Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Medicine

كتاب الطب

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ وَالنَّبِيَّانِ يَمُرُّونَ مَعَهُمُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّى رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ مَا هَذَا أُمَّتِي هَذِهِ قِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ‏.‏ قِيلَ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ‏.‏ فَإِذَا سَوَادٌ يَمْلأُ الأُفُقَ، ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا فِي آفَاقِ السَّمَاءِ فَإِذَا سَوَادٌ قَدْ مَلأَ الأُفُقَ قِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ فَأَفَاضَ الْقَوْمُ وَقَالُوا نَحْنُ الَّذِينَ آمَنَّا بِاللَّهِ، وَاتَّبَعْنَا رَسُولَهُ، فَنَحْنُ هُمْ أَوْ أَوْلاَدُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلاَمِ فَإِنَّا وُلِدْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ‏.‏ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ فَقَالَ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَلاَ يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا قَالَ ‏"‏ سَبَقَكَ عُكَّاشَةُ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas: Allah's Messenger (PBUH) said, 'Nations were displayed before me; one or two prophets would pass by along with a few followers. A prophet would pass by accompanied by nobody. Then a big crowd of people passed in front of me and I asked, Who are they Are they my followers?" It was said, 'No. It is Moses and his followers It was said to me, 'Look at the horizon.'' Behold! There was a multitude of people filling the horizon. Then it was said to me, 'Look there and there about the stretching sky! Behold! There was a multitude filling the horizon,' It was said to me, 'This is your nation out of whom seventy thousand shall enter Paradise without reckoning.' "Then the Prophet (PBUH) entered his house without telling his companions who they (the 70,000) were. So the people started talking about the issue and said, "It is we who have believed in Allah and followed His Apostle; therefore those people are either ourselves or our children who are born m the Islamic era, for we were born in the Pre-lslamic Period of Ignorance.'' When the Prophet (PBUH) heard of that, he came out and said. "Those people are those who do not treat themselves with Ruqya, nor do they believe in bad or good omen (from birds etc.) nor do they get themselves branded (Cauterized). but they put their trust (only) in their Lord " On that 'Ukasha bin Muhsin said. "Am I one of them, O Allah's Messenger (PBUH)?' The Prophet (PBUH) said, "Yes." Then another person got up and said, "Am I one of them?" The Prophet (PBUH) said, 'Ukasha has anticipated you." ھم سے عمران بن میسرھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے حضرت عمران بن حصین رضی اللھ عنھما نے کھا کھ نظر بد اورزھریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نھیں ۔ ( حصین نے بیان کیا کھ ) پھر میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انھوں نے بیان کیا کھ ھم سے حضرت ابن عباس رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ایک ایک دو دونبی اور ان کے ساتھ ان کے ماننے والے گزرتے رھے اور بعض نبی ایسے بھی تھے کھ ان کے ساتھ کوئی نھیں تھا آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی ۔ میں نے پوچھا یھ کون ھیں ، کیایھ میری امت کے لوگ ھیں ؟ کھا گیا کھ یھ حضرت موسیٰ علیھ السلام اور ان کی قوم ھے پھر کھا گیا کھ کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا کھ ایک بھت ھی عظیم جماعت ھے جو کناروں پر چھائی ھوئی ھے پھر مجھ سے کھا گیا کھ ادھر دیکھو ادھر دیکھو آسمان کے مختلف کناروں میں میں نے دیکھا کھ جماعت ھے جو تمام افق پر چھائی ھوئی ھے ۔ کھا گیا کھ یھ آپ کی امت ھے اور اس میں سے ستر ھزار حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے ۔ اس کے بعد آپ ( اپنے حجرھ میں ) تشریف لے گئے اور کچھ تفصیل نھیں فرمائی لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے اور کھنے لگے کھ ھم اللھ پر ایمان لائے ھیں اور اس کے رسول کی اتباع کی ھے ، اس لیے ھم ھی ( صحابھ ) وھ لوگ ھیں یا ھماری وھ اولاد ھیں جو اسلام میں پیدا ھوئے کیونکھ ھم جاھلیت میں پیدا ھوئے تھے ۔ یھ باتیں جب حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم کو معلوم ھوئیں تو آپ باھر تشریف لائے اور فرمایا یھ وھ لوگ ھوں گے جو جھاڑ پھونک نھیں کراتے ، فال نھیں دیکھتے اور داغ کر علاج نھیں کرتے بلکھ اپنے رب پر بھروسھ کرتے ھیں ۔ اس پر عکاشھ بن محصن رضی اللھ عنھ نے عرض کیا یا رسول اللھ ! کیا میں بھی ان میں سے ھوں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ھاں ۔ اس کے بعد دوسرے صحابی کھڑے ھوئے اور عرض کیا یا رسول اللھ ( صلی اللھ علیھ وسلم ) ! میں بھی ان میں ھوں ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ عکاشھ تم سے بازی لے گئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 5705
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 606


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرُوا لَهُ الْكُحْلَ، وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا ـ أَوْ فِي أَحْلاَسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا ـ فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً، فَلاَ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏‏.‏

Narrated Um Salama: The husband of a lady died and her eyes became sore and the people mentioned her story to the Prophet They asked him whether it was permissible for her to use kohl as her eyes were exposed to danger. He said, "Previously, when one of you was bereaved by a husband she would stay in her dirty clothes in a bad unhealthy house (for one year), and when a dog passed by, she would throw a globe of dung. No, (she should observe the prescribed period Idda) for four months and ten days.' ھم سے مسدد نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا ، ان سے شعبھ نے بیان کیا کھ مجھ سے حمید بن نافع نے بیان کیا ، ان سے حضرت زینب رضی اللھ عنھا نے اور ان سے حضرت ام سلمھ رضی اللھ عنھا نے کھ ایک عورت کے شوھر کا انتقال ھو گیا ( زمانھ عدت میں ) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے کیا ۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے سامنے سرمھ کا ذکر کیا اور یھ کھ ( اگر سرمھ آنکھ میں نھ لگایا تو ) ان کی آنکھ کے متعلق خطرھ ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ( زمانھ جاھلیت میں ) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بد تر کپڑے میں پڑا رھنا پڑتا تھا یا ( آپ نے یھ فرمایا کھ ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بد تر حصھ میں پڑا رھنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پروھ مینگنی پھینک کر مارتی ( تب عدت سے باھر ھوتی ) پس چار مھینے دس دن تک سرمھ نھ لگاؤ ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 5706
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 607


وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ ‏"‏‏.‏


Chapter: Leprosy

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, '(There is) no 'Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's permission). nor is there any bad omen (from birds), nor is there any Hamah, nor is there any bad omen in the month of Safar, and one should run away from the leper as one runs away from a lion.'' اور عفان بن مسلم ( امام بخاری کے شیخ ) نے کھا ( ان کو ابونعیم نے وصل کیا ) ھے کھ ھم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ، ان سے سعید بن میناء نے بیان کیا ، کھا کھ میں نے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا چھوت لگنا ، بدشگونی لینا ، الو کا منحوس ھونا اور صفر کا منحوس ھونا یھ سب لغو خیالات ھیں البتھ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رھ جیسے کھ شیر سے بھاگتا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 5707
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 608


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ‏.‏


Chapter: Al-Mann heals eye diseases

Narrated Sa`id bin Zaid: I heard the Prophet (PBUH) saying, "Truffles are like Manna (i.e. they grow naturally without man's care) and their water heals eye diseases." ھم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کھا ھم سے غندر نے بیان کیا کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے کھا کھ میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، کھا کھ میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللھ عنھ سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کھ میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ کھنبی من میں سے ھے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ھے ۔ اسی سند سے شعبھ نے بیان کیا کھ مجھے حکم بن عتیبھ نے خبر دی ، انھیں حسن بن عبداللھ عرنی نے ، انھیں عمرو بن حریث نے اور انھیں سعید بن زید رضی اللھ عنھ نے اور انھیں نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے یھی حدیث بیان کی ، شعبھ نے کھا کھ جب حکم نے بھی مجھ سے یھ حدیث بیان کر دی تو پھر عبدالملک بن عمیر کی روایت پر مجھکو اعتماد ھو گیا کیونکھ عبدالملک کا حافظھ آخر میں بگڑ گیا تھا شعبھ کو صرف اس کی روایت پر بھروسھ نھ رھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 5708
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 609


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَبَّلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مَيِّتٌ‏.‏ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا، أَنْ لاَ تَلُدُّونِي‏.‏ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ قُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas and `Aisha: Abu Bakr kissed (the forehead of) the Prophet (PBUH) when he was dead. `Aisha added: We put medicine in one side of his mouth but he started waving us not to insert the medicine into his mouth. We said, "He dislikes the medicine as a patient usually does." But when he came to his senses he said, "Did I not forbid you to put medicine (by force) in the side of my mouth?" We said, "We thought it was just because a patient usually dislikes medicine." He said, "None of those who are in the house but will be forced to take medicine in the side of his mouth while I am watching, except Al-`Abbas, for he had not witnessed your deed." ھم سے علی بن عبداللھ مدینی نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے موسیٰ بن ابی عائشھ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللھ بن عبداللھ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللھ عنھما اور حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی نعش مبارک کو بوسھ دیا ۔ ( عبیداللھ نے ) بیان کیا کھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھا ھم نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے مرض ( وفات ) میں دوا آپ کے منھ میں ڈالی تو آپ نے ھمیں اشارھ کیا کھ دو ا منھ میں نھ ڈالو ھم نے خیال کیا کھ مریض کو دوا سے جو نفرت ھوتی ھے اس کی وجھ سے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم منع فرما رھے ھیں پھر جب آپ کو ھوش ھوا تو آپ نے فرمایا کیوں میں نے تمھیں منع نھیں کیا تھا کھ دوا میرے منھ میں نھ ڈالو ۔ ھم نے عرض کیا کھ یھ شاید آپ نے مریض کی دوا سے طبعی نفرت کی وجھ سے فرمایا ھو گا ۔ اس پرآنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اب گھر میں جتنے لوگ اس وقت موجود ھیں سب کے منھ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رھوں گا ، البتھ حضرت عباس رضی اللھ عنھ کو چھوڑ دیا جائے کیونکھ وھ میرے منھ میں ڈالتے وقت موجود نھ تھے ، بعد میں آئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 5709-5712
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 610


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ ‏"‏ عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ‏"‏‏.‏ فَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ بَيَّنَ لَنَا اثْنَيْنِ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا خَمْسَةً‏.‏ قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ لَمْ يَحْفَظْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ، حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَوَصَفَ سُفْيَانُ الْغُلاَمَ يُحَنَّكُ بِالإِصْبَعِ وَأَدْخَلَ سُفْيَانُ فِي حَنَكِهِ، إِنَّمَا يَعْنِي رَفْعَ حَنَكِهِ بِإِصْبَعِهِ، وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِقُوا عَنْهُ شَيْئًا‏.‏

Narrated Um Qais: I went to Allah's Messenger (PBUH) along with a a son of mine whose palate and tonsils I had pressed with my finger as a treatment for a (throat and tonsil) disease. The Prophet (PBUH) said, "Why do you pain your children by pressing their throats! Use Ud Al-Hindi (certain Indian incense) for it cures seven diseases, one of which is pleurisy. It is used as a snuff for treating throat and tonsil disease and it is inserted into one side of the mouth of one suffering from pleurisy." ھم سے علی بن عبداللھ مدینی نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان بن عیینھ نے ، ان سے زھری نے ، کھا مجھ کوعبیداللھ بن عبداللھ بن عتبھ نے خبر دی اور انھیں ام قیس رضی اللھ عنھا نے کھ میں اپنے ایک لڑکے کو لے کر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئی ۔ میں نے اس کی ناک میں بتی ڈالی تھی ، اس کا حلق دبایا تھا چونکھ اس کو گلے کی بیماری ھو گئی تھی آپ نے فرمایاتم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوںتکلیف دیتی ھو یھ عود ھندی لو اس میں سات بیماریوں کی شفاء ھے ان میں ایک ذات الجنب ( پسلی کا ورم بھی ھے ) اگر حلق کی بیماری ھو تو اس کو ناک میں ڈالو اگر ذات الجنب ھو تو حلق میں ڈالو ( لدود کرو ) سفیان کھتے ھیں کھ میں نے زھری سے سنا ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دو بیماریوں کو تو بیان کیا باقی پانچ بیماریوں کو بیان نھیں فرمایا ، علی بن عبداللھ مدینی نے کھا میں نے سفیان سے کھا ، معمر توزھری سے یوں نقل کرتا ھے ” اعلقت عنھ “ انھوں نے کھا کھ معمر نے یاد نھیں رکھا ۔ مجھے یادھے زھری نے یوں کھا تھاا ” اعلقت علیھ “ اورسفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچھ کو پیدائش کے وقت کی جاتی ھے سفیان نے انگلی حلق میں ڈال کر اپنے کو لے کو انگلی سے اٹھایا تو سفیان نے اعلاق کا معنی بچے کے حلق میں انگلی ڈال کرتالو کو اٹھایا انھوں نے یھ نھیں کھا ” اعلقوا عنھ شیئا “ ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 76 Hadith no 5713
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 71 Hadith no 611



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.