Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Praying at Night in Ramadaan (Taraweeh)

كتاب صلاة التراويح

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِرَمَضَانَ ‏"‏ مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏


Chapter: The superiority of Nawafil at night in Ramadan

Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Messenger (PBUH) saying regarding Ramadan, "Whoever prayed at night in it (the month of Ramadan) out of sincere Faith and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven." ھم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شھاب نے بیان کیا ، کھ مجھے ابوسلمھ نے خبر دی ، ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ میں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم رمضان کے فضائل بیان فرما رھے تھے کھ جو شخص بھی اس میں ایمان اور نیت اجر و ثواب کے ساتھ ( رات میں ) نماز کے لیے کھڑا ھو اس کے اگلے تمام گناھ معاف کر دیئے جائیں گے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 31 Hadith no 2008
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 32 Hadith no 226


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "Whoever prayed at night the whole month of Ramadan out of sincere Faith and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven." Ibn Shihab (a sub-narrator) said, "Allah's Messenger (PBUH) died and the people continued observing that (i.e. Nawafil offered individually, not in congregation), and it remained as it was during the Caliphate of Abu Bakr and in the early days of 'Umar's Caliphate." ھم سے عبداللھ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کھا کھ ھم کو امام مالک رحمھ اللھ نے خبر دی ، انھیں ابن شھاب نے ، انھیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور انھیں ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کی راتوں میں ( بیدار رھ کر ) نماز تراویح پڑھی ، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ ، اس کے اگلے تمام گناھ معاف ھو جائیں گے ۔ ابن شھاب نے بیان کیا کھ پھر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی وفات ھو گئی اور لوگوں کا یھی حال رھا ( الگ الگ اکیلے اور جماعتوں سے تراویح پڑھتے تھے ) اس کے بعد ابوبکر رضی اللھ عنھ کے دور خلافت میں اور عمر رضی اللھ عنھ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی ایسا ھی رھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 31 Hadith no 2009
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 32 Hadith no 227


وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ، إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ‏.‏ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ‏.‏ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ‏.‏

'Abdur Rahman bin 'Abdul Qari said, "I went out in the company of 'Umar bin Al-Khattab one night in Ramadan to the mosque and found the people praying in different groups. A man praying alone or a man praying with a little group behind him. So, 'Umar said, 'In my opinion I would better collect these (people) under the leadership of one Qari (Reciter) (i.e. let them pray in congregation!)'. So, he made up his mind to congregate them behind Ubai bin Ka'b. Then on another night I went again in his company and the people were praying behind their reciter. On that, 'Umar remarked, 'What an excellent Bid'a (i.e. innovation in religion) this is; but the prayer which they do not perform, but sleep at its time is better than the one they are offering.' He meant the prayer in the last part of the night. (In those days) people used to pray in the early part of the night." اور ابن شھاب سے ( امام مالک رحمھ اللھ ) کی روایت ھے ، انھوں نے عروھ بن زبیر رضی اللھ عنھ سے اور انھوں نے عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت کی کھ انھوں نے بیان کیا میں عمر بن خطاب رضی اللھ عنھ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا ۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے ، کوئی اکیلا نماز پڑھ رھا تھا ، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ھوئے تھے ۔ اس پر عمر رضی اللھ عنھ نے فرمایا ، میرا خیال ھے کھ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادھ اچھا ھو گا ، چنانچھ آپ نے یھی ٹھان کر ابی بن کعب رضی اللھ عنھ کو ان کا امام بنا دیا ۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کھ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز ( تراویح ) پڑھ رھے ھیں ۔ حضرت عمر رضی اللھ عنھ نے فرمایا ، یھ نیا طریقھ بھتر اور مناسب ھے اور ( رات کا ) وھ حصھ جس میں یھ لوگ سو جاتے ھیں اس حصھ سے بھتر اور افضل ھے جس میں یھ نماز پڑھتے ھیں ۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصھ ( کی فضیلت ) سے تھی کیونکھ لوگ یھ نماز رات کے شروع ھی میں پڑھ لیتے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 31 Hadith no 2010
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 32 Hadith no 227


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ‏.‏

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) Allah's Messenger (PBUH) used to pray (at night) in Ramadan. ھم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابن شھاب نے ، ان سے عروھ بن زبیر رضی اللھ عنھ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی زوجھ مطھرھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک بار نماز ( تراویح ) پڑھی اور یھ رمضان میں ھوا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 31 Hadith no 2011
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 32 Hadith no 228


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، وَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى، فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَىَّ مَكَانُكُمْ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا ‏"‏‏.‏ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ

Narrated 'Urwa: That he was informed by `Aisha, "Allah's Messenger (PBUH) went out in the middle of the night and prayed in the mosque and some men prayed behind him. In the morning, the people spoke about it and then a large number of them gathered and prayed behind him (on the second night). In the next morning the people again talked about it and on the third night the mosque was full with a large number of people. Allah's Messenger (PBUH) came out and the people prayed behind him. On the fourth night the Mosque was overwhelmed with people and could not accommodate them, but the Prophet (PBUH) came out (only) for the morning prayer. When the morning prayer was finished he recited Tashah-hud and (addressing the people) said, "Amma ba'du, your presence was not hidden from me but I was afraid lest the night prayer (Qiyam) should be enjoined on you and you might not be able to carry it on." So, Allah's Apostle died and the situation remained like that (i.e. people prayed individually). " اور ھم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شھاب نے ، انھیں عروھ نے خبر دی اور انھیں عائشھ رضی اللھ عنھا نے خبر دی کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ایک مرتبھ ( رمضان کی ) نصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وھاں تراویح کی نماز پڑھی ۔ کچھ صحابھ رضی اللھ عنھم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ھو گئے ۔ صبح ھوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا ۔ چنانچھ دوسری رات میں لوگ پھلے سے بھی زیادھ جمع ھو گئے اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ دوسری صبح کو اور زیادھ چرچا ھوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادھ لوگ جمع ھو گئے ۔ آپ نے ( اس رات بھی ) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی اقتداء کی ۔ چوتھی رات کو یھ عالم تھا کھ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگھ بھی باقی نھیں رھی تھی ۔ ( لیکن اس رات آپ برآمد ھی نھیں ھوئے ) بلکھ صبح کی نماز کے لیے باھر تشریف لائے ۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجھ ھو کر شھادت کے بعد فرمایا ۔ امابعد ! تمھارے یھاں جمع ھونے کا مجھے علم تھا ، لیکن مجھے خوف اس کا ھوا کھ کھیں یھ نماز تم پر فرض نھ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ھو جاؤ ، چنانچھ جب نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی وفات ھوئی تو یھی کیفیت قائم رھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 31 Hadith no 2012
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 32 Hadith no 229


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلاَ فِي غَيْرِهَا عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَىَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Salama bin `Abdur Rahman: that he asked `Aisha "How was the prayer of Allah's Messenger (PBUH) in Ramadan?" She replied, "He did not pray more than eleven rak`at in Ramadan or in any other month. He used to pray four rak`at ---- let alone their beauty and length----and then he would pray four ----let alone their beauty and length ---- and then he would pray three rak`at (witr)." She added, "I asked, 'O Allah's Messenger (PBUH)! Do you sleep before praying the witr?' He replied, 'O `Aisha! My eyes sleep but my heart does not sleep." ھم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے امام مالک رحمھ اللھ نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے ، ان سے ابوسلمھ بن عبدالرحمٰن نے کھ انھوں نے عائشھ رضی اللھ عنھا سے پوچھا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ( تراویح یا تھجد کی نماز ) رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ؟ تو انھوں نے بتلایا کھ رمضان ھو یا کوئی اور مھینھ آپ گیارھ رکعتوں سے زیادھ نھیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم پھلی چار رکعت پڑھتے ، تم ان کے حسن و خوبی اور طول کا حال نھ پوچھو ، پھر چار رکعت پڑھتے ، ان کے بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نھ پوچھو ، آخر میں تین رکعت ( وتر ) پڑھتے تھے ۔ میں نے ایک بار پوچھا ، یا رسول اللھ ! کیا اپ وتر پڑھنے سے پھلے سو جاتے ھیں ؟ تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، عائشھ ! میری آنکھیں سوتی ھیں لیکن میرا دل نھیں سوتا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 31 Hadith no 2013
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 32 Hadith no 230



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.