Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Patients

كتاب المرضى

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ عَيْنَيْهِ‏.‏ تَابَعَهُ أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ وَأَبُو ظِلاَلٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏


Chapter: The superiority of a person who has lost his sight

Narrated Anas bin Malik: I heard Allah's Messenger (PBUH) saying, "Allah said, 'If I deprive my slave of his two beloved things (i.e., his eyes) and he remains patient, I will let him enter Paradise in compensation for them.'" ھم سے عبداللھ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے یزید بن عبداللھ بن ھاد نے بیان کیا ، ان سے مطلب بن عبداللھ بن جذب کے غلام عمرو نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ میں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کھ اللھ تعالیٰ کاارشاد ھے کھ جب میں اپنے کسی بندھ کو اس کے دو محبوب اعضاء ( آنکھوں ) کے بارے میں آزماتا ھوں ( یعنی نابینا کر دیتا ھوں ) اور وھ اس پر صبر کرتا ھے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ھوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5653
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 557


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا قُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بَوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّهُمَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha: When Allah's Messenger (PBUH) emigrated to Medina, Abu Bakr and Bilal got a fever. I entered upon them and asked, "O my father! How are you? O Bilal! How are you?" Whenever fever attacked Abu Bakr, he would recite the following poetic verses: 'Everybody is staying alive among his people, yet death is nearer to him than his shoe laces." And whenever the fever deserted Bilal, he would recite (two poetic lines): 'Would that I could stay overnight in a valley wherein I would be surrounded by Idhkhir and Jalil (two kinds of good smelling grass). Would that one day I would drink of the water of Majinna and would that Shama and Tafil (two mountains at Mecca) would appear to me.' Then I came and informed Allah's Messenger (PBUH) about that, whereupon he said, "O Allah! Make us love Medina as much or more than we love Mecca. O Allah! Make it healthy and bless its Mudd and Sa for us, and take away its fever and put it in Al Juhfa." ھم سے قتیبھ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ھشام بن عروھ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ جب رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ھجرت کر کے مدینھ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللھ عنھ اور بلال رضی اللھ عنھ کو بخار ھو گیا ۔ بیان کیا کھ پھر میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گئی اور پوچھا ، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ھے ؟ بلال رضی اللھ عنھ سے بھی پوچھا کھ آپ کا کیا حال ھے ؟ بیان کیا کھ جب حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ کو بخار ھوا تو وھ یھ شعر پڑھا کرتے تھے ” ھر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ھے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادھ قریب ھے ۔ “ اور بلال رضی اللھ عنھ کو جب افاقھ ھوتا تو یھ شعر پڑھتے تھے ” کاش مجھے معلوم ھوتا کھ کیا پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( مکھ مکرمھ کی گھاس ) کے جنگل ھوں گے اور کیا میں کبھی مجنھ ( مکھ سے چند میل کے فاصلھ پر ایک بازار ) کے پانی پر اترو ں گا اور کیا پھر کبھی شامھ اور طفیل ( مکھ کے قریب دو پھاڑوں ) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔ ” حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ پھر میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت مےںحاضر ھوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ نے دعا فرمائی کھ اے اللھ ! ھمارے دل میں مدینھ کی محبت بھی اتنی ھی کر دے جتنی مکھ کی محبت ھے بلکھ اس سے بھی زیادھ اور اس کی آب و ھوا کو ھمارے موافق کر دے اور ھمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما ، اللھ اس کا بخار کھیں اور جگھ منتقل کر دے اسے مقام جحفھ میں بھیج دے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5654
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 558


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهْوَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَعْدٍ وَأُبَىٍّ نَحْسِبُ أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا، فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.‏


Chapter: To visit sick children

Narrated Abu `Uthman: Usama bin Zaid said that while he. Sa`d and Ubai bin Ka`b were with the Prophet (PBUH) a daughter of the Prophet sent a message to him, saying. 'My daughter is dying; please come to us." The Prophet (PBUH) sent her his greetings and added "It is for Allah what He takes, and what He gives; and everything before His sight has a limited period. So she should hope for Allah's reward and remain patient." She again sent a message, beseeching him by Allah, to come. So the Prophet (PBUH) got up. and so did we (and went there). The child was placed on his lap while his breath was irregular. Tears flowed from the eyes of the Prophet. Sa`d said to him, "What is this, O Allah's Messenger (PBUH)?" He said. "This Is Mercy which Allah has embedded in the hearts of whomever He wished of His slaves. And Allah does not bestow His Mercy, except on the merciful among His slaves. (See Hadith No. 373 Vol. 2) ھم سے حجاج بن منھال نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، کھا کھ مجھے عاصم نے خبر دی ، کھا کھ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انھوں نے اسامھ بن زید رضی اللھ عنھما سے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللھ عنھا ) نے آپ کو کھلوا بھیجا ۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ حضرت سعد رضی اللھ عنھ اور ھمارا خیال ھے کھ حضرت ابی بن کعب رضی اللھ عنھ تھے کھ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ھے اس لیے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم ھمارے یھاں تشریف لائیں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں سلام کھلوایا اور فرمایا کھ اللھ تعالیٰ کو اختیار ھے جو چاھے دے اور جو چاھے لے لے ھر چیز اس کے یھاں متعین ومعلوم ھے ۔ اس لیے اللھ سے اس مصبیت پر اجر کی امیدوار رھو اور صبر کرو ۔ صاحبزادی نے پھر دوبارھ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا ۔ چنانچھ آپ کھڑے ھوئے اور ھم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ھو گئے پھر بچی آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وھ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی ۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللھ عنھ نے عرض کیا کھ یا رسول اللھ ( صلی اللھ علیھ وسلم ) ! یھ کیا ھے ؟ حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا یھ رحمت ھے ۔ اللھ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاھتا ھے رکھتا ھے اور اللھ تعالیٰ بھی اپنے انھیں بندوں پر رحم کرتا ھے جو خود بھی رحم کرنے والے ھوتے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5655
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 559


حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ ـ قَالَ ـ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتَ طَهُورٌ، كَلاَّ بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ ـ أَوْ تَثُورُ ـ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَنَعَمْ إِذًا ‏"‏‏.‏


Chapter: To visit a Bedouin

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet (PBUH) went to visit a sick bedouin. Whenever the Prophet (PBUH) went to a patient, he used to say to him, "Don't worry, if Allah will, it will be expiation (for your sins):" The bedouin said, "You say expiation? No, it is but a fever that is boiling or harassing an old man and will lead him to his grave without his will." The Prophet (PBUH) said, "Then, yes, it is so." ھم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا ، کھا ھم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمھ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللھ عنھما نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ایک دیھاتی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ راوی نے بیان کیا کھ جب حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم کسی کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو مریض سے فرماتے کوئی فکر کی بات نھیں ۔ انشاءاللھ یھ مرض گناھوں سے پاک کرنے والا ھے لیکن اس دیھاتی نے آپ کے ان مبارک کلمات کے جواب میں کھا کھ آپ کھتے ھیں کھ یھ پاک کرنے والا ھے ھرگز نھیں بلکھ یھ بخار ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ھے اور اسے قبر تک پھنچا کے رھے گا ۔ آپ نے فرمایا کھ پھر ایسا ھی ھو گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5656
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 560


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ غُلاَمًا، لِيَهُودَ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرِضَ‏.‏ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَسْلِمْ ‏"‏‏.‏ فَأَسْلَمَ‏.‏ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ، لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبٍ جَاءَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏


Chapter: To vist a Mushrik

Narrated Anas: A Jewish boy used to serve the Prophet (PBUH) and became ill. The Prophet (PBUH) went to pay him a visit and said to him, "Embrace Islam," and he did embrace Islam. Al-Musaiyab said: When Abu Talib was on his deathbed, the Prophet (PBUH) visited him. ھم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کھا ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے حضرت انس رضی اللھ عنھ نے کھ ایک یھودی لڑکا ( عبدوس نامی ) نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وھ بیمار ھوا تو حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اسلام قبول کر لے چنانچھ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعیدبن مسیب نے بیان کیااپنے والد سے کھ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ھوا تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5657
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 561


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ يَعُودُونَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الإِمَامَ لَيُؤْتَمُّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ هَذَا الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آخِرَ مَا صَلَّى صَلَّى قَاعِدًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ‏.‏


Chapter: If one visited a patient and the time of the Salat became due

Narrated `Aisha: During the ailment of the Prophet (PBUH) some people came to visits him. He led them in prayer while sitting. but they prayed standing, so he waved to them to sit down. When he had finished the prayer, he said, "An Imam is to be followed, so when he bows, you should bow. and when he raises his head, you should raise yours, and if he prays sitting. you should pray sitting." Abu `Abdullah said Al-Humaidi said, (The order of ) "This narration has been abrogated by the last action of the Prophet (PBUH) as he led the prayer sitting, while the people prayed standing behind him.' ھم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھشام بن عروھ نے بیان کیا ، کھا کھ مجھے میرے والد نے خبر دی اور انھیں حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ کچھ صحابھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی آپ کے ایک مرض کے دوران مزاج پرسی کرنے آئے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن صحابھ کھڑے ھو کر ھی نماز پڑھ رھے تھے ۔ اس لیے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں بیٹھنے کا اشارھ کیا ۔ نماز سے فارغ ھونے کے بعد آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ امام اس لیے ھے کھ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وھ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، جب وھ سر اٹھائے تو تم ( مقتدی ) بھی اٹھا ؤ اور اگر وھ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوعبداللھ حضرت امام بخاری نے کھا کھ مطابق قول حضرت حمیدی یھ حدیث منسوخ ھے کیونکھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے آخر ( مرض الوفات ) میں نماز بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ھو کر اقتداء کر رھے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5658
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 562



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.