Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Prayer at Night (Tahajjud)

كتاب التهجد

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ‏.‏ فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيّ َ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بِبَنِي سَالِمٍ، وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ إِذَا جَاءَتِ الأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَىَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ إِذَا جَاءَتِ الأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَىَّ اجْتِيَازُهُ، فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَأَفْعَلُ ‏"‏‏.‏ فَغَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ ‏"‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ‏"‏‏.‏ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ، فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ يُصْنَعُ لَهُ فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مَا فَعَلَ مَالِكٌ لاَ أَرَاهُ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ذَاكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُلْ ذَاكَ أَلاَ تَرَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لاَ نَرَى وُدَّهُ وَلاَ حَدِيثَهُ إِلاَّ إِلَى الْمُنَافِقِينَ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَأَنْكَرَهَا عَلَىَّ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ‏.‏ فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَىَّ فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَىَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ، فَإِذَا عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا، ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ‏.‏

Narrated Mahmud bin Ar-rabi' Al-Ansari: that he remembered Allah's Messenger (PBUH) and he also remembered a mouthful of water which he had thrown on his face, after taking it from a well that was in their house. Mahmud said that he had heard `Itban bin Malik, who was present with Allah's Messenger (PBUH) in the battle of Badr saying, "I used to lead my people at Bani Salim in the prayer and there was a valley between me and those people. Whenever it rained it used to be difficult for me to cross it to go to their mosque. So I went to Allah's Messenger (PBUH) and said, 'I have weak eyesight and the valley between me and my people flows during the rainy season and it becomes difficult for me to cross it; I wish you would come to my house and pray at a place so that I could take that place as a praying place.' Allah's Messenger (PBUH) said, 'I will do so.' So Allah's Messenger (PBUH) and Abu Bakr came to my house in the (next) morning after the sun had risen high. Allah's Messenger (PBUH) asked my permission to let him in and I admitted him. He did not sit before saying, 'Where do you want us to offer the prayer in your house?' I pointed to the place where I wanted him to pray. So Allah's Messenger (PBUH) stood up for the prayer and started the prayer with Takbir and we aligned in rows behind him; and he offered two rak`at, and finished them with Taslim, and we also performed Taslim with him. I detained him for a meal called "Khazir" which I had prepared for him.--("Khazir" is a special type of dish prepared from barley flour and meat soup)-- When the neighbors got the news that Allah's Messenger (PBUH) was in my house, they poured it till there were a great number of men in the house. One of them said, 'What is wrong with Malik, for I do not see him?' One of them replied, 'He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle.' On that Allah's Apostle said, 'Don't say this. Haven't you seen that he said, 'None has the right to be worshipped but Allah for Allah's sake only.' The man replied, 'Allah and His Apostle know better; but by Allah, we never saw him but helping and talking with the hypocrites.' Allah's Messenger (PBUH) replied, 'No doubt, whoever says. None has the right to be worshipped but Allah, and by that he wants the pleasures of Allah, then Allah will save him from Hell." Mahmud added, "I told the above narration to some people, one of whom was Abu Aiyub, the companion of Allah's Messenger (PBUH) in the battle in which he (Abu Aiyub) died and Yazid bin Mu'awiya was their leader in Roman Territory. Abu Aiyub denounced the narration and said, 'I doubt that Allah's Messenger (PBUH) ever said what you have said.' I felt that too much, and I vowed to Allah that if I remained alive in that holy battle, I would (go to Medina and) ask `Itban bin Malik if he was still living in the mosque of his people. So when he returned, I assumed Ihram for Hajj or `Umra and then I proceeded on till I reached Medina. I went to Bani Salim and `Itban bin Malik, who was by then an old blind man, was leading his people in the prayer. When he finished the prayer, I greeted him and introduced myself to him and then asked him about that narration. He told that narration again in the same manner as he had narrated it the first time." ھم سے اسحاق بن راھویھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے یعقوب بن ابراھیم نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے ھمارے باپ ابراھیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شھاب نے کھا کھ مجھے محمود بن ربیع انصاری رضی اللھ عنھ نے خبر دی کھ انھیں نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم یاد ھیں اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی وھ کلی بھی یاد ھے جو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کے گھر کے کنویں سے پانی لے کر ان کے منھ میں کی تھی ۔ محمود نے کھا کھ میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللھ عنھ سے سناجو بدر کی لڑائی میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ شریک تھے ، وھ کھتے تھے کھ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا میرے ( گھر ) اور قوم کی مسجد کے بیچ میں ایک نالھ تھا ، اور جب بارش ھوتی تو اسے پار کر کے مسجد تک پھنچنا میرے لیے مشکل ھو جاتا تھا ۔ چنانچھ میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم سے میں نے کھا کھ میری آنکھیں خراب ھو گئی ھیں اور ایک نالھ ھے جو میرے اور میری قوم کے درمیان پڑتا ھے ، وھ بارش کے دنوں میں بھنے لگ جاتا ھے اور میرے لیے اس کا پار کرنا مشکل ھو جاتا ھے ۔ میری یھ خواھش ھے کھ آپ صلی اللھ علیھ وسلم تشریف لا کر میرے گھر کسی جگھ نماز پڑھ دیں تاکھ میں اسے اپنے لیے نماز پڑھنے کی جگھ مقرر کر لوں ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ میں تمھاری یھ خواھش جلد ھی پوری کر وں گا ۔ پھر دوسرے ھی دن آپ صلی اللھ علیھ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ کو ساتھ لے کر صبح تشریف لے آئے اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اجازت چاھی اور میں نے اجازت دے دی ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم تشریف لا کر بیٹھے بھی نھیں بلکھ پوچھا کھ تم اپنے گھر میں کس جگھ میرے لیے نماز پڑھنا پسند کرو گے ۔ میں جس جگھ کو نماز پڑھنے کے لیے پسند کر چکا تھا اس کی طرف میں نے اشارھ کر دیا ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے وھاں کھڑے ھو کر تکبیر تحریمھ کھی اور ھم سب نے آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے پیچھے صف باندھ لی ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ھمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا ۔ ھم نے بھی آپ کے ساتھ سلام پھیرا ۔ میں نے حلیم کھانے کے لیے آپ صلی اللھ علیھ وسلم کو روک لیا جو تیار ھو رھا تھا ۔ محلھ والوں نے جو سنا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم میرے گھر تشریف فرما ھیں تو لوگ جلدی جلدی جمع ھونے شروع ھو گئے اور گھر میں ایک خاصا مجمع ھو گیا ۔ ان میں سے ایک شخص بولا ۔ مالک کو کیا ھو گیا ھے ! یھاں دکھائی نھیں دیتا ۔ اس پر دوسرا بولا وھ تو منافق ھے ۔ اسے خدا اور رسول سے محبت نھیں ھے ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے اس پر فرمایا ۔ ایسا مت کھو ، دیکھتے نھیں کھ وھ «لا إله إلا الله‏» پڑھتا ھے اور اس سے اس کا مقصد اللھ تعالیٰ کی خوشنودی ھے ۔ تب وھ کھنے لگا کھ ( اصل حال ) تو اللھ اور رسول کو معلوم ھے ۔ لیکن واللھ ! ھم تو ان کی بات چیت اور میل جول ظاھر میں منافقوں ھی سے دیکھتے ھیں ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا لیکن اللھ تعالیٰ نے ھر اس آدمی پر دوزخ حرام کر دی ھے جس نے «لا إله إلا الله‏» خدا کی رضا اور خوشنودی کے لیے کھھ لیا ۔ محمود بن ربیع نے بیان کیا کھ میں نے یھ حدیث ایک ایسی جگھ میں بیان کی جس میں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے مشھور صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللھ عنھ بھی موجود تھے ۔ یھ روم کے اس جھاد کا ذکر ھے جس میں آپ کی موت واقع ھوئی تھی ۔ فوج کے سردار یزید بن معاویھ تھے ۔ ابوایوب رضی اللھ عنھ نے اس حدیث سے انکار کیا اور فرمایا کھ خدا کی قسم ! میں نھیں سمجھتا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے ایسی بات کبھی بھی کھی ھو ۔ آپ کی یھ گفتگو مجھ کو بھت ناگوار گزری اور میں نے اللھ تعالیٰ کی منت مانی کھ اگر میں اس جھاد سے سلامتی کے ساتھ لوٹا تو واپسی پر اس حدیث کے بارے میں عتبان بن مالک رضی اللھ عنھ سے ضرور پوچھوں گا ۔ اگر میں نے انھیں ان کی قوم کی مسجد میں زندھ پایا ۔ آخر میں جھاد سے واپس ھوا ۔ پھلے تو میں نے حج اور عمرھ کا احرام باندھا پھر جب مدینھ واپسی ھوئی تو میں قبیلھ بنو سالم میں آیا ۔ حضرت عتبان رضی اللھ عنھ جو بوڑھے اور نابینا ھو گئے تھے ، اپنی قوم کونماز پڑھاتے ھوئے ملے ۔ سلام پھیرنے کے بعد میں نے حاضر ھو کر آپ کو سلام کیا اور بتلایا کھ میں فلاں ھوں ۔ پھر میں نے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھ سے اس مرتبھ بھی اس طرح یھ حدیث بیان کی جس طرح پھلے بیان کی تھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 19 Hadith no 1185
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 21 Hadith no 279


حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اجْعَلُوا فى بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ‏.‏


Chapter: To offer the Nawafil prayers at home

Narrated Ibn `Umar: Allah's Messenger (PBUH) said, "Offer some of your prayers in your houses and do not make them graves." ھم سے عبدا لاعلی بن حماد نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے وھیب بن خالد نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی اور عبیداللھ بن عمر نے ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور انھیں بالکل قبریں نھ بنا لو ( کھ جھاں نماز ھی نھ پڑھی جاتی ھو ) وھیب کے ساتھ اس حدیث کو عبدالوھاب ثقفی نے بھی ایوب سے روایت کیا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 19 Hadith no 1187
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 21 Hadith no 280


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ، فَكَأَنِّي لاَ أُرِيدُ مَكَانًا مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ إِلَيْهِ، وَرَأَيْتُ كَأَنَّ اثْنَيْنِ أَتَيَانِي أَرَادَا أَنْ يَذْهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَتَلَقَّاهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ لَمْ تُرَعْ خَلِّيَا عَنْهُ‏.‏ فَقَصَّتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى رُؤْيَاىَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ‏.‏ وَكَانُوا لاَ يَزَالُونَ يَقُصُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرُّؤْيَا أَنَّهَا فِي اللَّيْلَةِ السَّابِعَةِ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَتْ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيْهَا فَلْيَتَحَرَّهَا مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏"‏‏.‏

Narrated Nafi`: Ibn `Umar said, "In the lifetime of the Prophet (PBUH) I dreamt that a piece of silk cloth was in my hand and it flew with me to whichever part of Paradise I wanted. I also saw as if two persons (i.e. angels) came to me and wanted to take me to Hell. Then an angel met us and told me not to be afraid. He then told them to leave me. Hafsa narrated one of my dreams to the Prophet (PBUH) and the Prophet (PBUH) said, "Abdullah is a good man. Would that he offer the night prayer (Tahajjud)!" So after that day `Abdullah (bin `Umar) started offering Tahajjud. The companions of the Prophet (p.b.u.h) used to tell him their dreams that (Laila-tul-Qadr) was on the 27th of the month of Ramadan. The Prophet (PBUH) said, "I see that your dreams agree on the last ten nights of Ramadan and so whoever is in search of it should seek it in the last ten nights of Ramadan." ھم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے کھ میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے زمانے میں یھ خواب دیکھا کھ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ھاتھ ھے ۔ جیسے میں جنت میں جس جگھ کا بھی ارادھ کرتا ھوں تو یھ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ھے اور میں نے دیکھا کھ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انھوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادھ کیا ھی تھا کھ ایک فرشتھ ان سے آ کر ملا اور ( مجھ سے ) کھا کھ ڈرو نھیں ( اور ان سے کھا کھ ) اسے چھوڑ دو ۔ میری بھن ( ام المؤمنین ) حفصھ رضی اللھ عنھا نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے میرا ایک خواب بیان کیاتو آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ عبداللھ بڑا ھی اچھا آدمی ھے کاش رات کو بھی نماز پڑھا کرتا ۔ عبداللھ رضی اللھ عنھ اس کے بعد ھمیشھ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے ۔ بھت سے صحابھ رضوان اللھ علیھم اجمعین نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے اپنے خواب بیان کئے کھ شب قدر ( رمضان کی ) ستائیسویں رات ھے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ میں دیکھ رھا ھوں کھ تم سب کے خواب رمضان کے آخری عشرے میں ( شب قدر کے ھونے پر ) متفق ھو گئے ھیں ۔ اس لیے جسے شب قدر کی تلاش ھو وھ رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 19 Hadith no 1156, 1157
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 21 Hadith no 255



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.