Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Invoking Allah for Rain (Istisqaa)

كتاب الاستسقاء

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ‏.‏


Chapter: Going out of the Prophet (pbuh) to offer Istisqa' prayer

Narrated `Abbad bin Tamim's uncle: The Prophet (p.b.u.h) went out to offer the Istisqa' prayer and turned (and put on) his cloak inside out. ھم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے سفیان ثوری نے عبداللھ بن ابی بکر سے بیان کیا ، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللھ بن زید نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم پانی کی دعا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی چادر الٹائی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 15 Hadith no 1005
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 17 Hadith no 119


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏‏.‏ وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ هَذَا كُلُّهُ فِي الصُّبْحِ‏.‏


Chapter: Invocation of the Prophet (pbuh)

Narrated Abu Huraira;: Whenever the Prophet (p.b.u.h) lifted his head from the bowing in the last rak`a he used to say: "O Allah! Save `Aiyash bin Abi Rabi`a. O Allah! Save Salama bin Hisham. O Allah! Save Walid bin Walid. O Allah! Save the weak faithful believers. O Allah! Be hard on the tribes of Mudar and send (famine) years on them like the famine years of (Prophet) Joseph ." The Prophet (PBUH) further said, "Allah forgive the tribes of Ghifar and save the tribes of Aslam." Abu Az-Zinad (a sub-narrator) said, "The Qunut used to be recited by the Prophet (PBUH) in the Fajr prayer." ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا انھوں نے کھا کھ ھم سے مغیرھ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا ، ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم جب سرمبارک آخری رکعت ( کے رکوع ) سے اٹھاتے تو یوں فرماتے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج سلمة بن هشام ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج الوليد بن الوليد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم اشدد وطأتك على مضر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» کھ یا اللھ ! عیاش بن ابی ربیعھ کو نجات دے ۔ یا اللھ ! سلمھ بن ھشام کو نجات دے ۔ یا اللھ ! ولید بن ولید کو نجات دے ۔ یا اللھ ! بے بس ناتواں مسلمانوں کو نجات دے ۔ یا اللھ ! مضر کے کافروں کو سخت پکڑ ۔ یا اللھ ! ان کے سال یوسف علیھ السلام کے سے سال کر دے ۔ اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا غفار کی قوم کو اللھ نے بخش دیا اور اسلم کی قوم کو اللھ نے سلامت رکھا ۔ ابن ابی الزناد نے اپنے باپ سے صبح کی نماز میں یھی دعا نقل کی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 15 Hadith no 1006
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 17 Hadith no 120


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ ‏"‏‏.‏ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَالْجِيَفَ، وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الْجُوعِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏عَائِدُونَ * يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى‏}‏ فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتِ الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ‏.‏

Narrated Masruq: We were with `Abdullah and he said, "When the Prophet (PBUH) saw the refusal of the people to accept Islam he said, "O Allah! Send (famine) years on them for (seven years) like the seven years (of famine during the time) of (Prophet) Joseph." So famine overtook them for one year and destroyed every kind of life to such an extent that the people started eating hides, carcasses and rotten dead animals. Whenever one of them looked towards the sky, he would (imagine himself to) see smoke because of hunger. So Abu Sufyan went to the Prophet (PBUH) and said, "O Muhammad! You order people to obey Allah and to keep good relations with kith and kin. No doubt the people of your tribe are dying, so please pray to Allah for them." So Allah revealed: "Then watch you For the day that The sky will bring forth a kind Of smoke Plainly visible ... Verily! You will return (to disbelief) On the day when We shall seize You with a mighty grasp. (44.10-16) Ibn Mas`ud added, "Al-Batsha (i.e. grasp) happened in the battle of Badr and no doubt smoke, Al-Batsha, Al-Lizam, and the verse of Surat Ar-Rum have all passed . ھم سے امام حمیدی نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے سلیمان اعمش نے ، ان سے ابوالضحی نے ، ان سے مسروق نے ، ان سے عبداللھ بن مسعودنے ( دوسری سند ) ھم سے عثمان بن ابی شیبھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور بن مسعود بن معتمر سے بیان کیا ، اور ان سے ابوالضحی نے ، ان سے مسروق نے ، انھوں نے بیان کیا کھ ھم عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما کی خدمت میں بیٹھے ھوئے تھے ۔ آپ نے فرمایا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے جب کفار قریش کی سرکشی دیکھی تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے بددعا کی «اللهم سبع كسبع يوسف» کھ اے اللھ ! سات برس کا قحط ان پر بھیج جیسے یوسف علیھ السلام کے وقت میں بھیجا تھا چنانچھ ایسا قحط پڑا کھ ھر چیز تباھ ھو گئی اور لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھا لیے ۔ بھوک کی شدت کا یھ عالم تھا کھ آسمان کی طرف نظر اٹھائی جاتی تو دھویں کی طرح معلوم ھوتا تھا آخر مجبور ھو کر ابوسفیان حاضر خدمت ھوئے اور عرض کیا کھ اے محمد ( صلی اللھ علیھ وسلم ) ! آپ لوگوں کو اللھ کی اطاعت اور صلھ رحمی کا حکم دیتے ھیں ۔ اب تو آپ ھی کی قوم برباد ھو رھی ھے ، اس لیے آپ اللھ سے ان کے حق میں دعا کیجئے ۔ اللھ تعالیٰ نے فرمایا کھ اس دن کا انتظار کر جب آسمان صاف دھواں نظر آئے گا آیت «انکم عائدون» تک ( نیز ) جب ھم سختی سے ان کی گرفت کریں گے ( کفار کی ) سخت گرفت بدر کی لڑائی میں ھوئی ۔ دھویں کا بھی معاملھ گزر چکا ( جب سخت قحط پڑا تھا ) جس میں پکڑ اور قید کا ذکر ھے وھ سب ھو چکے اسی طرح سورۃ الروم کی آیت میں جو ذکر ھے وھ بھی ھو چکا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 15 Hadith no 1007
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 17 Hadith no 121


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ، إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ‏.‏ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالَ الْيَتَامَى عِصْمَةً لِلأَرَامِلِ وَهْوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Dinar: My father said, "I heard Ibn `Umar reciting the poetic verses of Abu Talib: And a white (person) (i.e. the Prophet) who is requested to pray for rain and who takes care of the orphans and is the guardian of widows." Salim's father (Ibn `Umar) said, "The following poetic verse occurred to my mind while I was looking at the face of the Prophet (p.b.u.h) while he was praying for rain. He did not get down till the rain water flowed profusely from every roof-gutter: And a white (person) who is requested to pray for rain and who takes care of the orphans and is the guardian of widows . . . And these were the words of Abu Talib." ھم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے ابو قتیبھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے عبدالرحمٰن بن عبداللھ بن دینار نے ، ان سے ان کے والد نے ، کھا کھ میں نے ابن عمر رضی اللھ عنھما کو ابوطالب کا یھ شعر پڑھتے سنا تھا ( ترجمھ ) گورا ان کا رنگ ان کے منھ کے واسطھ سے بارش کی ( اللھ سے ) دعا کی جاتی ھے ۔ یتیموں کی پناھ اور بیواؤں کے سھارے ۔ “ اور عمر بن حمزھ نے بیان کیا کھ ھم سے سالم نے اپنے والد سے بیان کیا وھ کھا کرتے تھے کھ اکثر مجھے شاعر ( ابوطالب ) کا شعر یاد آ جاتا ھے ۔ میں نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے منھ کو دیکھ رھا تھا کھ آپ دعا استسقاء ( منبر پر ) کر رھے تھے اور ابھی ( دعا سے فارغ ھو کر ) اترے بھی نھیں تھے کھ تمام نالے لبریز ھو گئے ۔ «وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للأرامل» ( ترجمھ ) گورا رنگ ان کا ، وھ حامی یتیموں ، بیواؤں کے لوگ ان کے منھ کے صدقے سے پانی مانگتے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 15 Hadith no 1008, 1009
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 17 Hadith no 122


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‏.‏ قَالَ فَيُسْقَوْنَ‏.‏

Narrated Anas: Whenever drought threatened them, `Umar bin Al-Khattab, used to ask Al-Abbas bin `Abdul Muttalib to invoke Allah for rain. He used to say, "O Allah! We used to ask our Prophet to invoke You for rain, and You would bless us with rain, and now we ask his uncle to invoke You for rain. O Allah ! Bless us with rain."(1) And so it would rain. ھم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے محمد بن عبداللھ بن مثنی انصاری نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے میرے باپ عبداللھ بن مثنی نے بیان کیا ، ان سے ثمامھ بن عبداللھ بن انس رضی اللھ عنھ نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے کھ جب کبھی حضرت عمر رضی اللھ عنھ کے زمانھ میں قحط پڑتا تو عمر رضی اللھ عنھ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللھ عنھ کے وسیلھ سے دعا کرتے اور فرماتے کھ اے اللھ ! پھلے ھم تیرے پاس اپنے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کا وسیلھ لایا کرتے تھے ۔ تو ، تو پانی برساتا تھا ۔ اب ھم اپنے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے چچا کو وسیلھ بناتے ھیں تو ، تو ھم پر پانی برسا ۔ انس رضی اللھ عنھ نے کھا کھ چنانچھ بارش خوب ھی برسی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 15 Hadith no 1010
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 17 Hadith no 123


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى فَقَلَبَ رِدَاءَهُ‏.‏


Chapter: Turning cloak inside out while offering the Istisqa' prayer

Narrated `Abdullah bin Zaid: The Prophet (PBUH) turned his cloak inside out on Istisqa. ھم سے اسحاق بن ابراھیم نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے وھب بن جریر نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھمیں شعبھ نے خبر دی ، انھیں محمد بن ابی بکر نے ، انھیں عباد بن تمیم نے ، انھیں عبداللھ بن زید رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے دعا استسقاء کی تو اپنی چادر کو بھی الٹا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 15 Hadith no 1011
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 17 Hadith no 124



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.