Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Judgments (Ahkaam)

كتاب الأحكام

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ‏.‏ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعًا قَالَ ‏"‏ أَبِكَ جُنُونٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Messenger (PBUH) while he was in the mosque, and called him, saying, "O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet (PBUH) turned his face to the other side, but when the man gave four witnesses against himself, the Prophet (PBUH) said to him, "Are you mad?" The man said, "No." So the Prophet (PBUH) said (to his companions), "Take him away and stone him to death. " ھم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شھاب نے ، ان سے ابوسلمھ نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ایک شخص رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس آیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم مسجد میں تھے اور انھوں نے آپ کو آواز دی اور کھا یا رسول اللھ ! میں نے زنا کر لیا ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے منھ موڑ لیا لیکن جب اس نے اپنے ھی خلاف چار مرتبھ گواھی دی تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تم پاگل ھو ؟ اس نے کھا کھ نھیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کھ انھیں لے جاؤ اور رجم کر دو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7167
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 280


قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ بِالْمُصَلَّى‏.‏ رَوَاهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجْمِ‏.‏

(continued from above)Narrated Jabir bin Abdullah: I was one of those who stoned him at the Musalla in Al-Madina (See Hadith 5272). ابن شھاب نے بیان کیا کھ پھر مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللھ رضی اللھ عنھما سے سنا تھا ، انھوں نے بیان کیا کھ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنھوں نے اس شخص کو عیدگاھ پر رجم کیا تھا ۔ اس کی روایت یونس ، معمر اور ابن جریج نے زھری سے کی ، ان سے ابوسلمھ نے ، ان سے جابر رضی اللھ عنھ نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے رجم کے سلسلے میں یھی حدیث ذکر کی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7168
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 89 Hadith no 280


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِي نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلاَ يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏


Chapter: The advice of the Imam to the litigants

Narrated Um Salama: Allah's Messenger (PBUH) said, "I am only a human being, and you people (opponents) come to me with your cases; and it may be that one of you can present his case eloquently in a more convincing way than the other, and I give my verdict according to what I hear. So if ever I judge (by error) and give the right of a brother to his other (brother) then he (the latter) should not take it, for I am giving him only a piece of Fire." (See Hadith No. 638, Vol. 3). ھم سے عبداللھ بن مسلمھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے امام مالک نے ، ان سے ھشام نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے زینب بنت ابی سلمھ نے اور ان سے ام سلمھ رضی اللھ عنھا نے کھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، بلاشبھ میں ایک انسان ھوں ، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ھو ۔ ممکن ھے تم میں سے بعض اپنے مقدمھ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلھ میں زیادھ چرب زبان ھو اور میں تمھاری بات سن کر فیصلھ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی ( فریق مخالف ) کا کوئی حق دلادوں ۔ چاھئے کھ وھ اسے نھ لے کیونکھ یھ آگ کا ایک ٹکڑا ھے جو میں اسے دیتا ھوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7169
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 281


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏"‏ مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏‏.‏ فَقُمْتُ لأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلاَحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي‏.‏ قَالَ فَأَرْضِهِ مِنْهُ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلاَّ لاَ يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَدَّاهُ إِلَىَّ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ‏.‏ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ عَنِ اللَّيْثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَدَّاهُ إِلَىَّ‏.‏ وَقَالَ أَهْلُ الْحِجَازِ الْحَاكِمُ لاَ يَقْضِي بِعِلْمِهِ، شَهِدَ بِذَلِكَ فِي وِلاَيَتِهِ أَوْ قَبْلَهَا‏.‏ وَلَوْ أَقَرَّ خَصْمٌ عِنْدَهُ لآخَرَ بِحَقٍّ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، فَإِنَّهُ لاَ يَقْضِي عَلَيْهِ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ، حَتَّى يَدْعُوَ بِشَاهِدَيْنِ فَيُحْضِرَهُمَا إِقْرَارَهُ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا سَمِعَ أَوْ رَآهُ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ قَضَى بِهِ، وَمَا كَانَ فِي غَيْرِهِ لَمْ يَقْضِ إِلاَّ بِشَاهِدَيْنِ‏.‏ وَقَالَ آخَرُونَ مِنْهُمْ بَلْ يَقْضِي بِهِ، لأَنَّهُ مُؤْتَمَنٌ، وَإِنَّمَا يُرَادُ مِنَ الشَّهَادَةِ مَعْرِفَةُ الْحَقِّ، فَعِلْمُهُ أَكْثَرُ مِنَ الشَّهَادَةِ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَقْضِي بِعِلْمِهِ فِي الأَمْوَالِ، وَلاَ يَقْضِي فِي غَيْرِهَا‏.‏ وَقَالَ الْقَاسِمُ لاَ يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يُمْضِيَ قَضَاءً بِعِلْمِهِ دُونَ عِلْمِ غَيْرِهِ، مَعَ أَنَّ عِلْمَهُ أَكْثَرُ مِنْ شَهَادَةِ غَيْرِهِ، وَلَكِنَّ فِيهِ تَعَرُّضًا لِتُهَمَةِ نَفْسِهِ عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِيقَاعًا لَهُمْ فِي الظُّنُونِ، وَقَدْ كَرِهَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظَّنَّ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ صَفِيَّةُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Qatada: Allah's Messenger (PBUH) said on the Day of (the battle of) Hunain, "Whoever has killed an infidel and has a proof or a witness for it, then the salb (arms and belongings of that deceased) will be for him." I stood up to seek a witness to testify that I had killed an infidel but I could not find any witness and then sat down. Then I thought that I should mention the case to Allah's Messenger (PBUH) I (and when I did so) a man from those who were sitting with him said, "The arms of the killed person he has mentioned, are with me, so please satisfy him on my behalf." Abu Bakr said, "No, he will not give the arms to a bird of Quraish and deprive one of Allah's lions of it who fights for the cause of Allah and His Apostle." Allah's Messenger (PBUH) I stood up and gave it to me, and I bought a garden with its price, and that was my first property which I owned through the war booty. The people of Hijaz said, "A judge should not pass a judgment according to his knowledge, whether he was a witness at the time he was the judge or before that" And if a litigant gives a confession in favor of his opponent in the court, in the opinion of some scholars, the judge should not pass a judgment against him till the latter calls two witnesses to witness his confession. And some people of Iraq said, "A judge can pass a judgement according to what he hears or witnesses (the litigant's confession) in the court itself, but if the confession takes place outside the court, he should not pass the judgment unless two witnesses witness the confession." Some of them said, "A judge can pass a judgement depending on his knowledge of the case as he is trust-worthy, and that a witness is Required just to reveal the truth. The judge's knowledge is more than the witness." Some said, "A judge can judge according to his knowledge only in cases involving property, but in other cases he cannot." Al-Qasim said, "A judge ought not to pass a judgment depending on his knowledge if other people do not know what he knows, although his knowledge is more than the witness of somebody else because he might expose himself to suspicion by the Muslims and cause the Muslims to have unreasonable doubt. " ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے عمر بن کثیر نے ، ان سے ابوقتادھ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادھ رضی اللھ عنھ نے کھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ، جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ھو گواھی ھو تو اس کا سامان اسے ملے گا ۔ چنانچھ میں مقتول کے لیے گواھ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ھوا تو میں نے کسی کو نھیں دیکھا جو میرے لیے گواھی دے سکے ، اس لیے میں بیٹھ گیا ۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آئی اور میں نے اس کا ذکر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم سے کیا تو وھاں بیٹھے ھوئے ایک صاحب نے کھا کھ اس مقتول کا سامان جس کا ابوقتادھ ذکر کر رھے ھیں ، میرے پاس ھے ۔ انھیں اس کے لیے راضی کر دیجئیے ( کھ وھ یھ ھتھیار وغیرھ مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر رضی اللھ عنھ نے کھا کھ ھرگز نھیں ۔ اللھ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظرانداز کر کے جو اللھ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ھے وھ قریش کے معمولی آدمی کو ھتھیار نھیں دیں گے ۔ بیان کیا کھ پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے حکم دیا اور انھوں نے ھتھیار مجھے دے دئیے اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا ۔ یھ پھلا مال تھا جو میں نے ( اسلام کے بعد ) حاصل کیا تھا ۔ حضرت امام بخاری رحمھ اللھ نے کھا اور مجھ سے عبداللھ بن صالح نے بیان کیا ، ان سے لیث بن سعد نے کھ ” پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کھڑے ھوئے اور مجھے وھ سامان دلادیا ، اور اھل حجاز امام مالک وغیرھ نے کھا کھ حاکم کو صرف اپنے علم کی بنیاد پر فیصلھ کرنا درست نھیں ۔ خواھ وھ معاملھ پر عھدھ قضاء حاصل ھونے کے بعد گواھ ھوا ھو یا اس سے پھلے اور اگر کسی فریق نے اس کے سامنے دوسرے کے لیے مجلس قضاء میں کسی حق کا اقرار کیا تو بعض لوگوں کا خیال ھے کھ اس بنیاد پر وھ فیصلھ نھیں کرے گا بلکھ دو گواھوں کو بلا کر ان کے سامنے اقرار کرائے گا ۔ اور بعض اھل عراق نے کھا ھے کھ جو کچھ قاضی نے عدالت میں دیکھا یا سنا اس کے مطابق فیصلھ کرے گا لیکن جو کچھ عدالت کے باھر ھو گا اس کی بنیاد پر دو گواھوں کے بغیر فیصلھ نھیں کر سکتا اور انھیں میں سے دوسرے لوگوں نے کھا کھ اس کی بنیاد پر بھی فیصلھ کر سکتا ھے کیں کھ وھ امانت دار ھے ۔ شھادت کا مقصد تو صرف حق کا جاننا ھے پس قاضی کا ذاتی علم گواھی سے بڑھ کر ھے ۔ اور بعض ان میں سے کھتے ھیں کھ اموال کے بارے میں تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلھ کرے گا اور اس کے سوا میں نھیں کرے گا اور قاسم نے کھا کھ حاکم کے لیے درست نھیں کھ وھ کوئی فیصلھ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کرے اور دوسرے کے علم کو نظرانداز کر دے گو قاضی کا علم دوسرے کی گواھی سے بڑھ کر ھے لیکن چونکھ عام مسلمانوں کی نظر میں اس صورت میں قاضی کے مھتمم ھونے کا خطرھ ھے اور مسلمانوں کو اس طرح بدگمانی میں مبتلا کرنا ھے اور نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند کیا تھا اور فرمایا تھا کھ یھ صفیھ میری بیوی ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7170
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 282


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ فَلَمَّا رَجَعَتِ انْطَلَقَ مَعَهَا، فَمَرَّ بِهِ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَاهُمَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ ‏"‏‏.‏ قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ شُعَيْبٌ وَابْنُ مُسَافِرٍ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ ـ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ـ عَنْ صَفِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated `Ali bin Husain: Safiya bint (daughter of) Huyai came to the Prophet (in the mosque), and when she returned (home), the Prophet (PBUH) accompanied her. It happened that two men from the Ansar passed by them and the Prophet called them saying, "She is Safiya!" those two men said, "Subhan Allah!" The Prophet (PBUH) said, "Satan circulates in the human body as blood does." ھم سے عبدالعزیز بن عبداللھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابراھیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شھاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین رحمھ اللھ نے کھ صفیھ بنت حیی رضی اللھ عنھا ( رات کے وقت ) نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس آئیں ( اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم مسجد میں معتکف تھے ) جب وھ واپس آنے لگیں تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے ۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں بلایا اور فرمایا کھ یھ صفیھ ھیں ۔ ان دونوں انصاریوں نے کھا ، سبحان اللھ ( کیا ھم آپ پر شبھ کریں گے ) آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ھے جیسے خون دوڑتا ھے ۔ اس کی روایت شعیب ابن مسافر ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زھری سے کی ھے ، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیھ رضی اللھ عنھا نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے یھی واقعھ نقل کیا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7171
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 283


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبِي وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى إِنَّهُ يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا الْبِتْعُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏


Chapter: The order of the Wali sending two Amir to one place

Narrated Abu Burda: The Prophet (PBUH) sent my father and Mu`adh bin Jabal to Yemen and said (to them), "Make things easy for the people and do not put hurdles in their way, and give them glad tiding, and don't let them have aversion (i.e. to make people to hate good deeds) and you both should work in cooperation and mutual understanding" Abu Musa said to Allah's Messenger (PBUH), "In our country a special alcoholic drink called Al- Bit', is prepared (for drinking)." The Prophet (PBUH) said, "Every intoxicant is prohibited. " ھم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا ، ان سے شعبھ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی بردھ نے بیان کیا کھ میں نے اپنے والد سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللھ عنھ ) اور معاذ بن جبل رضی اللھ عنھ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کھ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نھ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نھ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا ۔ ابوموسیٰ رضی اللھ عنھ نے پوچھا کھ ھمارے ملک میں شھد کا نبیذ ( تبع ) بنایا جاتا ھے ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ھر نشھ آور چیز حرام ھے ۔ نضر بن شمیل ، ابوداؤد طیالسی ، یزید بن ھارو اور وکیع نے شعبھ سے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے یھی حدیث نقل کی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7172
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 284



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.