Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Medicine

كتاب الطب

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ، الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas: The Prophet (PBUH) said, "No 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission), nor Tiyara, but I like the good Fal, i.e., the good word." ھم سے مسلم بن ابراھیم نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھشام دستوائی نے بیان کیا ، ان سے قتادھ نے اور ان سے انس رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نھیں اور نھ بد شگونی کی کوئی اصل ھے اور مجھے اچھی فال پسند ھے یعنی کوئی کلمھ خیر اور نیک بات جو کسی کے منھ سے سنی جائے ( جیسا کھ اوپر بیان ھوا ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 652
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 652


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى، وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ، وَلاَ صَفَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "There is no 'Adha, nor Tiyara, nor Hama, nor Safar." ھم سے محمد بن حکم نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم کو اسرائیل نے خبر دی ، انھوں نے کھا ھم کو ابو حصین ( عثمان بن عاصم اسدی ) نے خبر دی ، انھیں ابوصالح ذکوان نے اور انھیں حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانا بد شگونی یا الو یا صفر کی نحوست یھ کوئی چیز نھیں ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 653
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 653


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهْىَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لاَ شَرِبَ، وَلاَ أَكَلَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) gave his verdict about two ladies of the Hudhail tribe who had fought each other and one of them had hit the other with a stone. The stone hit her `Abdomen and as she was pregnant, the blow killed the child in her womb. They both filed their case with the Prophet (PBUH) and he judged that the blood money for what was in her womb. was a slave or a female slave. The guardian of the lady who was fined said, "O Allah's Messenger (PBUH)! Shall I be fined for a creature that has neither drunk nor eaten, neither spoke nor cried? A case like that should be nullified." On that the Prophet (PBUH) said, "This is one of the brothers of soothsayers. ھم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ، ان سے ابن شھاب نے ، ان سے ابوسلمھ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللھ عنھ نے اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ قبیلھ ھذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنھوں نے جھگڑا کیا تھا یھاں تک کھ ان میں سے ایک عورت ( ام عطیف بنت مروح ) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا ( جس کا نام ملیکھ بنت عویمر تھا ) وھ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا ۔ یھ عورت حاملھ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچھ ( پتھر کی چوٹ سے ) مرگیا ۔ یھ معاملھ دونوں فریق نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلھ کیا کھ عورت کے پیٹ کے بچھ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ھے جس عورت پر تاوان واجب ھوا تھا اس کے ولی ( حمل بن مالک بن نابغھ ) نے کھا یا رسول اللھ ( صلی اللھ علیھ وسلم ) ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے کھایا نھ پیا نھ بولا اور نھ ولادت کے وقت اس کی آواز ھی سنائی دی ؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نھیں ھو سکتی ۔ آپ نے اس پر فرمایا کھ یھ شخص تو کاھنوں کا بھائی معلوم ھوتا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 654
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 654


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Two ladies (had a fight) and one of them hit the other with a stone on the `Abdomen and caused her to abort. The Prophet (PBUH) judged that the victim be given either a slave or a female slave (as blood-money). Narrated Ibn Shihab: Sa`id bin Al-Musayyab said, "Allah's Messenger (PBUH) judged that in case of child killed in the womb of its mother, the offender should give the mother a slave or a female slave in recompense The offender said, How can I be fined for killing one who neither ate nor drank, neither spoke nor cried: a case like that should be denied ' On that Allah's Messenger (PBUH) said 'He is one of the brothers of the foretellers ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے حضرت امام مالک نے ، ان سے ابن شھاب نے ، ان سے ابوسلمھ نے اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ دو عورتیں تھیں ۔ ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے اس کے پیٹ کا حمل گر گیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اس معاملھ میں ایک غلام یا باندی کا دیت میں دیئے جانے کا فیصلھ کیا ۔ اور ابن شھاب نے بیان کیا ، ان سے حضرت سعید بن مسیب نے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ھو ، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلھ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کھا کھ ایسے بچھ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نھ کھایا ، نھ پیا ، نھ بولا اور نھ ولادت کے وقت ھی آوازنکالی ؟ ایسی صورت میں تو دیت نھیں ھو سکتی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ یھ شخص تو کاھنوں کا بھائی معلوم ھوتا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 655
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 655



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.