Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Gifts

كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، ‏{‏عَنْ أَبِيهِ،‏}‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ ‏"‏‏.‏


Chapter: Superiority of giving gifts

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "O Muslim women! None of you should look down upon the gift sent by her female neighbor even if it were the trotters of the sheep (fleshless part of legs). ھم سے عاصم بن علی ابوالحسین نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اے مسلمان عورتو ! ھرگز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے ( معمولی ھدیھ کو بھی ) حقیر نھ سمجھے ، خواھ بکری کے کھر کا ھی کیوں نھ ھو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 51 Hadith no 2566
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 47 Hadith no 740


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ ابْنَ أُخْتِي، إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلاَلِ ثُمَّ الْهِلاَلِ، ثَلاَثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَارٌ‏.‏ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ قَالَتِ الأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلاَّ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ، وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَلْبَانِهِمْ، فَيَسْقِينَا‏.‏

Narrated `Urwa: Aisha said to me, "O my nephew! We used to see the crescent, and then the crescent and then the crescent in this way we saw three crescents in two months and no fire (for cooking) used to be made in the houses of Allah's Messenger (PBUH). I said, "O my aunt! Then what use to sustain you?" `Aisha said, "The two black things: dates and water, our neighbors from Ansar had some Manarh and they used to present Allah's Messenger (PBUH) some of their milk and he used to make us drink." ھم سے عبدالعزیز بن عبداللھ اویسی نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے یزید بن رومان سے ، وھ عروھ سے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ آپ نے عروھ سے کھا ، میرے بھانجے ! آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے عھد مبارک میں ( یھ حال تھا کھ ) ھم ایک چاند دیکھتے ، پھر دوسرا دیکھتے ، پھر تیسرا دیکھتے ، اسی طرح دو دو مھینے گزر جاتے اور رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے گھروں میں ( کھانا پکانے کے لیے ) آگ نھ جلتی تھی ۔ میں نے پوچھا خالھ اماں ! پھر آپ لوگ زندھ کس طرح رھتی تھیں ؟ آپ نے فرمایا کھ صرف دو کالی چیزوں کھجور اور پانی پر ۔ البتھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے چند انصاری پڑوسی تھے ۔ جن کے پاس دودھ دینے والی بکریاں تھیں اور وھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے یھاں بھی ان کا دودھ تحفھ کے طور پر پھنچا جایا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم اسے ھمیں بھی پلا دیا کرتے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 51 Hadith no 2567
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 47 Hadith no 741


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ أَوْ كُرَاعٍ لأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَىَّ ذِرَاعٌ أَوْ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ‏"‏‏.‏


Chapter: Giving a little gift

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "I shall accept the invitation even if I were invited to a meal of a sheep's trotter, and I shall accept the gift even if it were an arm or a trotter of a sheep." ھم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کھا ھم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا شعبھ سے ، وھ سلیمان سے ، وھ ابوحازم سے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اگر مجھے بازو اور پائے ( کے گوشت ) پر بھی دعوت دی جائے تو میں قبول کر لوں گا اور مجھے بازو یا پائے ( کے گوشت ) کا تحفھ بھیجا جائے تو اسے بھی قبول کر لوں گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 51 Hadith no 2568
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 47 Hadith no 742


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَكَانَ لَهَا غُلاَمٌ نَجَّارٌ قَالَ لَهَا ‏"‏ مُرِي عَبْدَكِ فَلْيَعْمَلْ لَنَا أَعْوَادَ الْمِنْبَرِ ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَتْ عَبْدَهَا، فَذَهَبَ فَقَطَعَ مِنَ الطَّرْفَاءِ، فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا، فَلَمَّا قَضَاهُ أَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَدْ قَضَاهُ، قَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسِلِي بِهِ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏ فَجَاءُوا بِهِ فَاحْتَمَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ‏.‏

Narrated Sahl: The Prophet (PBUH) sent for a woman from the emigrants and she had a slave who was a carpenter. The Prophet said to her "Order your slave to prepare the wood (pieces) for the pulpit." So, she ordered her slave who went and cut the wood from the tamarisk and prepared the pulpit, for the Prophet. When he finished the pulpit, the woman informed the Prophet (PBUH) that it had been finished. The Prophet (PBUH) asked her to send that pulpit to him, so they brought it. The Prophet (PBUH) lifted it and placed it at the place in which you see now." ھم سے سعید بن ابی مریم نے بیان ، کھا ھم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے ابوحازم سلمھ بن دینار نے بیان کیا سھل بن سعد ساعدی رضی اللھ عنھ سے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک مھاجرھ عورت کے پاس ( اپنا آدمی ) بھیجا ۔ ان کا ایک غلام بڑھئی تھا ۔ ان سے آپ نے فرمایا کھ اپنے غلام سے ھمارے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنانے کے لیے کھیں ۔ چنانچھ انھوں نے اپنے غلام سے کھا ۔ وھ غابھ سے جا کر جھاو کاٹ لایا اور اسی کا ایک منبر بنا دیا ۔ جب وھ منبر بنا چکے تو اس عورت نے رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں کھلا بھیجا کھ منبر بن کر تیار ھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے کھلوایا کھ اسے میرے پاس بھجوا دیں ۔ جب لوگ اسے لائے تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے خود اسے اٹھایا اور جھاں تم اب دیکھ رھے ھو ۔ وھیں آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اسے رکھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 51 Hadith no 2569
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 47 Hadith no 743


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ، وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا، وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي، فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ، وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ، وَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَهُمْ نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ‏.‏ فَقَالُوا لاَ وَاللَّهِ، لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ‏.‏ فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا، ثُمَّ رَكِبْتُ، فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ، فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ، وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا، حَتَّى نَفَّدَهَا وَهْوَ مُحْرِمٌ‏.‏ فَحَدَّثَنِي بِهِ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ‏عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‏

Narrated `Abdullah bin Abu Qatada Al-Aslami: That his father said, "One day I was sitting with some of the Prophet's companions on the way to Mecca. Allah's Messenger (PBUH) was ahead of us. All of my companions were in the state of Ihram while I was a non-Muhrim. They saw an onager while I was busy repairing my shoes, so they did not tell me about it but they wished I had seen it. By chance I looked up and saw it. So, I turned to the horse, saddled it and rode on it, forgetting to take the spear and the whip. I asked them if they could hand over to me the whip and the spear but they said, 'No, by Allah, we shall not help you in that in any way.' I became angry and got down from the horse, picked up both the things and rode the horse again. I attacked the onager and slaughtered it, and brought it (after it had been dead). They took it (cooked some of it) and started eating it, but they doubted whether it was allowed for them to eat it or not, as they were in the state of Ihram. So, we proceeded and I hid with me one of its fore-legs. When we met Allah's Messenger (PBUH) and asked him about the case, he asked, 'Do you have a portion of it with you?' I replied in the affirmative and gave him that fleshy foreleg which he ate completely while he was in the state of Ihram . ھم سے عبدالعزیز بن عبداللھ نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ابوحازم سے ، وھ عبداللھ بن ابی قتادھ سلمی سے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کھ مکھ کے راستے میں ایک جگھ میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے چند ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ھوا تھا ۔ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم ھم سے آگے قیام فرما تھے ۔ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) اور لوگ تو احرام باندھے ھوئے تھے لیکن میرا احرام نھیں تھا ۔ میرے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا ۔ میں اس وقت اپنی جوتی گانٹھنے میں مشغول تھا ۔ ان لوگوں نے مجھ کو کچھ خبر نھیں دی ۔ لیکن ان کی خواھش یھی تھی کھ کسی طرح میں گورخر کو دیکھ لوں ۔ چنانچھ میں نے جو نظر اٹھائی تو گورخر دکھائی دیا ۔ میں فوراً گھوڑے کے پاس گیا اور اس پر زین کس کر سوار ھو گیا ، مگر اتفاق سے ( جلدی میں ) کوڑا اور نیزھ دونوں بھول گیا ۔ اس لیے میں نے اپنے ساتھیوں سے کھا کھ وھ مجھے کوڑا اور نیزھ اٹھا دیں ۔ انھوں نے کھا ھرگز نھیں قسم اللھ کی ، ھم تمھارے ( شکار میں ) کسی قسم کی مدد نھیں کر سکتے ۔ ( کیونکھ ھم سب لوگ حالت احرام میں ھیں ) مجھے اس پر غصھ آیا اور میں نے خود ھی اتر کر دونوں چیزیں لے لیں ۔ پھر سوار ھو کر گورخر پر حملھ کیا اور اس کو شکار کر لایا ۔ وھ مر بھی چکا تھا ۔ اب لوگوں نے کھا کھ اسے کھانا چاھئے ۔ لیکن پھر احرام کی حالت میں اسے کھانے ( کے جواز ) پر شبھ ھوا ۔ ( لیکن بعض لوگوں نے شبھ نھیں کیا اور گوشت کھایا ) پھر ھم آگے بڑھے اور میں نے اس گورخر کا ایک بازو چھپا رکھا تھا ۔ جب ھم رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس پھنچے تو اس کے متعلق آپ سے سوال کیا ، ( آپ نے محرم کے لیے شکار کے گوشت کھانے کا فتویٰ دیا ) اور دریافت فرمایا کھ اس میں سے کچھ بچا ھوا گوشت تمھارے پاس موجود بھی ھے ؟ میں نے کھا کھ جی ھاں ! اور وھی بازو آپ کی خدمت میں پیش کیا ۔ آپ نے اسے تناول فرمایا ۔ یھاں تک کھ وھ ختم ھو گیا ۔ آپ بھی اس وقت احرام سے تھے ( ابوحازم نے کھا کھ ) مجھ سے یھی حدیث زید بن اسلم نے بیان کی ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادھ رضی اللھ عنھ نے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 51 Hadith no 2570
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 47 Hadith no 744


حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو طَوَالَةَ ـ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي دَارِنَا هَذِهِ، فَاسْتَسْقَى، فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً لَنَا، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا هَذِهِ، فَأَعْطَيْتُهُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ تُجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ عُمَرُ هَذَا أَبُو بَكْرٍ‏.‏ فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ الأَيْمَنُونَ، الأَيْمَنُونَ، أَلاَ فَيَمِّنُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَهْىَ سُنَّةٌ فَهْىَ سُنَّةٌ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ‏.‏

Narrated Anas: Once Allah's Messenger (PBUH) visited us in this house of ours and asked for something to drink. We milked one of our sheep and mixed it with water from this well of ours and gave it to him. Abu Bakr was sitting on his left side and `Umar in front of him and a bedouin on his right side. When Allah's Messenger (PBUH) finished, `Umar said to Allah's Messenger (PBUH) "Here is Abu Bakr." But Allah's Messenger (PBUH) gave the remaining milk to the bedouin and said twice, "The (persons on the) right side! So, start from the right side." Anas added, "It is a Sunna (the Prophet's traditions)" and repeated it thrice. ھم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کھا ھم سے سلیمان بن بلال نے ، کھا کھ مجھ سے ابوطوالھ نے جن کا نام عبداللھ بن عبدالرحمٰن تھا کھ میں نے انس رضی اللھ عنھ سے سنا ، وھ کھتے تھے کھ ( ایک مرتبھ ) رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم ھمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا ۔ ھمارے پاس ایک بکری تھی ، اسے ھم نے دوھا ۔ پھر میں نے اسی کنویں کا پانی ملا کر آپ کی خدمت میں ( لسی بنا کر ) پیش کیا ، حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی بائیں طرف بیٹھے ھوئے تھے اور حضرت عمر رضی اللھ عنھ سامنے تھے اور ایک دیھاتی آپ کے دائیں طرف تھا ۔ جب آپ صلی اللھ علیھ وسلم پی کر فارغ ھوئے تو ( پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا اس لیے ) حضرت عمر رضی اللھ عنھ نے عرض کیا کھ یھ حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ ھیں ۔ لیکن آپ نے اسے دیھاتی کو عطا فرمایا ۔ ( کیونکھ وھ دائیں طرف تھا ) پھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، دائیں طرف بیٹھنے والے ، دائیں طرف بیٹھنے والے ھی حق رکھتے ھیں ۔ پس خبردار دائیں طرف ھی سے شروع کیا کرو ۔ انس رضی اللھ عنھ نے کھا کھ یھی سنت ھے ، یھی سنت ھے ، تین مرتبھ ( آپ نے اس بات کو دھرایا ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 51 Hadith no 2571
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 47 Hadith no 745



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.