Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Patients

كتاب المرضى

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ تَشَكَّيْتُ بِمَكَّةَ شَكْوًا شَدِيدًا، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي، فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَتْرُكُ مَالاً وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكْ إِلاَّ ابْنَةً وَاحِدَةً، فَأُوصِي بِثُلُثَىْ مَالِي وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ النِّصْفَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ قَالَ ‏"‏ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ ‏"‏‏.‏ فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي فِيمَا يُخَالُ إِلَىَّ حَتَّى السَّاعَةِ‏.‏


Chapter: Placing the hand on the patient

Narrated Sa`d: I became seriously ill at Mecca and the Prophet (PBUH) came to visit me. I said, "O Allah's Messenger (PBUH)! I shall leave behind me a good fortune, but my heir is my only daughter; shall I bequeath two third of my property to be spent in charity and leave one third (for my heir)?" He said, "No." I said, "Shall I bequeath half and leave half?" He said, "No." I said, "Shall I bequeath one third and leave two thirds?" He said, "One third is alright, though even one third is too much." Then he placed his hand on his forehead and passed it over my face and `Abdomen and said, "O Allah! Cure Sa`d and complete his emigration." I feel as if I have been feeling the coldness of his hand on my liver ever since. ھم سے مکی بن ابراھیم نے بیان کیا ، کھا ھم کوجعید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انھیں عائشھ بنت سعد نے کھ ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللھ عنھ ) نے بیان کیا کھ میں مکھ میں بھت سخت بیمار پڑ گیا تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا اے اللھ کے نبی ! ( اگر وفات ھو گئی تو ) میں مال چھوڑوں گا اور میرے پاس سوا ایک لڑکی کے اور کوئی وارث نھیں ھے ۔ کیا میں اپنے دو تھائی مال کی وصیت کر دوں اور ایک تھائی چھوڑ دوں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ نھیں میں نے عرض کیا پھر آدھے کی وصیت کر دوں اورآدھا ( اپنی بچی کے لیے ) چھوڑ دوں فرمایا کھ نھیں پھر میں نے کھا کھ ایک تھائی کی وصیت کر دوں اور باقی دو تھائی لڑکی کے لیے چھوڑ دوں ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ایک تھائی کر دو اور ایک تھائی بھی بھت ھے ۔ پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنا ھاتھ ان کی پیشانی پر رکھا ( حضرت سعد رضی اللھ عنھ نے بیان کیا ) اور میرے چھرے اور پیٹ پر آپ نے اپنا مبارک ھاتھ پھیرا پھر فرمایا اے اللھ ! سعد کو شفاء عطا فرما اور اس کی ھجرت کو مکمل کر ۔ حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے جگر کے حصھ پر میں اب تک پا رھا ھوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5659
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 563


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجَلْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin Mas`ud: I visited Allah's Messenger (PBUH) while he was suffering from a high fever. I touched him with my hand and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! You have a high fever." Allah's Messenger (PBUH) said, "Yes, I have as much fever as two men of you have." I said, "Is it because you will get a double reward?" Allah's Messenger (PBUH) said, "Yes, no Muslim is afflicted with harm because of sickness or some other inconvenience, but that Allah will remove his sins for him as a tree sheds its leaves." ھم سے قتیبھ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراھیم تیمی نے بیان کیا ، ان سے حارث بن سوید نے بیان کیا کھ حضرت عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما نے کھا ، میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا تو آپ کو بخار آیا ھوا تھا میں نے اپنے ھاتھ سے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کا جسم چھوا اور عرض کیا یا رسول اللھ ! آپ کو تو بڑا تیز بخار ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ھاں مجھے تم میں کے دو آدمیو ں کے برابر بخار چڑھتا ھے ۔ میں نے عرض کیا یھ اس لیے ھو گا کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کو دگنا اجر ملتا ھے ۔ آپ نے فرمایا کھ ھاں اس کے بعد آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور کوئی تکلیف ھوتی ھے تو اللھ تعالیٰ اس کے گناھوں کو اس طرح گراتا ھے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرادیتا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5660
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 564


حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَمَسِسْتُهُ وَهْوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَجَلْ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلاَّ حَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ ‏"‏‏.‏


Chapter: What should be said to a patient and what should be his answer

Narrated `Abdullah: I visited the Prophet (PBUH) during his illness and touched him while he was having a fever. I said to him, "You have a high fever; is it because you will get a double reward?" He said, "Yes. No Muslim is afflicted with any harm, but that his sins will be annulled as the leave of a tree fall down." ھم سے قبیصھ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراھیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں جب آپ بیمار تھے حاضر ھوا ۔ میں نے آپ کا جسم چھوا ، آپ کو تیز بخار تھا ۔ میں نے عرض کیا آپ کو تو بڑا تیز بخار ھے یھ اس لیے ھو گا کھ آپ کو دگنا ثواب ملے گا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ھاں اور کسی مسلمان کو بھی جب کوئی تکلیف پھنچتی ھے تو اس کے گناھ اس طرح جھڑ جاتے ھیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5661
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 565


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ كَلاَّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ كَيْمَا تُزِيرَهُ الْقُبُورَ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَنَعَمْ إِذًا ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas: Allah's Messenger (PBUH) entered upon sick man to pay him a visit, and said to him, "Don't worry, Allah willing, (your sickness will be) an expiation for your sins." The man said, "No, it is but a fever that is boiling within an old man and will send him to his grave." On that, the Prophet (PBUH) said, "Then yes, it is so." ھم سے اسحاق بن شاھین واسطی نے بیان کیا ، کھا ھم سے خالد بن عبداللھ نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمھ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللھ عنھما نے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا کھ کوئی فکر نھیں اگر اللھ نے چاھا ۔ ( یھ مرض ) گناھوں سے پاک کرنے والا ھو گا لیکن اس نے یھ جواب دیا کھ ھرگز نھیں یھ تو ایسا بخار ھے جو ایک بوڑھے پر غالب آ چکا ھے اور اسے قبر تک پھنچا کر ھی رھے گا ، اس پر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ پھر ایسا ھی ھو گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5662
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 566


حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، قَالَ لاَ تُغَيِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَوَقَفَ وَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ إِنَّهُ لاَ أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا، فَلاَ تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَكَتُوا فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَىْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ فَلَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا أَعْطَاكَ وَلَقَدِ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ فَلَمَّا رَدَّ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ الَّذِي فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ‏.‏


Chapter: To visit a patient riding, walking or sitting with another person on a donkey

Narrated Usama bin Zaid: The Prophet (PBUH) rode a donkey having a saddle with a Fadakiyya velvet covering. He mounted me behind him and went to visit Sa`d bin 'Ubada, and that had been before the battle of Badr. The Prophet (PBUH) proceeded till he passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubai bin Salul was present, and that had been before `Abdullah embraced Islam. The gathering comprised of Muslims, polytheists, i.e., isolators and Jews. `Abdullah bin Rawaha was also present in that gathering. When dust raised by the donkey covered the gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his upper garment and said, "Do not trouble us with dust." The Prophet (PBUH) greeted them, stopped and dismounted. Then he invited them to Allah (i.e., to embrace Islam) and recited to them some verses of the Holy Qur'an. On that, `Abdullah bin Ubai said, "O man ! There is nothing better than what you say if it is true. Do not trouble us with it in our gathering, but return to your house, and if somebody comes to you, teach him there." On that `Abdullah bin Rawaha said, Yes, O Allah's Messenger (PBUH)! Bring your teachings to our gathering, for we love that." So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing each other till they were about to fight. The Prophet (PBUH) kept on quietening them till they became calm. Thereupon the Prophet mounted his animal and proceeded till he entered upon Sa`d bin Ubada. He said to him "O Sa`d! Have you not heard what Abu Hubab (i.e., `Abdullah bin Ubai) said?" Sa`d said, 'O Allah's Apostle! Excuse and forgive him, for Allah has given you what He has given you. The people of this town (Medina decided unanimously to crown him and make him their chief by placing a turban on his head, but when that was prevented by the Truth which Allah had given you he (`Abdullah bin Ubai) was grieved out of jealously, and that was the reason which caused him to behave in the way you have seen." ھم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شھاب نے ، ان سے عروھ نے ، انھیں اسامھ بن زید رضی اللھ عنھما نے خبر دی کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم گدھے کی پالان پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ھوئے اور اسامھ بن زید رضی اللھ عنھما کو اپنے پیچھے سوار کیا ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم سعد بن عبادھ رضی اللھ عنھ کی عیادت کو تشریف لے جا رھے تھے ، یھ جنگ بدر سے پھلے کا واقعھ ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم روانھ ھوئے اور ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللھ بن ابی بن سلول بھی تھا ۔ عبداللھ ابھی مسلمان نھیں ھوا تھا اس مجلس میں ھر گروھ کے لوگ تھے مسلمان بھی ، مشرکین بھی یعنی بت پرست اور یھودی بھی ۔ مجلس میں عبداللھ بن رواحھ رضی اللھ عنھ بھی تھے ، سواری کی گرد جب مجلس تک پھنچی تو عبداللھ بن ابی نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی اور کھا کھ ھم پر گرد نھ اڑاؤ ۔ پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں سلام کیا اور سواری روک کر وھاں اترگئے پھر آپ نے انھیں اللھ کے طرف بلایا اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا ۔ اس پر عبداللھ بن ابی نے کھا میاں تمھاری باتیں میری سمجھ میں نھیں آتیں اگر حق ھیں تو ھماری مجلس میں انھیں بیان کر کے ھم کو تکلیف نھ پھنچایا کرو ، اپنے گھر جاؤ وھاں جو تمھارے پاس آئے اس سے بیان کرو ۔ اس پر حضرت ابن رواحھ رضی اللھ عنھ نے کھا کیوں نھیں یا رسول اللھ ! آپ ھماری مجلسوں میں ضرور تشریف لائیں کیونکھ ھم ان باتوں کو پسند کرتے ھیں ۔ اس پر مسلمانوں ، مشرکوں اور یھودیوں میں جھگڑ ے بازی ھو گئی اورقریب تھا کھ ایک دوسرے پر حملھ کر بیٹھتے لیکن آپ انھیں خاموش کرتے رھے یھاں تک کھ سب خاموش ھو گئے پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم اپنی سواری پر سوار ھو کر سعد بن عبادھ رضی اللھ عنھ کے یھاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا سعد ! تم نے سنا نھیں ابوحباب نے کیا کھا ، آپ کا اشارھ عبداللھ بن ابی کی طرف تھا ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللھ عنھ بولے کھ یا رسول اللھ ! اسے معاف کر دیجئیے اور اس سے درگزر فرمایئے ۔ اللھ تعالیٰ نے آپ کو وھ نعمت عطا فرما دی جو عطا فرمانی تھی ( آپ کے مدینھ تشریف لانے سے پھلے ) اس بستی کے لوگ اس پر متفق ھو گئے تھے کھ اسے تاج پھنادیں اور اپنا سردار بنا لیں لیکن جب اللھ تعالیٰ نے اس منصوبھ کو اس حق کے ذریعھ جو آپ کو اس نے عطا فرمایا ھے ختم کر دیا تو وھ اس پر بگڑ گیا یھ جو کچھ معاملھ اس نے آپ کے ساتھ کیا ھے اسی کا نتیجھ ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5663
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 567


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدٍ ـ هُوَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ـ عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلاَ بِرْذَوْنٍ‏.‏

Narrated Jabir: The Prophet (PBUH) came to visit me (while I was sick) and he was riding neither a mule, nor a horse. ھم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے محمد نے جو منکدر کے بیٹے ھیں اور ان سے حضرت جابر بن عبداللھ رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ نھ کسی خچر پر سوار تھے نھ کسی گھوڑے پر ۔ ( بلکھ آپ پیدل تشریف لائے تھے ۔ )

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 75 Hadith no 5664
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 70 Hadith no 568



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.