Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Fear Prayer

كتاب صلاة الخوف

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي صَلاَةَ الْخَوْفِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ تُصَلِّي، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْ مَعَهُ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ، فَجَاءُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ‏.‏

Narrated Shu'aib: I asked Az-Zuhri, "Did the Prophet (PBUH) ever offer the Fear Prayer?" Az-Zuhri said, "I was told by Salim that `Abdullah bin `Umar I had said, 'I took part in a holy battle with Allah's Messenger (PBUH) I in Najd. We faced the enemy and arranged ourselves in rows. Then Allah's Messenger (PBUH) (p.b.u.h) stood up to lead the prayer and one party stood to pray with him while the other faced the enemy. Allah's Messenger (PBUH) (p.b.u.h) and the former party bowed and performed two prostrations. Then that party left and took the place of those who had not prayed. Allah's Messenger (PBUH) prayed one rak`a (with the latter) and performed two prostrations and finished his prayer with Taslim. Then everyone of them bowed once and performed two prostrations individually.' " ھم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کھا کھ ھمیں شعیب نے زھری سے خبر دی ، انھوں نے زھری سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے صلوۃ خوف پڑھی تھی ؟ اس پر انھوں نے فرمایا کھ ھمیں سالم نے خبر دی کھ عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے بتلایا کھ میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ غزوھ ( ذات الرقاع ) میں شریک تھا ۔ دشمن سے مقابلھ کے وقت ھم نے صفیں باندھیں ۔ اس کے بعد رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے ھمیں خوف کی نماز پڑھائی ( تو ھم میں سے ) ایک جماعت آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے میں شریک ھو گئی اور دوسرا گروھ دشمن کے مقابلھ میں کھڑا رھا ۔ پھر رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنی اقتداء میں نماز پڑھنے والوں کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے ۔ پھر یھ لوگ لوٹ کر اس جماعت کی جگھ آ گئے جس نے ابھی نماز نھیں پڑھی تھی ۔ اب دوسری جماعت آئی ۔ ان کے ساتھ بھی آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک رکوع اور دو سجدے کئے ۔ پھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے سلام پھیر دیا ۔ اس گروھ میں سے ھر شخص کھڑا ھوا اور اس نے اکیلے اکیلے ایک رکوع اور دو سجدے ادا کئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 12 Hadith no 942
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 14 Hadith no 64


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوًا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ إِذَا اخْتَلَطُوا قِيَامًا‏.‏ وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُصَلُّوا قِيَامًا وَرُكْبَانًا ‏"‏‏.‏


Chapter: The Salat-ul-Khauf while standing or riding

Narrated Nafi`: Ibn `Umar said something similar to Mujahid's saying: Whenever (Muslims and non-Muslims) stand face to face in battle, the Muslims can pray while standing. Ibn `Umar added, "The Prophet (PBUH) said, 'If the number of the enemy is greater than the Muslims, they can pray while standing or riding (individually).' " ھم سے سعید بن یحییٰ بن سعید قرشی نے بیان کیا کھا کھ مجھ سے میرے باپ یحییٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبھ نے ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے مجاھد کے قول کی طرح بیان کیا کھ جب جنگ میں لوگ ایک دوسرے سے گٹھ جائیں تو کھڑے کھڑے نماز پڑھ لیں اور ابن عمر رضی اللھ عنھما نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے اپنی روایت میں اضافھ اور کیا ھے کھ اگر کافر بھت سارے ھوں کھ مسلمانوں کو دم نھ لینے دیں تو کھڑے کھڑے اور سوار رھ کر ( جس طور ممکن ھو ) اشاروں سے ھی سھی مگر نماز پڑھ لیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 12 Hadith no 943
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 14 Hadith no 65


حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ، وَرَكَعَ وَرَكَعَ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ لِلثَّانِيَةِ فَقَامَ الَّذِينَ سَجَدُوا وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا مَعَهُ، وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلاَةٍ، وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا‏.‏


Chapter: To guard one another during the Salat-ul-Khauf

Narrated Ibn `Abbas: Once the Prophet (p.b.u.h) led the fear prayer and the people stood behind him. He said Takbir (Allahu-Akbar) and the people said the same. He bowed and some of them bowed. Then he prostrated and they also prostrated. Then he stood for the second rak`a and those who had prayed the first rak`a left and guarded their brothers. The second party joined him and performed bowing and prostration with him. All the people were in prayer but they were guarding one another during the prayer. ھم سے حیوھ بن شریح نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے محمد بن حرب نے زبیدی سے بیان کیا ، ان سے زھری نے ، ان سے عبیداللھ بن عبداللھ بن عتبھ بن مسعود نے ، ان سے عبداللھ بن عباس رضی اللھ عنھما نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کھڑے ھوئے اور دوسرے لوگ بھی آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی اقتداء میں کھڑے ھوئے ۔ حضور صلی اللھ علیھ وسلم نے تکبیر کھی تو لوگوں نے بھی تکبیر کھی ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے رکوع کیا تو لوگوں نے آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ رکوع اور سجدھ کر لیا تھا وھ کھڑے کھڑے اپنے بھائیوں کی نگرانی کرتے رھے ۔ اور دوسرا گروھ آیا ۔ ( جو اب تک حفاظت کے لیے دشمن کے مقابلھ میں کھڑا رھا بعد میں ) اس نے بھی رکوع اور سجدے کئے ۔ سب لوگ نماز میں تھے لیکن لوگ ایک دوسرے کی حفاظت کر رھے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 12 Hadith no 944
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 14 Hadith no 66


حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيبَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا بَعْدُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا‏.‏

Narrated Jabir bin `Abdullah: On the day of the Khandaq `Umar came, cursing the disbelievers of Quraish and said, "O Allah's Apostle! I have not offered the `Asr prayer and the sun has set." The Prophet (PBUH) replied, "By Allah! I too, have not offered the prayer yet. "The Prophet (PBUH) then went to Buthan, performed ablution and performed the `Asr prayer after the sun had set and then offered the Maghrib prayer after it." ھم سے یحیی ابن جعفر نے بیان کیا کھ ھم سے وکیع نے علی بن مبارک سے بیان کیا ، ان سے یحیی بن ابی کثیر نے ، ان سے ابوسلمھ نے ، ان سے جابر بن عبداللھ انصاری رضی اللھ عنھ نے کھ حضرت عمر رضی اللھ عنھ غزوھ خندق کے دن کفار کو برا بھلا کھتے ھوئے آئے اور عرض کرنے لگے کھ یا رسول اللھ ! سورج ڈوبنے ھی کو ھے اور میں نے تو اب تک عصر کی نماز نھیں پڑھی ، اس پر آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ بخدا میں نے بھی ابھی تک نھیں پڑھی انھوں نے بیان کیا کھ پھر آپ ” بطحان “ کی طرف گئے ( جو مدینھ میں ایک میدان تھا ) اور وضو کر کے آپ نے وھاں سورج غروب ھونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی ، پھر اس کے بعد نماز مغرب پڑھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 12 Hadith no 945
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 14 Hadith no 67


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنَ الأَحْزَابِ ‏"‏ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ‏.‏ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ‏.‏

Narrated Ibn `Umar: When the Prophet (PBUH) returned from the battle of Al-Ahzab (The confederates), he said to us, "None should offer the 'Asr prayer but at Bani Quraiza." The 'Asr prayer became due for some of them on the way. Some of them decided not to offer the Salat but at Bani Quraiza while others decided to offer the Salat on the spot and said that the intention of the Prophet (PBUH) was not what the former party had understood. And when that was told to the Prophet (PBUH) he did not blame anyone of them. ھم سے عبداللھ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے جویریھ بن اسماء نے نافع سے ، ان سے عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے کھ جب نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم غزوھ خندق سے فارغ ھوئے ( ابوسفیان لوٹے ) تو ھم سے آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بنو قریظھ کے محلھ میں پھنچنے سے پھلے نماز عصر نھ پڑھے لیکن جب عصر کا وقت آیا تو بعض صحابھ نے راستھ ھی میں نماز پڑھ لی اور بعض صحابھ رضی اللھ عنھم نے کھا کھ ھم بنو قریظھ کے محلھ میں پھنچنے پر نماز عصر پڑھیں گے اور کچھ حضرات کا خیال یھ ھوا کھ ھمیں نماز پڑھ لینی چاھیے کیونکھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کا مقصد یھ نھیں تھا کھ نماز قضاء کر لیں ۔ پھر جب آپ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے کسی پر بھی ملامت نھیں فرمائی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 12 Hadith no 946
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 14 Hadith no 67


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَكِبَ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ـ قَالَ وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ ـ فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، وَصَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا‏.‏ فَتَبَسَّمَ‏.‏


Chapter: Offering As-Salat (the prayers) while attacking the enemy and in battles

Narrated Anas bin Malik: Allah's Messenger (PBUH) (p.b.u.h) offered the Fajr prayer when it was still dark, then he rode and said, 'Allah Akbar! Khaibar is ruined. When we approach near to a nation, the most unfortunate is the morning of those who have been warned." The people came out into the streets saying, "Muhammad and his army." Allah's Messenger (PBUH) vanquished them by force and their warriors were killed; the children and women were taken as captives. Safiya was taken by Dihya Al-Kalbi and later she belonged to Allah's Apostle go who married her and her Mahr was her manumission. ھم سے مسدد بن مسرھد نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن صھیب اور ثابت بنانی نے ، بیان کیا ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے ھی میں پڑھا دی ، پھر سوار ھوئے ( پھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم خیبر پھنچ گئے اور وھاں کے یھودیوں کو آپ کے آنے کی اطلاع ھو گئی ) اور فرمایا «الله اكبر» خیبر پر بربادی آ گئی ۔ ھم تو جب کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ھوئے لوگوں کی صبح منحوس ھو گی ۔ اس وقت خیبر کے یھودی گلیوں میں یھ کھتے ھوئے بھاگ رھے تھے کھ محمد صلی اللھ علیھ وسلم لشکر سمیت آ گئے ۔ راوی نے کھا کھ ( روایت میں ) لفظ «خميس» لشکر کے معنی میں ھے ۔ آخر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو فتح ھوئی ۔ لڑنے والے جوان قتل کر دئیے گئے ، عورتیں اور بچے قید ھوئے ۔ اتفاق سے صفیھ ، دحیھ کلبی کے حصھ میں آئیں ۔ پھر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو ملیں اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور آزادی ان کا مھر قرار پایا ۔ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا ابو محمد ! کیا تم نے انس رضی اللھ عنھ سے دریافت کیا تھا کھ حضرت صفیھ کا مھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے مقرر کیا تھا انھوں نے جواب دیا کھ خود انھیں کو ان کے مھر میں دے دیا تھا ۔ کھا کھ ابو محمد اس پر مسکرا دیئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 12 Hadith no 947
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 14 Hadith no 68



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.