Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Prophets

كتاب أحاديث الأنبياء

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلاَّ ثَلاَثًا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "Abraham did not tell a lie except on three occasions." ھم سے سعید بن تلید رعینی نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم کو عبداللھ بن وھب نے خبر دی ، کھا کھ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی ، انھیں ایوب سختیانی نے ، انھیں محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، ابراھیم علیھ السلام نے توریھ تین مرتبھ کے سوا اور کبھی نھیں کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3357
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 577


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ إِلاَّ ثَلاَثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَوْلُهُ ‏{‏إِنِّي سَقِيمٌ ‏}‏ وَقَوْلُهُ ‏{‏بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا‏}‏، وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَا هُنَا رَجُلاً مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا‏.‏ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ أُخْتِي، فَأَتَى سَارَةَ قَالَ يَا سَارَةُ، لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلاَ تُكَذِّبِينِي‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ، فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكِ‏.‏ فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ، فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكِ‏.‏ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ‏.‏ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتُمُونِي بِشَيْطَانٍ‏.‏ فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ مَهْيَا قَالَتْ رَدَّ اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ ـ أَوِ الْفَاجِرِ ـ فِي نَحْرِهِ، وَأَخْدَمَ هَاجَرَ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ‏.‏

Narrated Abu Huraira: Abraham did not tell a lie except on three occasion. Twice for the Sake of Allah when he said, "I am sick," and he said, "(I have not done this but) the big idol has done it." The (third was) that while Abraham and Sarah (his wife) were going (on a journey) they passed by (the territory of) a tyrant. Someone said to the tyrant, "This man (i.e. Abraham) is accompanied by a very charming lady." So, he sent for Abraham and asked him about Sarah saying, "Who is this lady?" Abraham said, "She is my sister." Abraham went to Sarah and said, "O Sarah! There are no believers on the surface of the earth except you and I. This man asked me about you and I have told him that you are my sister, so don't contradict my statement." The tyrant then called Sarah and when she went to him, he tried to take hold of her with his hand, but (his hand got stiff and) he was confounded. He asked Sarah. "Pray to Allah for me, and I shall not harm you." So Sarah asked Allah to cure him and he got cured. He tried to take hold of her for the second time, but (his hand got as stiff as or stiffer than before and) was more confounded. He again requested Sarah, "Pray to Allah for me, and I will not harm you." Sarah asked Allah again and he became alright. He then called one of his guards (who had brought her) and said, "You have not brought me a human being but have brought me a devil." The tyrant then gave Hajar as a girl-servant to Sarah. Sarah came back (to Abraham) while he was praying. Abraham, gesturing with his hand, asked, "What has happened?" She replied, "Allah has spoiled the evil plot of the infidel (or immoral person) and gave me Hajar for service." (Abu Huraira then addressed his listeners saying, "That (Hajar) was your mother, O Bani Ma-is-Sama (i.e. the Arabs, the descendants of Ishmael, Hajar's son). ھم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، کھا ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد نے اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ابراھیم علیھ السلام نے تین مرتبھ جھوٹ بولا تھا ، دو ان میں سے خالص اللھ عزوجل کی رضا کے لیے تھے ۔ ایک تو ان کا فرمانا ( بطور توریھ کے ) کھ ” میں بیمار ھوں “ اور دوسرا ان کا یھ فرمانا کھ ” بلکھ یھ کام تو ان کے بڑے ( بت ) نے کیا ھے “ اور بیان کیا کھ ایک مرتبھ ابراھیم علیھ السلام اور سارھ علیھا السلام ایک ظالم بادشاھ کی حدود سلطنت سے گزر رھے تھے ۔ بادشاھ کو خبر ملی کھ یھاں ایک شخص آیا ھوا ھے اور اس کے ساتھ دنیا کی ایک خوبصورت ترین عورت ھے ۔ بادشاھ نے ابراھیم علیھ السلام کے پاس اپنا آدمی بھیج کر انھیں بلوایا اور حضرت سارھ علیھا السلام کے متعلق پوچھا کھ یھ کون ھیں ؟ حضرت ابراھیم علیھ السلام نے فرمایا کھ یھ میری بھن ھیں ۔ پھر آپ سارھ علیھا السلام کے پاس آئے اور فرمایا کھ اے سارھ ! یھاں میرے اور تمھارے سوا اور کوئی بھی مومن نھیں ھے اور اس بادشاھ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے کھھ دیا کھ تم میری ( دینی اعتبار سے ) بھن ھو ۔ اس لیے اب تم کوئی ایسی بات نھ کھنا جس سے میں جھوٹا بنوں ۔ پھر اس ظالم نے حضرت سارھ کو بلوایا اور جب وھ اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف ھاتھ بڑھانا چاھا لیکن فوراً ھی پکڑ لیا گیا ۔ پھر وھ کھنے لگا کھ میرے لیے اللھ سے دعا کرو ( کھ اس مصیبت سے نجات دے ) میں اب تمھیں کوئی نقصان نھیں پھنچاؤں گا ، چنانچھ انھوں نے اللھ سے دعا کی اور وھ چھوڑ دیا گیا ۔ لیکن پھر دوسری مرتبھ اس نے ھاتھ بڑھایا اور اس مرتبھ بھی اسی طرح پکڑ لیا گیا ، بلکھ اس سے بھی زیادھ سخت اور پھر کھنے لگا کھ اللھ سے میرے لیے دعا کرو ، میں اب تمھیں کوئی نقصان نھیں پھنچاؤں گا ۔ سارھ علیھا السلام نے دعا کی اور وھ چھوڑ دیا گیا ۔ اس کے بعد اس نے اپنے کسی خدمت گار کو بلا کر کھا کھ تم لوگ میرے پاس کسی انسان کو نھیں لائے ھو ، یھ تو کوئی سرکش جن ھے ( جاتے ھوئے ) سارھ علیھ السلام کے لیے اس نے ھاجرھ علیھا السلام کو خدمت کے لیے دیا ۔ جب سارھ آئیں تو ابراھیم علیھ السلام کھڑے نماز پڑھ رھے تھے ۔ آپ نے ھاتھ کے اشارھ سے ان کا حال پوچھا ۔ انھوں نے کھا کھ اللھ تعالیٰ نے کافر یا ( یھ کھا کھ ) فاجر کے فریب کو اسی کے منھ پر دے مارا اور ھاجرھ علیھا السلام کو خدمت کے لیے دیا ۔ ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ اے بنی ماء السماء ( اے آسمانی پانی کی اولاد ! یعنی اھل عرب ) تمھاری والدھ یھی ( حضرت ھاجرھ علیھا السلام ) ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3358
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 578


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَوِ ابْنُ سَلاَمٍ عَنْهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ـ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ ‏"‏ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏‏.‏

Narrated Um Sharik: Allah's Messenger (PBUH) ordered that the salamander should be killed and said, "It (i.e. the salamander) blew (the fire) on Abraham." ھم سے عبیداللھ بن موسیٰ نے بیان کیا یا ابن سلام نے ( ھم سے بیان کیا عبیداللھ بن موسیٰ کے واسطے سے ) انھیں ابن جریج نے خبر دی ، انھیں عبدالحمید بن جبیر نے ، انھیں سعید بن مسیب نے اور انھیں حضرت ام شریک رضی اللھ عنھا نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا کھ اس نے حضرت ابراھیم علیھ السلام کی آگ پر پھونکا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3359
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 579


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ ‏{‏الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ كَمَا تَقُولُونَ ‏{‏لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ بِشِرْكٍ، أَوَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لاِبْنِهِ ‏{‏يَا بُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ‏}‏‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah: When the Verse:--"It is those who believe and do not confuse their belief with wrong ( i.e. joining others in worship with Allah" (6.83) was revealed, we said, "O Allah's Messenger (PBUH)! Who is there amongst us who has not done wrong to himself?" He replied, "It is not as you say, for 'wrong' in the Verse and 'do not confuse their belief, with wrong means 'SHIRK' (i.e. joining others in worship with Allah). Haven't you heard Luqman's saying to his son, 'O my son! Join not others in worship with Allah, verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed." (31.13) ھم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا کھا کھ مجھ سے ابراھیم نے بیان کیا ، ان سے علقمھ نے اور ان سے عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ جب یھ آیت اتری ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نھ کی “ تو ھم نے عرض کیا یا رسول اللھ ! ھم میں ایسا کون ھو گا جس نے اپنی جان پر ظلم نھ کیا ھو گا ؟ حضور صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ واقعھ وھ نھیں جو تم سمجھتے ھو ” جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نھ کی “ ( میں ظلم سے مراد ) شرک ھے کیا تم نے لقمان علیھ السلام کی اپنے بیٹے کو یھ نصیحت نھیں سنی کھ ” اے بیٹے ! اللھ کے ساتھ شریک نھ کرنا ، بیشک شرک بھت ھی بڑا ظلم ھے “ ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3360
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 580


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيُنْفِدُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْهُمْ ـ فَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ـ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنَ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ‏.‏ فَيَقُولُ ـ فَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ـ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏


Chapter: And Allah's Statement: "... hastening."

Narrated Abu Huraira: One day some meat was given to the Prophet (PBUH) and he said, "On the Day of Resurrection Allah will gather all the first and the last (people) in one plain, and the voice of the announcer will reach all of them, and one will be able to see them all, and the sun will come closer to them." (The narrator then mentioned the narration of intercession): "The people will go to Abraham and say: 'You are Allah's Prophet and His Khalil on the earth. Will you intercede for us with your Lord?' Abraham will then remember his lies and say: 'Myself! Myself! Go to Moses." ھم سے اسحاق بن ابراھیم بن نصر نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابواسامھ نے بیان کیا ، ان سے ابوحیان نے ، ان سے ابوزرعھ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبھ گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کھ اللھ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک ھموار اور وسیع میدان میں جمع کرے گا ، اس طرح کھ پکارنے والا سب کو اپنی بات سنا سکے گا اور دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ( کیونکھ یھ میدان ھموار ھو گا ، زمین کی طرح گول نھ ھو گا ) اور لوگوں سے سورج بالکل قریب ھو جائے گا ۔ پھر آپ نے شفاعت کا ذکر کیا کھ لوگ حضرت ابراھیم علیھ السلام کی خدمت میں حاضر ھوں گے اور عرض کریں گے کھ آپ روئے زمین پر اللھ کے نبی اور خلیل ھیں ۔ ھمارے لیے اپنے رب کے حضور میں شفاعت کیجئے ، پھر انھیں اپنے جھوٹ ( توریھ ) یاد آ جائیں گے اور کھیں گے کھ آج تو مجھے اپنی ھی فکر ھے ۔ تم لوگ حضرت موسیٰ علیھ السلام کے پاس جاؤ ۔ ابوھریرھ رضی اللھ عنھ کے ساتھ حضرت انس رضی اللھ عنھ نے بھی نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3361
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 581


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلاَ أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ الأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَمَّا كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ فَحَدَّثَنِي قَالَ إِنِّي وَعُثْمَانَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ جُلُوسٌ مَعَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ مَا هَكَذَا حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلَ إِبْرَاهِيمُ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ وَهْىَ تُرْضِعُهُ، مَعَهَا شَنَّةٌ ـ لَمْ يَرْفَعْهُ ـ ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ‏.‏

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet (PBUH) said, "May Allah bestow His Mercy on the mother of Ishmael! Had she not hastened (to fill her water-skin with water from the Zamzam well). Zamzam would have been a stream flowing on the surface of the earth." Ibn `Abbas further added, "(The Prophet) Abraham brought Ishmael and his mother (to Mecca) and she was suckling Ishmael and she had a water-skin with her.' مجھ سے ابوعبداللھ احمد بن سعید نے بیان کیا ، ھم سے وھب بن جریرنے بیان کیا ، ان سے ان کے والد جریر بن حازم نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے عبداللھ بن سعید بن جبیر نے ، ان سے ان کے والد سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللھ عنھما نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اللھ اسماعیل علیھ السلام کی والدھ ( حضرت ھاجرھ علیھا السلام ) پر رحم کرے ، اگر انھوں نے جلدی نھ کی ھوتی ( اور زمزم کے پانی کے گرد منڈیر نھ بناتیں ) تو آج وھ ایک بھتا ھوا چشمھ ھوتا ۔ محمد بن عبداللھ انصاری نے کھا کھ ھم سے اسی طرح یھ حدیث ابن جریج نے بیان کی لیکن کثیر بن کثیر نے مجھ سے یوں بیان کیا کھ میں اور عثمان بن ابوسلیمان دونوں سعید بن جبیر کے پاس بیٹھے ھوئے تھے ، اتنے میں انھوں نے کھا کھ ابن عباس رضی اللھ عنھما نے مجھ سے یھ حدیث اس طرح بیان نھیں کی بلکھ یوں کھا کھ ابراھیم علیھ السلام اپنے بیٹے اسماعیل اور ان کی والدھ حضرت ھاجرھ علیھا السلام اسماعیل علیھ السلام کو لے کر مکھ کی سرزمین کی طرف آئے ۔ حضرت ھاجرھ علیھا السلام اسماعیل علیھ السلام کو دودھ پلاتی تھیں ۔ ان کے ساتھ ایک پرانی مشک تھی ۔ ابن عباس نے اس حدیث کو مرفوع نھیں کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 60 Hadith no 3362, 3363
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 55 Hadith no 582



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.