پوچھا وھ دروازھ کھل جائے گا یا توڑ دیا جائے گا ؟ حذیفھ رضی اللھ عنھ نے بتایا کھ توڑ دیا جائے گا ۔ عمر رضی اللھ عنھ نے فرمایا کھ پھر تو قیامت تک کبھی بند نھ ھو پائے گا ۔ ھم نے مسروق سے کھا آپ حذیفھ رضی اللھ عنھ سے پوچھئے کھ کیا عمر رضی اللھ عنھ کو معلوم تھا کھ وھ دروازھ کون ھے ، چنانچھ مسروق نے پوچھا تو آپ رضی اللھ عنھ نے فرمایا ھاں ! بالکل اس طرح ( انھیں علم تھا ) جیسے رات کے بعد دن کے آنے کا علم ھوتا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 30 Hadith no 1895
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 31 Hadith no 119


حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ‏"‏‏.‏


Chapter: Ar-Raiyan is for people observing Saum

Narrated Sahl: The Prophet (PBUH) said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it." ھم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کھا ھم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے ابوحازم سلمھ ابن دینار نے بیان کیا اور ان سے سھل بن سعد ساعدی رضی اللھ عنھ نے کھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک دروازھ ھے جسے ریان کھتے ھیں قیامت کے دن اس دروازھ سے صرف روزھ دار ھی جنت میں داخل ھوں گے ، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نھیں داخل ھو گا ، پکارا جائے گا کھ روزھ دار کھاں ھے ؟ وھ کھڑے ھو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نھیں اندر جانے پائے گا اور جب یھ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یھ دروازھ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نھ جا سکے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 30 Hadith no 1896
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 31 Hadith no 120



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.