Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Prophets

كتاب أحاديث الأنبياء

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No. 591) ھم سے عبداللھ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریھ نے بیان کیا ‘ انھوں نے کھا ھم سے جویریھ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زھری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدھ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ‘ اللھ تعالیٰ لوط علیھ السلام پر رحم فرمائے کھ وھ زبردست رکن ( یعنی خداوند کریم ) کی پناھ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رھتا جتنی یوسف علیھ السلام رھے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاھ کا آدمی ) بلانے کے لئے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3387
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 601


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ رُومَانَ، وَهْىَ أُمُّ عَائِشَةَ، عَمَّا قِيلَ فِيهَا مَا قِيلَ قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ عَائِشَةَ جَالِسَتَانِ، إِذْ وَلَجَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَهْىَ تَقُولُ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلاَنٍ وَفَعَلَ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ لِمَ قَالَتْ إِنَّهُ نَمَا ذِكْرَ الْحَدِيثِ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَىُّ حَدِيثٍ فَأَخْبَرَتْهَا‏.‏ قَالَتْ فَسَمِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلاَّ وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا لِهَذِهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ حُمَّى أَخَذَتْهَا مِنْ أَجْلِ حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ، فَقَعَدَتْ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لاَ تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنِ اعْتَذَرْتُ لاَ تَعْذِرُونِي، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، فَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏.‏ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ مَا أَنْزَلَ، فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لاَ بِحَمْدِ أَحَدٍ‏.‏

Narrated Masruq: I asked Um Ruman, `Aisha's mother about the accusation forged against `Aisha. She said, "While I was sitting with `Aisha, an Ansari woman came to us and said, 'Let Allah condemn such-and-such person.' I asked her, 'Why do you say so?' She replied, 'For he has spread the (slanderous) story.' `Aisha said, 'What story?' The woman then told her the story. `Aisha asked, 'Have Abu Bakr and Allah's Messenger (PBUH) heard about it ?' She said, 'Yes.' `Aisha fell down senseless (on hearing that), and when she came to her senses, she got fever and shaking of the body. The Prophet (PBUH) came and asked, 'What is wrong with her?' I said, 'She has got fever because of a story which has been rumored.' `Aisha got up and said, 'By Allah! Even if I took an oath, you would not believe me, and if I put forward an excuse, You would not excuse me. My example and your example is just like that example of Jacob and his sons. Against that which you assert, it is Allah (Alone) Whose Help can be sought.' (12.18) The Prophet (PBUH) left and then Allah revealed the Verses (concerning the matter), and on that `Aisha said, 'Thanks to Allah (only) and not to anybody else." ھم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کھا ھم کو محمد بن فضیل نے خبر دی ‘ کھا ھم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے مسروق نے بیان کیا کھ میں نے عائشھ رضی اللھ عنھا کی والدھ ام رومان رضی اللھ عنھا سے عائشھ رضی اللھ عنھا کے بارے میں جو بھتان تراشا گیا تھا اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کھا کھ عائشھ رضی اللھ عنھا کے ساتھ بیٹھی ھوئی تھی کھ ایک انصاریھ عورت ھمارے یھاں آئی اور کھا کھ اللھ فلاں ( مسطح بن اثاثھ ) کو تباھ کر دے اور وھ اسے تباھ کر بھی چکا انھوں نے بیان کیا کھ میں نے کھا آپ یھ کیا کھھ رھی ھیں انھوں نے بتایا کھ اسی نے تو یھ جھوٹ مشھور کیا ھے ۔ پھر انصاریھ عورت نے ( حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا پر تھمت کا سارا ) واقعھ بیان کیا ‘ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے ( اپنی والدھ سے ) پوچھا کھ کون سا واقعھ ؟ تو ان کی والدھ نے انھیں واقعھ کی تفصیل بتائی ۔ عائشھ نے پوچھا کھ کیا یھ قصھ ابوبکر رضی اللھ عنھ اور رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو بھی معلوم ھو گیا ھے ؟ ان کی والدھ نے بتایا کھ ھاں ۔ یھ سنتے ھی حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا بیھوش ھو کر گر پڑیں اور جب ھوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ھوا تھا ۔ پھر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کھ انھیں کیا ھوا ؟ میں نے کھا کھ ایک بات ان سے ایسی کھی گئی تھی اور اسی کے صدمے سے ان کو بخار آ گیا ھے ۔ پھر حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کھا اللھ کی قسم ! اگر میں قسم کھاؤں جب بھی آپ لوگ میری بات نھیں مان سکتے اور اگر کوئی عذر بیان کروں تو اسے بھی تسلیم نھیں کر سکتے ۔ بس میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیھ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ھے ( کھ انھوں نے اپنے بیٹوں کی من گھڑت کھانی سن کر فرمایا تھا کھ ) ” جو کچھ تم کھھ رھے ھو میں اس پر اللھ ھی کی مدد چاھتا ھوں ۔ “ اس کے بعد آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اللھ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا وھ نازل فرمایا ۔ جب آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اس کی خبر عائشھ رضی اللھ عنھا کو دی تو انھوں نے کھا کھ اس کے لئے میں صرف اللھ کا شکر ادا کرتی ھوں کسی اور کا نھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3388
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 602


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتِ قَوْلَهُ ‏{‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا‏}‏ أَوْ كُذِبُوا‏.‏ قَالَتْ بَلْ كَذَّبَهُمْ قَوْمُهُمْ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ وَمَا هُوَ بِالظَّنِّ‏.‏ فَقَالَتْ يَا عُرَيَّةُ، لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ‏.‏ قُلْتُ فَلَعَلَّهَا أَوْ كُذِبُوا‏.‏ قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ، لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا وَأَمَّا هَذِهِ الآيَةُ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلاَءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَتْ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، وَظَنُّوا أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ‏{‏اسْتَيْأَسُوا‏}‏ افْتَعَلُوا مِنْ يَئِسْتُ‏.‏ ‏{‏مِنْهُ‏}‏ مِنْ يُوسُفَ‏.‏ ‏{‏لاَ تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ‏}‏ مَعْنَاهُ الرَّجَاءُ‏.‏

Narrated `Urwa: I asked `Aisha the wife of the Prophet (PBUH) about the meaning of the following Verse: -- "(Respite will be granted) 'Until when the apostles give up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people)..............."(12.110) `Aisha replied, "Really, their nations did not believe them." I said, "By Allah! They were definite that their nations treated them as liars and it was not a matter of suspecting." `Aisha said, "O 'Uraiya (i.e. `Urwa)! No doubt, they were quite sure about it." I said, "May the Verse be read in such a way as to mean that the apostles thought that Allah did not help them?" Aisha said, "Allah forbid! (Impossible) The Apostles did not suspect their Lord of such a thing. But this Verse is concerned with the Apostles' followers who had faith in their Lord and believed in their apostles and their period of trials was long and Allah's Help was delayed till the apostles gave up hope for the conversion of the disbelievers amongst their nation and suspected that even their followers were shaken in their belief, Allah's Help then came to them." ھم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شھاب نے ‘ کھا کھ مجھے عروھ نے خبر دی کھ انھوں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی زوجھ مطھرھ عائشھ رضی اللھ عنھا سے آیت کے متعلق پوچھاحتیٰ اذا استیئس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا ( تشدید کے ساتھ ) ھے یا کذبوا ( بغیر تشدید کے ) یعنی یھاں تک کھ جب انبیاء ناامید ھو گئے اور انھیں خیال گزرنے لگا کھ انھیں جھٹلا دیا گیا تو اللھ کی مدد پھنچی تو انھوں نے کھا کھ ( یھ تشدید کے ساتھ ھے اور مطلب یھ ھے کھ ) ان کی قوم نے انھیں جھٹلایا تھا ۔ میں نے عرض کیا کھ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ھی کھ ان کی قوم انھیں جھٹلا رھی ھے ۔ پھر قرآن میں لفظ ظن گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا ؟ عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھا اے چھوٹے سے عروھ ! بیشک ان کو تو یقین تھا میں نے کھا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے کذبوا ھو گا یعنی پیغمبر یھ سمجھے کھ اللھ نے جو ان کی مدد کا وعدھ کیا تھا وھ غلط تھا ۔ عائشھ رضی اللھ عنھا نے فرمایا معاذاللھ ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ھیں ۔ عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھا مراد یھ ھے کھ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک خدا کی آزمائش رھی اور مدد آنے میں دیر ھوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ھو گئے ( سمجھے کھ اب وھ ایمان نھیں لائیں گے ) اور انھوں نے یھ گمان کیا کھ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ھیں وھ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللھ کی مدد آن پھنچی ۔ ابوعبداللھ ( امام بخاری رحمھ اللھ ) نے کھا کھ استیاسوا ‘ افتعلوا کے وزن پر ھے جو یئستمنھ سے نکلا ھے ‘ ای من یوسف ( سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملھ ھے یعنی زلیخا یوسف علیھ السلام سے ناامید ھو گئی » لا تایئسوا من رّوح اللّٰھ « ( یوسف : 87 ) یعنی اللھ سے امید رکھو ناامید نھ ھو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3389
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 603


أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Umar: The Prophet (PBUH) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph, the son of Jacob! the son of Isaac, the son of Abraham." مجھے عبدھ بن عبداللھ نے خبر دی ‘ انھوں نے کھا ھم سے عبدالصمد نے بیان کیا ۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللھ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ‘ شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراھیم علیھم السلام ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3390
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 603


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing."' مجھ سے عبداللھ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کھا ھم کو معمر نے خبر دی ‘ انھیں ھمام نے اور انھیں حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ‘ ایوب علیھ السلام ننگے غسل کر رھے تھے کھ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں ۔ وھ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے ۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کھ اے ایوب ! جو کچھ تم دیکھ رھے ھو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمھیں اس سے بےپروا نھیں کر دیا ھے ؟ انھوں نے عرض کیا کھ صحیح ھے ‘ اے رب العزت لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ھو سکتا ھوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3391
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 604


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ رَجُلاً تَنَصَّرَ يَقْرَأُ الإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ‏.‏ فَقَالَ وَرَقَةُ مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ‏.‏ فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، وَإِنْ أَدْرَكَنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا‏.‏ النَّامُوسُ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ‏.‏

Narrated `Aisha: The Prophet (PBUH) returned to Khadija while his heart was beating rapidly. She took him to Waraqa bin Naufal who was a Christian convert and used to read the Gospels in Arabic Waraqa asked (the Prophet), "What do you see?" When he told him, Waraqa said, "That is the same angel whom Allah sent to the Prophet) Moses. Should I live till you receive the Divine Message, I will support you strongly." ھم سے عبداللھ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کھا کھ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘‘ ان سے ابن شھاب نے ‘ انھوں نے عروھ بن زبیر سے سنا ‘ انھوں نے بیان کیا کھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھا ‘ پھر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ( غار حراء سے ) ام المؤمنین حضرت خدیجھ رضی اللھ عنھا کے پاس لوٹ آئے تو آپ کا دل دھڑک رھا تھا ۔ حضرت خدیجھ رضی اللھ عنھا آپ کو ورقھ بن نوفل کے پاس لے گئیں ، وھ نصرانی ھو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے ۔ ورقھ نے پوچھا کھ آپ کیا دیکھتے ھیں ؟ آپ نے انھیں بتایا تو انھوں نے کھا کھ یھی ھیں وھ ” ناموس “ جنھیں اللھ تعالیٰ نے موسیٰ علیھ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمھارے زمانے تک زندھ رھا تو میں تمھاری پوری مدد کروں گا ۔ ناموس محرم راز کو کھتے ھیں جو ایسے راز سے بھی آگاھ ھو جو آدمی دوسروں سے چھپائے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3392
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 605



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.