Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Penalty of Hunting while on Pilgrimage

كتاب جزاء الصيد

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ انْطَلَقَ أَبِي عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَطَعَنْتُهُ، فَأَثْبَتُّهُ، وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا، وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ، وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ‏.‏ فَقَالَ لِلْقَوْمِ ‏"‏ كُلُوا ‏"‏ وَهُمْ مُحْرِمُونَ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Abu Qatada: My father set out (for Mecca) in the year of Al-Hudaibiya, and his companions assumed Ihram, but he did not. At that time the Prophet (PBUH) was informed that an enemy wanted to attack him, so the Prophet (PBUH) proceeded onwards. While my father was among his companions, some of them laughed among themselves. (My father said), "I looked up and saw an onager. I attacked, stabbed and caught it. I then sought my companions' help but they refused to help me. (Later) we all ate its meat. We were afraid that we might be left behind (separated) from the Prophet (PBUH) so I went in search of the Prophet (PBUH) and made my horse to run at a galloping speed at times and let it go slow at an ordinary speed at other times till I met a man from the tribe of Bani Ghifar at midnight. I asked him, "Where did you leave the Prophet (PBUH) ?" He replied, "I left him at Ta'hun and he had the intention of having the midday rest at As-Suqya. I followed the trace and joined the Prophet (PBUH) and said, 'O Allah's Messenger (PBUH)! Your people (companions) send you their compliments, and (ask for) Allah's Blessings upon you. They are afraid lest they may be left behind; so please wait for them.' I added, 'O Allah's Messenger (PBUH)! I hunted an onager and some of its meat is with me. The Prophet (PBUH) told the people to eat it though all of them were in the state of Ihram." ھم سے معاذ بن فضالھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھشام نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ ابن کثیر نے ، ان سے عبداللھ بن ابی قتادھ نے بیان کیا کھ میرے والد صلح حدیبیھ کے موقع پر ( دشمنوں کا پتھ لگانے ) نکلے ۔ پھر ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھا لیا لیکن ( خود انھوں نے ابھی ) نھیں باندھا تھا ( اصل میں ) نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کو کسی نے یھ اطلاع دی تھی کھ مقام غیقھ میں دشمن آپ کی تاک میں ھے ، اس لیے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ( ابوقتادھ اور چند صحابھ رضی اللھ عنھم کو ان کی تلاش میں ) روانھ کیا میرے والد ( ابوقتادھ رضی اللھ عنھ ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کھ یھ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ھنسنے لگے ( میرے والد نے بیان کیا کھ ) میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کھ ایک جنگلی گدھا سامنے ھے ۔ میں اس پر جھپٹا اور نیزے سے اسے ٹھنڈا کر دیا ۔ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد چاھی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا تھا ، پھر ھم نے گوشت کھایا ۔ اب ھمیں یھ ڈر ھوا کھ کھیں ( رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے ) دور نھ ھو جائیں ، چنانچھ میں نے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا کبھی اپنے گھوڑے تیز کر دیتا اور کبھی آھستھ ، آخر رات گئے بنو غفار کے ایک شخص سے ملاقات ھو گئی ۔ میں نے پوچھا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کھاں ھیں ؟ انھوں نے بتایا کھ جب میں آپ سے جدا ھوا تو آپ مقام تعھن میں تھے اور آپ کا ارادھ تھا کھ مقام سقیا میں پھنچ کر دوپھر کا آرام کریں گے ۔ غرض میں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھو گیا اور میں نے عرض کی یا رسول اللھ ! آپ کے اصحاب آپ پر سلام اور اللھ کی رحمت بھیجتے ھیں ۔ انھیں یھ ڈر ھے کھ کھیں وھ بھت پیچھے نھ رھ جائیں ۔ اس لیے آپ ٹھھر کر ان کا انتظار کریں ، پھر میں نے کھا یا رسول اللھ ! میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا تھا اور اس کا کچھ بچا ھوا گوشت اب بھی میرے پاس موجود ھے ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے لوگوں سے کھانے کے لیے فرمایا حالانکھ وھ سب احرام باندھے ھوئے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 28 Hadith no 1821
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 29 Hadith no 47


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ أُحْرِمْ، فَأُنْبِئْنَا بِعَدُوٍّ بِغَيْقَةَ فَتَوَجَّهْنَا نَحْوَهُمْ، فَبَصُرَ أَصْحَابِي بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُهُ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ الْفَرَسَ، فَطَعَنْتُهُ، فَأَثْبَتُّهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْهُ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا، وَأَسِيرُ عَلَيْهِ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا‏.‏ فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَكَ أَرْسَلُوا يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يَقْتَطِعَهُمُ الْعُدُوُّ دُونَكَ، فَانْظُرْهُمْ، فَفَعَلَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا اصَّدْنَا حِمَارَ وَحْشٍ، وَإِنَّ عِنْدَنَا فَاضِلَةً‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ كُلُوا ‏"‏‏.‏ وَهُمْ مُحْرِمُونَ‏.‏


Chapter: If the Muhrimun saw game and laughed and a non-Muhrim understood, they are allowed to eat the game

Narrated `Abdullah bin Abu Qatada: That his father said "We proceeded with the Prophet (PBUH) in the year of Al-Hudaibiya and his companions assumed Ihram but I did not. We were informed that some enemies were at Ghaiqa and so we went on towards them. My companions saw an onager and some of them started laughing among themselves. I looked and saw it. I chased it with my horse and stabbed and caught it. I wanted some help from my companions but they refused. (I slaughtered it all alone). We all ate from it (i.e. its meat). Then I followed Allah's Messenger (PBUH) lest we should be left behind. At times I urged my horse to run at a galloping speed and at other times at an ordinary slow speed. On the way I met a man from the tribe of Bani Ghifar at midnight. I asked him where he had left Allah's Messenger (PBUH) . The man replied that he had left the Prophet (PBUH) at a place called Ta'hun and he had the intention of having the midday rest at As-Suqya. So, I followed Allah's Messenger (PBUH) till I reached him and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! I have been sent by my companions who send you their greetings and compliments and ask for Allah's Mercy and Blessings upon you. They were afraid lest the enemy might intervene between you and them; so please wait for them." So he did. Then I said, "O Allah's Messenger (PBUH)! We have hunted an onager and have some of it (i.e. its meat) left over." Allah's Messenger (PBUH) told his companions to eat the meat although all of them were in a state of Ihram." ھم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ، کھا ھم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے عبداللھ بن ابی قتادھ نے ، کھا ان سے ان کے باپ نے بیان کیا انھوں نے کھا کھ ھم صلح حدیبیھ کے موقع پر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ چلے ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھ لیا تھا لیکن ان کا بیان تھا کھ میں نے احرام نھیں باندھا تھا ۔ ھمیں غیقھ میں دشمن کے موجود ھونے کی اطلاع ملی اس لیے ھم ان کی تلاش میں ( نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے حکم کے مطابق ) نکلے پھر میرے ساتھیوں نے گورخر دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ھنسنے لگے میں نے جو نظر اٹھائی تو اسے دیکھ لیا گھوڑے پر ( سوار ھو کر ) اس پر جھپٹا اور اسے زخمی کر کے ٹھنڈا کر دیا ۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کچھ امداد چاھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا پھر ھم سب نے اسے کھایا اور اس کے بعد میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا ( پھلے ) ھمیں ڈر ھوا کھ کھیں ھم آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم سے دور نھ رھ جائیں اس لیے میں کبھی اپنا گھوڑا تیز کر دیتا اور کبھی آھستھ آخر میری ملاقات ایک بنی غفار کے آدمی سے آدھی رات میں ھوئی میں نے پوچھا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کھاں ھیں ؟ انھوں نے بتایا کھ میں آپ صلی اللھ علیھ وسلم سے تعھن نامی جگھ میں الگ ھوا تھا اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم کا ارادھ یھ تھا کھ دوپھر کو مقام سقیا میں آرام کریں گے پھر جب میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا تو میں نے عرض کی یا رسول اللھ ! آپ کے اصحاب نے آپ کو سلام کھا ھے اور انھیں ڈر ھے کھ کھیں دشمن آپ کے اور ان کے درمیان حائل نھ ھو جائے اس لیے آپ ان کا انتظار کیجئے چنانچھ آپ نے ایسا ھی کیا ، میں نے یھ بھی عرض کی کھ یا رسول اللھ ! میں نے ایک گورخر کا شکار کیا اور کچھ بچا ھوا گوشت اب بھی موجود ھے اس پر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کے کھاؤ حالانکھ وھ سب احرام باندھے ھوئے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 28 Hadith no 1822
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 29 Hadith no 48


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْقَاحَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى ثَلاَثٍ ح‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْقَاحَةِ، وَمِنَّا الْمُحْرِمُ، وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ ـ يَعْنِي وَقَعَ سَوْطُهُ ـ فَقَالُوا لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ، إِنَّا مُحْرِمُونَ‏.‏ فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ، فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوا‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَأْكُلُوا‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَمَامَنَا، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ كُلُوهُ حَلاَلٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَنَا عَمْرٌو اذْهَبُوا إِلَى صَالِحٍ فَسَلُوهُ عَنْ هَذَا وَغَيْرِهِ، وَقَدِمَ عَلَيْنَا هَا هُنَا‏.‏


Chapter: A Muhrim should not help a non-Muhrim in the hunting of a game

Narrated Abu Qatada: We were in the company of the Prophet (PBUH) at a place called Al-Qaha (which is at a distance of three stages of journey from Medina). Abu Qatada narrated through another group of narrators: We were in the company of the Prophet (PBUH) at a place called Al-Qaha and some of us had assumed Ihram while the others had not. I noticed that some of my companions were watching something, so I looked up and saw an onager. (I rode my horse and took the spear and whip) but my whip fell down (and I asked them to pick it up for me) but they said, "We will not help you by any means as we are in a state of Ihram." So, I picked up the whip myself and attacked the onager from behind a hillock and slaughtered it and brought it to my companions. Some of them said, "Eat it." While some others said, "Do not eat it." So, I went to the Prophet (PBUH) who was ahead of us and asked him about it, He replied, "Eat it as it is Halal (i.e. it is legal to eat it). ھم سے عبداللھ بن محمد نے بیان کیا ، کھ ھم سے سفیان بن عیینھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ، ان سے ابومحمد نے ، ان سے ابوقتادھ رضی اللھ عنھ کے غلام نافع نے ، انھوں نے ابوقتادھ رضی اللھ عنھ سے سنا ، آپ نے فرمایا کھ ھم نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ مدینھ سے تین منزل دور مقام قاحھ میں تھے ۔ ( دوسری سند امام بخاری نے ) کھا کھ ھم سے علی بن عبداللھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے سفیان نے بیان کیا کھا ھم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ، ان سے ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ھم نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ مقام قاحھ میں تھے ، بعض تو ھم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم ۔ میں نے دیکھا کھ میرے ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دکھا رھے ھیں ، میں نے جو نظر اٹھائی تو ایک گورخر سامنے تھا ، ان کی مراد یھ تھی کھ ان کا کوڑا گر گیا ، ( اور اپنے ساتھیوں سے اسے اٹھانے کے لیے انھوں نے کھا ) ، لیکن ساتھیوں نے کھا کھ ھم تمھاری کچھ بھی مدد نھیں کر سکتے کیونکھ ھم محرم ھیں ) اس لیے میں نے وھ خود اٹھایا اس کے بعد میں اس گورخر کے نزدیک ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اسے شکار کیا ، پھر میں اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لایا ، بعض نے تو یھ کھا کھ ( ھمیں بھی ) کھا لینا چاھئے لیکن بعض نے کھا کھ نھیں کھانا چاھیے ۔ پھر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ آپ ھم سے آگے تھے ، میں نے آپ سے مسئلھ پوچھا تو آپ نے بتایا کھ کھا لو یھ حلال ھے ۔ ھم سے عمرو بن دینار نے کھا کھ صالح بن کیسان کی خدمت میں حاضر ھو کر اس حدیث اور اس کے علاوھ کے متعلق پوچھ سکتے ھو اور وھ ھمارے پاس یھاں آئے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 28 Hadith no 1823
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 29 Hadith no 49


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ـ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ ـ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجُوا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ‏.‏ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلاَّ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، وَقَالُوا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا، أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ‏"‏‏.‏


Chapter: A Muhrim should not point at a game

Narrated `Abdullah bin Abu Qatada: That his father had told him that Allah's Messenger (PBUH) set out for Hajj and so did his companions. He sent a batch of his companions by another route and Abu Qatada was one of them. The Prophet (PBUH) said to them, "Proceed along the seashore till we meet all together." So, they took the route of the seashore, and when they started all of them assumed Ihram except Abu Qatada. While they were proceeding on, his companions saw a group of onagers. Abu Qatada chased the onagers and attacked and wounded a sheonager. They got down and ate some of its meat and said to each other: "How do we eat the meat of the game while we are in a state of Ihram?" So, we (they) carried the rest of the she-onager's meat, and when they met Allah's Messenger (PBUH) they asked, saying, "O Allah's Messenger (PBUH)! We assumed Ihram with the exception of Abu Qatada and we saw (a group) of onagers. Abu Qatada attacked them and wounded a she-onager from them. Then we got down and ate from its meat. Later, we said, (to each other), 'How do we eat the meat of the game and we are in a state of Ihram?' So, we carried the rest of its meat. The Prophet asked, "Did anyone of you order Abu Qatada to attack it or point at it?" They replied in the negative. He said, "Then eat what is left of its meat." ھم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابوعوانھ نے بیان کیا ، ان سے عثمان بن موھب نے بیان کیا ، کھا کھ مجھے عبداللھ بن ابی قتادھ رضی اللھ عنھ نے خبر دی اور انھیں ان کے والد ابوقتادھ نے خبر دی کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ( حج کا ) ارادھ کر کے نکلے ۔ صحابھ رضوان اللھ علیھم بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے صحابھ کی ایک جماعت کو جس میں ابوقتادھ رضی اللھ عنھ بھی تھے یھ ھدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کھ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ھو کر جاؤ ، ( اور دشمن کا پتھ لگاؤ ) پھر ھم سے آ ملو ۔ چنانچھ یھ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی ، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابوقتادھ رضی اللھ عنھ نے ابھی احرام نھیں باندھا تھا ۔ یھ قافلھ چل رھا تھا کھ کئی گورخر دکھائی دئیے ، ابوقتادھ نے ان پر حملھ کیا اور ایک مادھ کا شکار کر لیا ، پھر ایک جگھ ٹھھر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ھی یھ خیال بھی آیا کھ کیا ھم محرم ھونے کے باوجود شکار کا گوشت بھی کھا سکتے ھیں ؟ چنانچھ جو کچھ گوشت بچا وھ ھم ساتھ لائے اور جب رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں پھنچے تو عرض کی یا رسول اللھ ! ھم سب لوگ تو محرم تھے لیکن ا بوقتادھ رضی اللھ عنھ نے احرام نھیں باندھا تھا پھر ھم نے گورخر دیکھے اور ابوقتادھ رضی اللھ عنھ نے ان پر حملھ کر کے ایک مادھ کا شکار کر لیا ، اس کے بعد ایک جگھ ھم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا پھر خیال آیا کھ کیا ھم محرم ھونے کے باجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ھیں ؟ اس لیے جو کچھ گوشت باقی بچا ھے وھ ھم ساتھ لائے ھیں ۔ آپ نے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادھ رضی اللھ عنھ کو شکار کرنے کے لیے کھا تھا ؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارھ کیا تھا ؟ سب نے کھا نھیں ۔ اس پر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ پھر بچا ھوا گوشت بھی کھا لو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 28 Hadith no 1824
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 29 Hadith no 50


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا وَحْشِيًّا، وَهْوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ ‏"‏‏.‏


Chapter: If a person gave onager to a Muhrim then he should not accept it

Narrated `Abdullah bin `Abbas: From As-Sa'b bin Jath-thama Al-Laithi that the latter presented an onager to Allah's Messenger (PBUH) while he was at Al-Abwa' or at Waddan, and he refused it. On noticing the signs of some unpleasant feeling of disappointment on his (As-Sab's) face, the Prophet (PBUH) said to him, "I have only returned it because I am Muhrim." ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ، کھا کھ ھم کو امام مالک نے خبر دی ، انھیں ابن شھاب نے ، انھیں عبیداللھ بن عبداللھ بن عتبھ بن مسعود نے ، انھیں عبداللھ بن عباس رضی اللھ عنھما نے اور انھیں صعب بن جثامھ لیثی رضی اللھ عنھ نے کھ جب وھ ابواء یا ودان میں تھے تو انھوں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو ایک گورخر کا تحفھ دیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا تھا ، پھر جب آپ نے ان کے چھروں پر ناراضگی کا رنگ دیکھا تو آپ نے فرمایا واپسی کی وجھ صرف یھ ھے کھ ھم احرام باندھے ھوئے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 28 Hadith no 1825
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 29 Hadith no 51


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ‏.‏


Chapter: (What kind of) animals can be killed by a Muhrim

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Messenger (PBUH) said, "It is not sinful of a Muhrim to kill five kinds of animals." ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم کو امام مالک نے خبر دی ، انھیں نافع نے خبر دی ، اور انھیں حضرت عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے خبر دی کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ھیں جنھیں مارنے میں محرم کے لیے کوئی حرج نھیں ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 28 Hadith no 1826
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 29 Hadith no 52



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.