Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Prophets

كتاب أحاديث الأنبياء

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ‏.‏ هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "Shall I not tell you about the Dajjal a story of which no prophet told his nation? The Dajjall is one-eyed and will bring with him what will resemble Hell and Paradise, and what he will call Paradise will be actually Hell; so I warn you (against him) as Noah warned his nation against him." ھم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ھم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمھ نے اور انھوں نے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، کیوں نھ میں تمھیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتا دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نھیں بتائی ۔ وھ کانا ھو گا اور جنت اور جھنم جیسی چیز لائے گا ۔ پس جسے وھ جنت کھے گا درحقیقت وھی دوزخ ھو گی اور میں تمھیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ھوں ، جیسے نوح علیھ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3338
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 554


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَجِيءُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ، أَىْ رَبِّ‏.‏ فَيَقُولُ لأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لاَ، مَا جَاءَنَا مِنْ نَبِيٍّ‏.‏ فَيَقُولُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَأُمَّتُهُ، فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَهْوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ‏}‏ وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id: Allah's Messenger (PBUH) said, "Noah and his nation will come (on the Day of Resurrection and Allah will ask (Noah), "Did you convey (the Message)?' He will reply, 'Yes, O my Lord!' Then Allah will ask Noah's nation, 'Did Noah convey My Message to you?' They will reply, 'No, no prophet came to us.' Then Allah will ask Noah, 'Who will stand a witness for you?' He will reply, 'Muhammad and his followers (will stand witness for me).' So, I and my followers will stand as witnesses for him (that he conveyed Allah's Message)." That is, (the interpretation) of the Statement of Allah: "Thus we have made you a just and the best nation that you might be witnesses Over mankind .." (2.143) ھم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، ھم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، ھم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ( قیامت کے دن ) نوح علیھ السلام بارگاھ الٰھی میں حاضر ھوں گے ۔ اللھ تعالیٰ دریافت فرمائے گا ، کیا ( میرا پیغام ) تم نے پھنچا دیا تھا ؟ نوح علیھ السلام عرض کریں گے میں نے تیرا پیغام پھنچا دیا تھا ، اے رب العزت ! اب اللھ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا ، کیا ( نوح علیھ السلام نے ) تم تک میرا پیغام پھنچا دیا تھا ؟ وھ جواب دیں گے نھیں ، ھمارے پاس تیرا کوئی نبی نھیں آیا ۔ اس پر اللھ تعالیٰ نوح علیھ السلام سے دریافت فرمائے گا ، اس کے لیے آپ کی طرف سے کوئی گواھی بھی دے سکتا ھے ؟ وھ عرض کریں گے کھ محمد صلی اللھ علیھ وسلم اور ان کی امت ( کے لوگ میرے گواھ ھیں ) چنانچھ ھم اس بات کی شھادت دیں گے کھ نوح علیھ السلام نے پیغام خداوندی اپنی قوم تک پھنچایا تھا اور یھی مفھوم اللھ جل ذکرھ کے اس ارشاد کا ھے کھ ” اور اسی طرح ھم نے تمھیں امت وسط بنایا ‘ تاکھ تم لوگوں پر گواھی دو “ ۔ اور وسط کے معنی درمیانی کے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3339
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 555


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَعْوَةٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ ‏"‏ أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هَلْ تَدْرُونَ بِمَنْ يَجْمَعُ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَلاَ تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ، إِلَى مَا بَلَغَكُمْ، أَلاَ تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ، أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَنَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ‏.‏ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا، أَمَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، نَفْسِي نَفْسِي، ائْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَيَأْتُونِي، فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ لاَ أَحْفَظُ سَائِرَهُ‏.‏

Narrated Abu Huraira: We were in the company of the Prophet (PBUH) at a banquet and a cooked (mutton) forearm was set before him, and he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know how Allah will gather all the first and the last (people) in one level place where an observer will be able to see (all) of them and they will be able to hear the announcer, and the sun will come near to them. Some People will say: Don't you see, in what condition you are and the state to which you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? Some people will say: Appeal to your father, Adam.' They will go to him and say: 'O Adam! You are the father of all mankind, and Allah created you with His Own Hands, and ordered the angels to prostrate for you, and made you live in Paradise. Will you not intercede for us with your Lord? Don't you see in what (miserable) state we are, and to what condition we have reached?' On that Adam will reply, 'My Lord is so angry as He has never been before and will never be in the future; (besides), He forbade me (to eat from) the tree, but I disobeyed (Him), (I am worried about) myself! Myself! Go to somebody else; go to Noah.' They will go to Noah and say; 'O Noah! You are the first amongst the messengers of Allah to the people of the earth, and Allah named you a thankful slave. Don't you see in what a (miserable) state we are and to what condition we have reached? Will you not intercede for us with your Lord? Noah will reply: 'Today my Lord has become so angry as he had never been before and will never be in the future Myself! Myself! Go to the Prophet (Muhammad). The people will come to me, and I will prostrate myself underneath Allah's Throne. Then I will be addressed: 'O Muhammad! Raise your head; intercede, for your intercession will be accepted, and ask (for anything). for you will be given. " مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، ھم سے محمد بن عبید نے بیان کیا ، ھم سے ابوحیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابوزرعھ نے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ھم نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بھت مرغوب تھا ۔ آپ نے اس دستی کی ھڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا ۔ پھر فرمایا کھ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ھوں گا ۔ تمھیں معلوم ھے کھ کس طرح اللھ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا ؟ اس طرح کھ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ۔ آواز دینے والے کی آواز ھر جگھ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ھو جائے گا ۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کھے گا ، دیکھتے نھیں کھ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ھیں ؟ اور مصیبت کس حد تک پھنچ چکی ھے ؟ کیوں نھ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللھ پاک کی بارگاھ میں ھم سب کی شفاعت کے لیے جائے ۔ کچھ لوگوں کا مشورھ ھو گا کھ دادا آدم علیھ السلام اس کے لیے مناسب ھیں ۔ چنانچھ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ھوں گے اور عرض کریں گے ، اے باوا آدم ! آپ انسانوں کے دادا ھیں ۔ اللھ پاک نے آپ کو اپنے ھاتھ سے پیدا کیا تھا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی ، ملائکھ کو حکم دیا تھا اور انھوں نے آپ کو سجدھ کیا تھا اور جنت میں آپ کو ( پیدا کرنے کے بعد ) ٹھھرایا تھا ۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ھماری شفاعت کر دیں ۔ آپ خود ملاحظھ فرما سکتے ھیں کھ ھم کس درجھ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ھیں ۔ وھ فرمائیں گے کھ ( گناھ گاروں پر ) اللھ تعالیٰ آج اس درجھ غضبناک ھے کھ کبھی اتنا غضبناک نھیں ھوا تھا اور نھ آئندھ کبھی ھو گا اور مجھے پھلے ھی درخت ( جنت ) کے کھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاھی کر گیا ۔ آج تو مجھے اپنی ھی پڑی ھے ( نفسی نفسی ) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ھاں ، نوح علیھ السلام کے پاس جاؤ ۔ چنانچھ سب لوگ نوح علیھ السلام کی خدمت میں حاضر ھوں گے اور عرض کریں گے ، اے نوح علیھ السلام ! آپ ( آدم علیھ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پھلے نبی ھیں اور اللھ تعالیٰ نے آپ کو ” عبدشکور “ کھھ کر پکارا ھے ۔ آپ ملاحظھ فرما سکتے ھیں کھ آج ھم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ھیں ؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ھماری شفاعت کر دیجئیے ۔ وھ بھی یھی جواب دیں گے کھ میرا رب آج اس درجھ غضبناک ھے کھ اس سے پھلے کبھی ایسا غضبناک نھیں ھوا تھا اور نھ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ھو گا ۔ آج تو مجھے خود اپنی ھی فکر ھے ۔ ( نفسی نفسی ) تم نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں جاؤ چنانچھ وھ لوگ میرے پاس آئیں گے ۔ میں ( ان کی شفاعت کے لیے ) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا ۔ پھر آواز آئے گی ، اے محمد ! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ مانگو تمھیں دیا جائے گا ۔ محمد بن عبیداللھ نے بیان کیا کھ ساری حدیث میں یاد نھ رکھ سکا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3340
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 556


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏ مِثْلَ قِرَاءَةِ الْعَامَّةِ‏.‏

Narrated `Abdullah: Allah's Messenger (PBUH) recited the following Verse) in the usual tone: 'Fahal-Min-Muddalkir.' (54.15) ھم سے نصر بن علی بن نصر نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم کو ابواحمد نے خبر دی ، انھیں سفیان نے انھیں ابواسحاق نے انھیں اسود بن یزید نے اور انھیں عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ( آیت ) » فھل من مدکر « مشھور قرآت کے مطابق ( ادغام کے ساتھ ) تلاوت فرمائی تھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3341
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 557


قَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ كَانَ أَبُو ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ‏.‏ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ‏.‏ قَالَ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ مَعِيَ مُحَمَّدٌ‏.‏ قَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ، فَافْتَحْ‏.‏ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ، حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ‏.‏ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الأَوَّلُ، فَفَتَحَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ إِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّادِسَةِ‏.‏ وَقَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِإِدْرِيسَ‏.‏ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عِيسَى‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ‏.‏ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولاَنِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الأَقْلاَمِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ خَمْسِينَ صَلاَةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى مَا الَّذِي فُرِضَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاَةً‏.‏ قَالَ فَرَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ‏.‏ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ، وَهْىَ خَمْسُونَ، لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ‏.‏ فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، ثُمَّ انْطَلَقَ، حَتَّى أَتَى السِّدْرَةَ الْمُنْتَهَى، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ ‏{‏الْجَنَّةَ‏}‏ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ‏"‏‏.‏


Chapter: The reference to Idris alayhis-salam

Narrated Anas (ra): Abu Dhar (ra) used to say that Allah's Messenger (PBUH) said, "While I was at Makkah, the roof of my house was opened and Jibril descended, opened my chest, and washed it with Zamzam water. Then he brought a golden tray full of wisdom and faith, and having poured its contents into my chest, he closed it. Then he took my hand and ascended with me to the heaven. When Jibril reached the nearest heaven, he said to the gatekeeper of the heaven, 'Open (the gate).' The gatekeeper asked, 'who is it?' Jibril answered, 'Jibril'. He asked, 'Is there anyone with you?' Jibril replied, 'Muhammad (PBUH) is with me.' He asked, 'Has he been called?', Jibril said, 'Yes'. So, the gate was opened and we went over the nearest heaven, and there we saw a man sitting with Aswida (a large number of people) of his right and Aswida on his left. When he looked towards his right, he laughed and when he looked towards his left he wept. He said (to me), 'Welcome, O pious Prophet and pious son'. I said, 'Who is this man O Jibril?' Jibril replied, 'He is Adam, and the people on his right and left are the souls of his offspring. Those on the right are the people of Paradise, and those on the left are the people of the (Hell) Fire. So, when he looks to the right, he laughs, and when he looks to the left he weeps.' Then Jibril ascended with me till he reached the second heaven and said to the gatekeeper, 'Open (the gate).' The gatekeeper said to him the same as the gatekeeper of the first heaven has said, and he opened the gate." Anas added: Abu Dhar mentioned that Prophet (PBUH) met Idris, Musa (Moses), 'Isa (Jesus) and Ibrahim (Abraham) over the heavens, but he did not specify their places (i.e., on which heavens each of them was), but he mentioned that he (the Prophet (PBUH)) had met Adam on the nearest heaven, and Ibrahim on the sixth. Anas said, "When Jibril and the Prophet (PBUH) passed by Idris, the latter said, 'Welcome, O pious Prophet and pious brother!' the Prophet (PBUH) asked, 'Who is he?' Jibril said, 'He is Idris.' " The Prophet (PBUH) added, "Then I passed by Musa who said, 'Welcome, O pious Prophet and pious brother!' I said, 'Who is he?' Jibril said, 'He is Musa.' Then I passed by 'Isa who said, 'Welcome, O pious Prophet and pious brother!' I said, 'Who is he?' He replied, 'He is 'Isa.' Then I passed by the Prophet (PBUH) Ibrahim who said, 'Welcome, O pious Prophet and pious son!' I said, 'Who is he?' Jibril replied, 'He is Ibrahim'." Narrated Ibn 'Abbas and Abu Haiyya Al-Ansari: The Prophet (PBUH) said, "Then Jibril ascended with me to a place where I heard the creaking of pens." Ibn Hazm and Anas bin Malik state the Prophet (PBUH) said, "Allah enjoined fifty Salat (prayers) on me. When I returned with this order of Allah, I passed by Musa who asked me, 'What has Allah enjoined on your followers?' I replied, 'He has enjoined fifty Salat (prayers) on them.' On the Musa said to me, 'Go back to your Lord (and appeal for reduction), for your followers will not be able to bear it.' So, I returned to my Lord and asked for some reduction, and He reduced it to half. When I passed by Musa again and informed him about it, he once more said to me, 'Go back to your Lord, for your followers will not be able to bear it.' So, I returned to my Lord similarly as before, and half of it was reduced. I again passed by Musa and he said to me, 'Go back to your Lord, for your followers will not be able to bear it.' I again returned to my Lord and He said, 'These are five (Salat-prayers) and they are all (equal to) fifty (in reward), for My Word does not change.' I returned to Musa, he again told me to return to my Lord (for further reduction) but I said to him 'I feel shy of asking my Lord now.' Then Jibril took me till we reached Sidrat-ul-Muntaha (i.e., lote tree of utmost boundary) which was shrouded in colors indescribable. Then I was admitted into Paradise where I found small tents (made) of pearls and its earth was musk (a kind of perfume)." عبدان نے کھا کھ ھمیں عبداللھ نے خبر دی ، انھیں یونس نے خبر دی اور انھیں زھری نے ، ( دوسری سند ) اور ھم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کھا ھم سے عنبسھ نے ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شھاب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ابوذر رضی اللھ عنھ بیان کرتے تھے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، میرے گھر کی چھت کھولی گئی ۔ میرا قیام ان دنوں مکھ میں تھا ۔ پھر جبرائیل علیھ السلام اترے اور میرا سینھ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا ۔ اس کے بعد سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا ، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا ۔ پھر میرا ھاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے کر چلے ، جب آسمان دنیا پر پھنچے تو جبرائیل علیھ السلام نے آسمان کے داروغھ سے کھا کھ دروازھ کھولو ، پوچھا کھ کون صاحب ھیں ؟ انھوں نے جواب دیا کھ میں جبرائیل ، پھر پوچھا کھ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ھے ؟ جواب دیا کھ میرے ساتھ محمد صلی اللھ علیھ وسلم ھیں ، پوچھا کھ انھیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا ۔ جواب دیا کھ ھاں ، اب دروازھ کھلا ، جب ھم آسمان پر پھنچے تو وھاں ایک بزرگ سے ملاقات ھوئی ، کچھ انسانی روحیں ان کے دائیں طرف تھیں اور کچھ بائیں طرف ، جب وھ دائیں طرف دیکھتے تو ھنس دیتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو پڑتے ۔ انھوں نے کھا خوش آمدید ، نیک نبی نیک بیٹے ! میں نے پوچھا ، جبرائیل ! یھ صاحب کون بزرگ ھیں ؟ تو انھوں نے بتایا کھ یھ آدم علیھ السلام ھیں اور یھ انسانی روحیں ان کے دائیں اور بائیں طرف تھیں ان کی اولاد بنی آدم کی روحیں تھیں ان کے جو دائیں طرف تھیں وھ جنتی تھیں اور جو بائیں طرف تھیں وھ دوزخی تھیں ، اسی لیے جب وھ دائیں طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو روتے تھے ، پھر جبرائیل علیھ السلام مجھے اوپر لے کر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے ، اس آسمان کے داروغھ سے بھی انھوں نے کھا کھ دروازھ کھولو ، انھوں نے بھی اسی طرح کے سوالات کئے جو پھلے آسمان پر ھو چکے تھے ، پھر دروازھ کھولا ، انس رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ حضرت ابوذر رضی اللھ عنھ نے تفصیل سے بتایا کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے مختلف آسمانوں پر ادریس ، موسیٰ عیسیٰ اور ابراھیم علیھم السلام کو پایا ، لیکن انھوں نے ان انبیاء کرام کے مقامات کی کوئی تخصیص نھیں کی ، صرف اتنا کھا کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے آدم علیھ السلام کو آسمان دنیا ( پھلے آسمان پر ) پایا اور ابراھیم علیھ السلام کو چھٹے پر اور حضرت انس رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ پھر جب جبرائیل علیھ السلام ادریس علیھ السلام کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کھا خوش آمدید ، نیک نبی نیک بھائی ، میں نے پوچھا کھ یھ کون صاحب ھیں ؟ جبرائیل علیھ السلام نے بتایا کھ یھ ادریس علیھ السلام ھیں ، پھر میں عیسیٰ علیھ السلام کے پاس سے گزرا ، انھوں نے بھی کھا خوش آمدید نیک نبی نیک بھائی ، میں نے پوچھا یھ کون صاحب ھیں ؟ تو بتایا کھ عیسیٰ علیھ السلام ۔ پھر ابراھیم علیھ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے فرمایا کھ خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے ، میں نے پوچھا یھ کون صاحب ھیں ؟ جواب دیا کھ یھ ابراھیم علیھ السلام ھیں ، ابن شھاب سے زھری نے بیان کیا اور مجھے ایوب بن حزم نے خبر دی کھ ابن عباس رضی اللھ عنھما اور ابوحیھ انصاری رضی اللھ عنھم بیان کرتے تھے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا پھر مجھے اوپر لے کر چڑھے اور میں اتنے بلند مقام پر پھنچ گیا جھاں سے قلم کے لکھنے کی آواز صاف سننے لگی تھی ، ابوبکر بن حزم نے بیان کیا اور انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا پھر اللھ تعالیٰ نے پچاس وقت کی نمازیں مجھ پر فرض کیں ۔ میں اس فریضھ کے ساتھ واپس ھوا اور جب موسیٰ علیھ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے پوچھا کھ آپ کی امت پر کیا چیز فرض کی گئی ھے ؟ میں نے جواب دیا کھ پچاس وقت کی نمازیں ان پر فرض ھوئی ھیں ۔ انھوں نے کھا کھ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں ، کیونکھ آپ کی امت میں اتنی نمازوں کی طاقت نھیں ھے ، چنانچھ میں واپس ھوا اور رب العالمین کے دربار میں مراجعت کی ، اس کے نتیجے میں اس کا ایک حصھ کم کر دیا گیا ، پھر میں موسیٰ علیھ السلام کے پاس آیا اور اس مرتبھ بھی انھوں نے کھا کھ اپنے رب سے پھر مراجعت کریں پھر انھوں نے اپنی تفصیلات کا ذکر کیا کھ رب العالمین نے ایک حصھ کی پھر کمی کر دی ، پھر میں موسیٰ علیھ السلام کے پاس آیا اور انھیں خبر کی ، انھوں نے کھا کھ آپ اپنے رب سے مراجعت کریں ، کیونکھ آپ کی امت میں اس کی بھی طاقت نھیں ھے ، پھر میں واپس ھوا اور اپنے رب سے پھر مراجعت کی ، اللھ تعالیٰ نے اس مرتبھ فرما دیا کھ نمازیں پانچ وقت کی کر دی گئیں اور ثواب پچاس نمازوں کا ھی باقی رکھا گیا ، ھمارا قول بدلا نھیں کرتا ۔ پھر میں موسیٰ علیھ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے اب بھی اسی پر زور دیا کھ اپنے رب سے آپ کو پھر مراجعت کرنی چاھئے ۔ لیکن میں نے کھا کھ مجھے اللھ پاک سے باربار درخواست کرتے ھوئے اب شرم آتی ھے ۔ پھر جبرائیل علیھ السلام مجھے لے کر آگے بڑھے اور سدرۃالمنتھیٰ کے پاس لائے جھاں مختلف قسم کے رنگ نظر آئے ، جنھوں نے اس درخت کو چھپا رکھا تھا میں نھیں جانتا کھ وھ کیا تھے ۔ اس کے بعد مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے دیکھا کھ موتی کے گنبد بنے ھوئے ھیں اور اس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار تھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3342
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 55 Hadith no 557


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet (PBUH) said, "I have been made victorious with As-Saba (i.e. an easterly wind) and the people of 'Ad were destroyed by Ad-Dabur (i.e. a westerly wind)." ھم سے محمد بن عرعرھ نے بیان کیا ، ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، ان سے مجاھد نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ( غزوھ خندق کے موقع پر ) پروا ھوا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ھوا سے ھلاک کر دی گئی تھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3343
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 558



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.