Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Prayers (Salat)

كتاب الصلاة

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاَتِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ فَأَخَافُ أَنْ تَفْتِنَنِي ‏"‏‏.‏


Chapter: If a person offered Salat (prayer) in a dress with marks and looked at those marks during the Salat

Narrated `Aisha: the Prophet (PBUH) prayed in a Khamisa (a square garment) having marks. During the prayer, he looked at its marks. So when he finished the prayer he said, "Take this Khamisa of mine to Abu Jahm and get me his Inbijaniya (a woolen garment without marks) as it (the Khamisa) has diverted my attention from the prayer."Narrated `Aisha: The Prophet (PBUH) said, 'I was looking at its (Khamisa's) marks during the prayers and I was afraid that it may put me in trial (by taking away my attention). ھم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھمیں ابراھیم بن سعد نے خبر دی ، انھوں نے کھا کھ ھم سے ابن شھاب نے بیان کیا ، انھوں نے عروھ سے ، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا سے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی ۔ جس میں نقش و نگار تھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں ایک مرتبھ دیکھا ۔ پھر جب نماز سے فارغ ھوئے تو فرمایا کھ میری یھ چادر ابوجھم ( عامر بن حذیفھ ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیھ والی چادر لے آؤ ، کیونکھ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا ۔ اور ھشام بن عروھ نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے عائشھ رضی اللھ عنھا سے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا میں نماز میں اس کے نقش و نگار دیکھ رھا تھا ، پس میں ڈرا کھ کھیں یھ مجھے غافل نھ کر دے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 8 Hadith no 373
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 8 Hadith no 369


حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا، فَإِنَّهُ لاَ تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ فِي صَلاَتِي ‏"‏‏.‏


Chapter: If someone offers Salat (prayer) in a garment bearing marks of a cross or picture, will he Salat be annulled? And what is forbidden thereof

Narrated Anas: `Aisha had a Qiram (a thin marked woolen curtain) with which she had screened one side of her home. The Prophet (PBUH) said, "Take away this Qiram of yours, as its pictures are still displayed in front of me during my prayer (i.e. they divert my attention from the prayer). ھم سے ابومعمر عبداللھ بن عمرو نے بیان کیا کھ کھا ھم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے عبدالعزیز بن صھیب نے انس رضی اللھ عنھ سے نقل کیا کھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا کے پاس ایک رنگین باریک پردھ تھا جسے انھوں نے اپنے گھر کے ایک طرف پردھ کے لیے لٹکا دیا تھا ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ میرے سامنے سے اپنا یھ پردھ ھٹا دو ۔ کیونکھ اس پر نقش شدھ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ھوتی رھی ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 8 Hadith no 374
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 8 Hadith no 371


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ وَقَالَ ‏"‏ لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ‏"‏‏.‏


Chapter: Whoever offered Salat (prayer)in a silk Farruj (an outer garment opened at the back) and then took it off.

Narrated `Uqba bin 'Amir: The Prophet (PBUH) was given a silken Farruj [??] as a present. He wore it while praying. When he had finished his prayer, he took it off violently as if with a strong aversion to it and said, "It is not the dress of Allah-fearing pious people." ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے لیث بن سعد نے یزید بن حبیب سے بیان کیا ، انھوں نے ابوالخیر مرثد سے ، انھوں نے عقبھ بن عامر سے ، انھوں نے کھا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کو ایک ریشم کی قباء تحفھ میں دی گئی ۔ اسے آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے پھنا اور نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللھ علیھ وسلم جب نماز سے فارغ ھوئے تو بڑی تیزی کے ساتھ اسے اتار دیا ۔ گویا آپ صلی اللھ علیھ وسلم اسے پھن کر ناگواری محسوس کر رھے تھے ۔ پھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا یھ پرھیزگاروں کے لائق نھیں ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 8 Hadith no 375
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 8 Hadith no 372


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَاكَ الْوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ مِنْ بَيْنِ يَدَىِ الْعَنَزَةِ‏.‏


Chapter: (It is permissible) to offer Salat (prayer) in a red garment

Narrated Abu Juhaifa: I saw Allah's Messenger (PBUH) in a red leather tent and I saw Bilal taking the remaining water with which the Prophet had performed ablution. I saw the people taking the utilized water impatiently and whoever got some of it rubbed it on his body and those who could not get any took the moisture from the others' hands. Then I saw Bilal carrying a short spear (or stick) which he planted in the ground. The Prophet came out tucking up his red cloak, and led the people in prayer and offered two rak`at (facing the Ka`ba) taking a short spear (or stick) as a Sutra for his prayer. I saw the people and animals passing in front of him beyond the stick. ھم سے محمد بن عرعرھ نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے عمر ابن ابی زائدھ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفھ سے ، انھوں نے اپنے والد ابوحجیفھ وھب بن عبداللھ سے کھ میں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمھ میں دیکھا اور میں نے یھ بھی دیکھا کھ بلال رضی اللھ عنھ آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم کو وضو کرا رھے ھیں اور ھر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رھا ھے ۔ اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وھ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نھ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ھاتھ کی تری ھی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ پھر میں نے بلال رضی اللھ عنھ کو دیکھا کھ انھوں نے اپنی ایک برچھی اٹھائی جس کے نیچے لوھے کا پھل لگا ھوا تھا اور اسے انھوں نے گاڑ دیا ۔ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ( ڈیرے میں سے ) ایک سرخ پوشاک پھنے ھوئے تھبند اٹھائے ھوئے باھر تشریف لائے اور برچھی کی طرف منھ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی ، میں نے دیکھا کھ آدمی اور جانور برچھی کے پرے سے گزر رھے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 8 Hadith no 376
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 8 Hadith no 373


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ الْمِنْبَرُ فَقَالَ مَا بَقِيَ بِالنَّاسِ أَعْلَمُ مِنِّي هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلاَنٌ مَوْلَى فُلاَنَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ عُمِلَ، وَوُضِعَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ كَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ، فَهَذَا شَأْنُهُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ـ رَحِمَهُ اللَّهُ ـ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَكُونَ الإِمَامُ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا كَثِيرًا فَلَمْ تَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ لاَ‏.‏

Narrated Abu Hazim: Sahl bin Sa`d was asked about the (Prophet's) pulpit as to what thing it was made of? Sahl replied: "None remains alive amongst the people, who knows about it better than I. It was made of tamarisk (wood) of the forest. So and so, the slave of so and so prepared it for Allah's Messenger (PBUH) . When it was constructed and place (in the Mosque), Allah's Messenger (PBUH) stood on it facing the Qibla and said 'Allahu Akbar', and the people stood behind him (and led the people in prayer). He recited and bowed and the people bowed behind him. Then he raised his head and stepped back, got down and prostrated on the ground and then he again ascended the pulpit, recited, bowed, raised his head and stepped back, got down and prostrate on the ground. So, this is what I know about the pulpit." Ahmad bin Hanbal said, "As the Prophet (PBUH) was at a higher level than the people, there is no harm according to the above-mentioned Hadith if the Imam is at a higher level than his followers during the prayers." ھم سے علی بن عبداللھ مدینی نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے سفیان بن عیینھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے ابوحازم سلمھ بن دینار نے بیان کیا ۔ کھا کھ لوگوں نے سھل بن سعد ساعدی سے پوچھا کھ منبرنبوی کس چیز کا تھا ۔ آپ نے فرمایا کھ اب ( دنیائے اسلام میں ) اس کے متعلق مجھ سے زیادھ جاننے والا کوئی باقی نھیں رھا ھے ۔ منبر غابھ کے جھاؤ سے بنا تھا ۔ فلاں عورت کے غلام فلاں نے اسے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے لیے بنایا تھا ۔ جب وھ تیار کر کے ( مسجد میں ) رکھا گیا تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم اس پر کھڑے ھوئے اور آپ نے قبلھ کی طرف اپنا منھ کیا اور تکبیر کھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ھو گئے ۔ پھر آپ نے قرآن مجید کی آیتیں پڑھیں اور رکوع کیا ۔ آپ کے پیچھے تمام لوگ بھی رکوع میں چلے گئے ۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ۔ پھر اسی حالت میں آپ الٹے پاؤں پیچھے ھٹے ۔ پھر زمین پر سجدھ کیا ۔ پھر منبر پر دوبارھ تشریف لائے اور قرآت رکوع کی ، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قبلھ ھی کی طرف رخ کئے ھوئے پیچھے لوٹے اور زمین پر سجدھ کیا ۔ یھ ھے منبر کا قصھ ۔ امام ابوعبداللھ بخاری نے کھا کھ علی بن عبداللھ مدینی نے کھا کھ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو پوچھا ۔ علی نے کھا کھ میرا مقصد یھ ھے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نماز میں لوگوں سے اونچے مقام پر کھڑے ھوئے تھے اس لیے اس میں کوئی حرج نھ ھونا چاھیے کھ امام مقتدیوں سے اونچی جگھ پر کھڑا ھو ۔ علی بن مدینی کھتے ھیں کھ میں نے امام احمد بن حنبل سے کھا کھ سفیان بن عیینھ سے یھ حدیث اکثر پوچھی جاتی تھی ، آپ نے بھی یھ حدیث ان سے سنی ھے تو انھوں نے جواب دیا کھ نھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 8 Hadith no 377
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 8 Hadith no 374


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ، فَجُحِشَتْ سَاقُهُ أَوْ كَتِفُهُ، وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَجَلَسَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا، وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ‏"‏‏.‏ وَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik: Once Allah's Messenger (PBUH) fell off a horse and his leg or shoulder got injured. He swore that he would not go to his wives for one month and he stayed in a Mashruba [??] (attic room) having stairs made of date palm trunks. So his companions came to visit him, and he led them in prayer sitting, whereas his companions were standing. When he finished the prayer, he said, "Imam is meant to be followed, so when he says 'Allahu Akbar,' say 'Allahu Akbar' and when he bows, bow and when he prostrates, prostrate and if he prays standing pray, standing. After the 29th day the Prophet (PBUH) came down (from the attic room) and the people asked him, "O Allah's Messenger (PBUH)! You swore that you will not go to your wives for one month." He said, "The month is 29 days." ھم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کھ کھا ھم سے یزید بن ھارون نے ، کھا ھم کو حمید طویل نے خبر دی انس بن مالک رضی اللھ عنھ سے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ( 5 ھ میں ) اپنے گھوڑے سے گر گئے تھے ۔ جس سے آپ کی پنڈلی یا کندھا زخمی ھو گئے اور آپ نے ایک مھینے تک اپنی بیویوں کے پاس نھ جانے کی قسم کھائی ۔ آپ اپنے بالاخانھ پر بیٹھ گئے ۔ جس کے زینے کھجور کے تنوں سے بنائے گئے تھے ۔ صحابھ رضی اللھ عنھم مزاج پرسی کو آئے ۔ آپ نے انھیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور وھ کھڑے تھے ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا کھ امام اس لیے ھے کھ اس کی پیروی کی جائے ۔ پس جب وھ تکبیر کھے تو تم بھی تکبیر کھو اور جب وھ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وھ سجدھ کرے تو تم بھی سجدھ کرو اور اگر کھڑے ھو کر تمھیں نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ھو کر نماز پڑھو اور آپ انتیس دن بعد نیچے تشریف لائے ، تو لوگوں نے کھا یا رسول اللھ ! آپ نے تو ایک مھینھ کے لیے قسم کھائی تھی ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ یھ مھینھ انتیس دن کا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 8 Hadith no 378
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 8 Hadith no 375



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.