Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Kafalah

كتاب الكفالة

وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كَفِيلاً حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ، فَصَدَّقَهُمْ، وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ‏.‏ وَقَالَ جَرِيرٌ وَالأَشْعَثُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُرْتَدِّينَ اسْتَتِبْهُمْ، وَكَفِّلْهُمْ‏.‏ فَتَابُوا وَكَفَلَهُمْ عَشَائِرُهُمْ‏.‏ وَقَالَ حَمَّادٌ إِذَا تَكَفَّلَ بِنَفْسٍ فَمَاتَ فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ الْحَكَمُ يَضْمَنُ‏.‏


Chapter: Al-Kafala

Narrated Muhammad bin 'Amr Al-Aslami that his father Hamza said: 'Umar (ra) sent him (i.e. Hamza) as a Sadaqa / Zakat collector. A man had committed illegal sexual intercourse with the slave girl of his wife. Hamza took (personal) sureties for the adulterer till they came to 'Umar. 'Umar had lashed the adulterer one hundred lashes. 'Umar confirmed their claim (that the adulterer had already been punished) and excused him because of being Ignorant. Jarir Al-Ash'ath said to Ibn Mas'ud regarding renegades (i.e., those who became infidels after embracing Islam), "Let them repent and take (personal) sureties for them." They repented and their relatives stood sureties for them. According to Hammad, if somebody stands surety for another person and that person dies, the person giving surety will be released from responsibility. According to Al-Hakam, his responsibilities continues. اور ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن حمزھ بن عمرو الاسلمی نے اور ان سے ان کے والد ( حمزھ ) نے کھ حضرت عمر رضی اللھ عنھ نے ( اپنے عھد خلافت میں ) انھیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ۔ ( جھاں وھ زکوٰۃ وصول کر رھے تھے وھاں کے ) ایک شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے ھمبستری کر لی ۔ حمزھ نے اس کی ایک شخص سے پھلے ضمانت لی ، یھاں تک کھ وھ عمر رضی اللھ عنھ کی خدمت میں حاضر ھوئے ۔ عمر رضی اللھ عنھ نے اس شخص کو سو کوڑوں کی سزا دی تھی ۔ اس آدمی نے جو جرم اس پر لگا تھا اس کو قبول کیا تھا لیکن جھالت کا عذر کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللھ عنھ نے اس کو معذور رکھا تھا اور جریر اور اشعث نے عبداللھ بن مسعود سے مرتدوں کے بارے میں کھا کھ ان سے توبھ کرائیے اور ان کی ضمانت طلب کیجئے ( کھ دوبارھ مرتد نھ ھوں گے ) چنانچھ انھوں نے توبھ کر لی اور ضمانت خود انھیں کے قبیلھ والوں نے دے دی ۔ حماد نے کھا جس کا حاضر ضامن ھو اگر وھ مر جائے تو ضامن پر کچھ تاوان نھ ھو گا ۔ لیکن حکم نے کھا کھ ذمھ کا مال دینا پڑے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 39 Hadith no 2290
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 37 Hadith no 488


قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَ ائْتِنِي بِالشُّهَدَاءِ أُشْهِدُهُمْ‏.‏ فَقَالَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا‏.‏ قَالَ فَأْتِنِي بِالْكَفِيلِ‏.‏ قَالَ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلاً‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ‏.‏ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَرْكَبُهَا، يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلأَجَلِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً، فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ، ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا إِلَى الْبَحْرِ، فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ تَسَلَّفْتُ فُلاَنًا أَلْفَ دِينَارٍ، فَسَأَلَنِي كَفِيلاً، فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلاً، فَرَضِيَ بِكَ، وَسَأَلَنِي شَهِيدًا، فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَأَنِّي جَهَدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا، أَبْعَثُ إِلَيْهِ الَّذِي لَهُ فَلَمْ أَقْدِرْ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا‏.‏ فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَهْوَ فِي ذَلِكَ يَلْتَمِسُ مَرْكَبًا، يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ، يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ، فَأَخَذَهَا لأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ، فَأَتَى بِالأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ‏.‏ قَالَ هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلَىَّ بِشَىْءٍ قَالَ أُخْبِرُكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي جِئْتُ فِيهِ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ فِي الْخَشَبَةِ فَانْصَرِفْ بِالأَلْفِ الدِّينَارِ رَاشِدًا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "An Israeli man asked another Israeli to lend him one thousand Dinars. The second man required witnesses. The former replied, 'Allah is sufficient as a witness.' The second said, 'I want a surety.' The former replied, 'Allah is sufficient as a surety.' The second said, 'You are right,' and lent him the money for a certain period. The debtor went across the sea. When he finished his job, he searched for a conveyance so that he might reach in time for the repayment of the debt, but he could not find any. So, he took a piece of wood and made a hole in it, inserted in it one thousand Dinars and a letter to the lender and then closed (i.e. sealed) the hole tightly. He took the piece of wood to the sea and said. 'O Allah! You know well that I took a loan of one thousand Dinars from so-and-so. He demanded a surety from me but I told him that Allah's Guarantee was sufficient and he accepted Your guarantee. He then asked for a witness and I told him that Allah was sufficient as a Witness, and he accepted You as a Witness. No doubt, I tried hard to find a conveyance so that I could pay his money but could not find, so I hand over this money to You.' Saying that, he threw the piece of wood into the sea till it went out far into it, and then he went away. Meanwhile he started searching for a conveyance in order to reach the creditor's country. One day the lender came out of his house to see whether a ship had arrived bringing his money, and all of a sudden he saw the piece of wood in which his money had been deposited. He took it home to use for fire. When he sawed it, he found his money and the letter inside it. Shortly after that, the debtor came bringing one thousand Dinars to him and said, 'By Allah, I had been trying hard to get a boat so that I could bring you your money, but failed to get one before the one I have come by.' The lender asked, 'Have you sent something to me?' The debtor replied, 'I have told you I could not get a boat other than the one I have come by.' The lender said, 'Allah has delivered on your behalf the money you sent in the piece of wood. So, you may keep your one thousand Dinars and depart guided on the right path.' " ابوعبداللھ ( امام بخاری رحمھ اللھ ) نے کھا کھ لیث نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعھ نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ھرمز نے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کھ انھوں نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے آدمی سے ایک ھزار دینار قرض مانگے ۔ انھوں نے کھا کھ پھلے ایسے گواھ لا جن کی گواھی پر مجھے اعتبار ھو ۔ قرض مانگنے والا بولا کھ گواھ تو بس اللھ ھی کافی ھے پھر انھوں نے کھا کھ اچھا کوئی ضامن لا ۔ قرض مانگنے والا بولا کھ ضامن بھی اللھ ھی کافی ھے ۔ انھوں نے کھا کھ تو نے سچی بات کھی ۔ چنانچھ اس نے ایک مقررھ مدت کے لیے اس کو قرض دے دیا ۔ یھ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانھ ھوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کر کے کسی سواری ( کشتی وغیرھ ) کی تلاش کی تاکھ اس سے دریا پار کر کے اس مقررھ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پھنچ سکے جو اس سے طے پائی تھی ۔ ( اور اس کا قرض ادا کر دے ) لیکن کوئی سواری نھیں ملی ۔ آخر ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا ۔ پھر ایک ھزار دینار اور ایک ( اس مضمون کا ) خط کھ اس کی طرف سے قرض دینے والے کی طرف ( یھ دینار بھیجے جا رھے ھیں ) اور اس کا منھ بند کر دیا ۔ اور اسے دریا پر لے آئے ، پھر کھا ، اے اللھ ! تو خوب جانتا ھے کھ میں نے فلاں شخص سے ایک ھزار دینار قرض لیے تھے ۔ اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کھھ دیا تھا کھ میرا ضامن اللھ تعالیٰ کافی ھے اور وھ بھی تجھ پر راضی ھوا ۔ اس نے مجھ سے گواھ مانگا تو اس کا بھی جواب میں نے یھی دیا کھ اللھ پاک گواھ کافی ھے تو وھ مجھ پر راضی ھو گیا اور ( تو جانتا ھے کھ ) میں نے بھت کوشش کی کھ کوئی سواری ملے جس کے ذریعھ میں اس کا قرض اس تک ( مدت مقررھ میں ) پھنچا سکوں ۔ لیکن مجھے اس میں کامیابی نھیں ھوئی ۔ اس لیے اب میں اس کو تیرے ھی حوالے کرتا ھوں ( کھ تو اس تک پھنچا دے ) چنانچھ اس نے وھ لکڑی جس میں رقم تھی دریا میں بھا دی ۔ اب وھ دریا میں تھی اور وھ صاحب ( قرض دار ) واپس ھو چکے تھے ۔ اگرچھ فکر اب بھی یھی تھا کھ کس طرح کوئی جھاز ملے ۔ جس کے ذریعھ وھ اپنے شھر میں جا سکیں ۔ دوسری طرف وھ صاحب جنھوں نے قرض دیا تھا اسی تلاش میں ( بندرگاھ ) آئے کھ ممکن ھے کوئی جھاز ان کا مال لے کر آیا ھو ۔ لیکن وھاں انھیں ایک لکڑی ملی ۔ وھی جس میں مال تھا ۔ انھوں نے لکڑی اپنے گھر میں ایندھن کے لیے لے لی ۔ لیکن جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی نکلا ۔ ( کچھ دنوں کے بعد جب وھ صاحب اپنے شھر آئے ) تو قرض خواھ کے گھر آئے ۔ اور ( یھ خیال کر کے کھ شاید وھ لکڑی نھ مل سکی ھو دوبارھ ) ایک ھزار دینا ان کی خدمت میں پیش کر دیئے ۔ اور کھا کھ قسم اللھ کی ! میں تو برابر اسی کوشش میں رھا کھ کوئی جھاز ملے تو تمھارے پاس تمھارا مال لے کر پھنچوں لیکن اس دن سے پھلے جب کھ میں یھاں پھنچنے کے لیے سوار ھوا ۔ مجھے اپنی کوششوں میں کامیابی نھیں ھوئی ۔ پھر انھوں نے پوچھا اچھا یھ تو بتاؤ کھ کوئی چیز کبھی تم نے میرے نام بھیجی تھی ؟ مقروض نے جواب دیا بتا تو رھا ھوں آپ کو کھ کوئی جھاز مجھے اس جھاز سے پھلے نھیں ملا جس سے میں آج پھنچا ھوں ۔ اس پر قرض خواھ نے کھا کھ پھر اللھ نے بھی آپ کا وھ قرضا ادا کر دیا ۔ جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا ۔ چنانچھ وھ صاحب اپنا ھزار دینار لے کر خوش خوش واپس لوٹ گئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 39 Hadith no 2291
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 37 Hadith no 488


حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما – ‏{‏وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ‏}‏ قَالَ وَرَثَةً ‏{‏وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ‏}‏ قَالَ كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرُ الأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ‏}‏ نَسَخَتْ، ثُمَّ قَالَ ‏{‏وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ ‏}‏ إِلاَّ النَّصْرَ وَالرِّفَادَةَ وَالنَّصِيحَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ وَيُوصِي لَهُ‏.‏


Chapter: The Statement of Allah jala jalaaluhu:"... To those also with whom you have made a pledge, give them their due portion by Wasiya..."

Narrated Sa`id bin Jubair: Ibn `Abbas said, "In the verse: To every one We have appointed ' (Muwaliya Muwaliya means one's) heirs (4.33).' (And regarding the verse) 'And those with whom your right hands have made a pledge.' Ibn `Abbas said, "When the emigrants came to the Prophet (PBUH) in Medina, the emigrant would inherit the Ansari while the latter's relatives would not inherit him because of the bond of brotherhood which the Prophet established between them (i.e. the emigrants and the Ansar). When the verse: 'And to everyone We have appointed heirs' (4.33) was revealed, it canceled (the bond (the pledge) of brotherhood regarding inheritance)." Then he said, "The verse: To those also to whom your right hands have pledged, remained valid regarding cooperation and mutual advice, while the matter of inheritance was excluded and it became permissible to assign something in one's testament to the person who had the right of inheriting before. ھم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے ابواسامھ نے بیان کیا ، ان سے ادریس نے ، ان سے طلحھ بن مصرف نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللھ عنھما کھ ( قرآن مجید کی آیت «ولكل جعلنا موالي‏» ) کے متعلق ابن عباس رضی اللھ عنھما نے فرمایا کھ ( «موالي‏» کے معنی ) ورثھ کے ھیں ۔ اور «والذين عقدت أيمانكم‏» ( کا قصھ یھ ھے کھ ) مھاجرین جب مدینھ آئے تو مھاجر انصار کا ترکھ پاتے تھے اور انصاری کے ناتھ داروں کو کچھ نھ ملتا ۔ اس بھائی پنے کی وجھ سے جو نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی قائم کی ھوئی تھی ۔ پھر جب آیت «ولكل جعلنا موالي‏» ھوئی تو پھلی آیت «والذين عقدت أيمانكم‏» منسوخ ھو گئی ۔ سوا امداد ، تعاون اور خیر خواھی کے ۔ البتھ میراث کا حکم ( جو انصار و مھاجرین کے درمیان مواخاۃ کی وجھ سے تھا ) وھ منسوخ ھو گیا اور وصیت جتنی چاھے کی جا سکتی ھے ۔ ( جیسی اور شخصوں کے لیے بھی ھو سکتی ھے تھائی ترکھ میں سے وصیت کی جا سکتی ھے جس کا نفاذ کیا جائے گا ۔ )

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 39 Hadith no 2292
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 37 Hadith no 489


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ‏.‏

Narrated Anas: `Abdur-Rahman bin `Auf came to us and Allah's Messenger (PBUH) established a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Rabi`a. ھم سے قتیبھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللھ عنھ نے کھ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللھ عنھ ھمارے یھاں آئے تھے تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کا بھائی چارھ سعد بن ربیع رضی اللھ عنھ سے کرایا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 39 Hadith no 2293
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 37 Hadith no 490


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ رضى الله عنه أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِي‏.‏

Narrated `Asim: I heard Anas bin Malik, "Have you ever heard that the Prophet (PBUH) said, 'There is no alliance in Islam?' " He replied, "The Prophet (PBUH) made alliance between Quraish and the Ansar in my house." ھم سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، کھا ھم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا ، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا ، کھا کھ میں نے انس رضی اللھ عنھ سے پوچھا کیا آپ کو یھ بات معلوم ھے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، اسلام میں جاھلیت والے ( غلط قسم کے ) عھد و پیمان نھیں ھیں ۔ تو انھوں نے کھا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے تو خود انصار اور قریش کے درمیان میرے گھر میں عھد و پیمان کرایا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 39 Hadith no 2294
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 37 Hadith no 491


حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِجَنَازَةٍ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ‏.‏ فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عَلَيْهِ مَنْ دَيْنٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَىَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَصَلَّى عَلَيْهِ‏.‏

Narrated Salama bin Al-Akwa`: A dead person was brought to the Prophet (PBUH) so that he might lead the funeral prayer for him. He asked, "Is he in debt?" When the people replied in the negative, he led the funeral prayer. Another dead person was brought and he asked, "Is he in debt?" They said, "Yes." He (refused to lead the prayer and) said, "Lead the prayer of your friend." Abu Qatada said, "O Allah's Messenger (PBUH)! I undertake to pay his debt." Allah's Messenger (PBUH) then led his funeral prayer. ھم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے ، ان سے سلمھ بن اکوع رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے یھاں نماز پڑھنے کے لیے کسی کا جنازھ آیا ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا ۔ کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا ؟ لوگوں نے کھا کھ نھیں ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کی نماز جنازھ پڑھا دی ۔ پھر ایک اور جنازھ آیا ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا ، میت پر کسی کا قرض تھا ؟ لوگوں نے کھا کھ ھاں تھا ۔ یھ سن کر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، کھ پھر اپنے ساتھی کی تم ھی نماز پڑھ لو ۔ ابوقتادھ رضی اللھ عنھ نے عرض کیا یا رسول اللھ ! ان کا قرض میں ادا کر دوں گا ۔ تب آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کی نماز جنازھ پڑھائی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 39 Hadith no 2295
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 37 Hadith no 492



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.