Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Rubbing hands and feet with dust (Tayammum)

كتاب التيمم

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ـ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ ـ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ‏.‏ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ‏.‏ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ‏.‏


Chapter: Chapter

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) We set out with Allah's Messenger (PBUH) on one of his journeys till we reached Al- Baida' or Dhatul-Jaish, a necklace of mine was broken (and lost). Allah's Messenger (PBUH) stayed there to search for it, and so did the people along with him. There was no water at that place, so the people went to Abu- Bakr As-Siddiq and said, "Don't you see what `Aisha has done? She has made Allah's Apostle and the people stay where there is no water and they have no water with them." Abu Bakr came while Allah's Messenger (PBUH) was sleeping with his head on my thigh, He said, to me: "You have detained Allah's Messenger (PBUH) and the people where there is no water and they have no water with them. So he admonished me and said what Allah wished him to say and hit me on my flank with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain) but the position of Allah's Messenger (PBUH) on my thigh. Allah's Messenger (PBUH) got up when dawn broke and there was no water. So Allah revealed the Divine Verses of Tayammum. So they all performed Tayammum. Usaid bin Hudair said, "O the family of Abu Bakr! This is not the first blessing of yours." Then the camel on which I was riding was caused to move from its place and the necklace was found beneath it. ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھمیں مالک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی زوجھ محترمھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا سے ، آپ نے بتلایا کھ ھم رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ بعض سفر ( غزوھ بنی المصطلق ) میں تھے ۔ جب ھم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پھنچے تو میرا ایک ھار کھو گیا ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم اس کی تلاش میں وھیں ٹھھر گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ ٹھھر گئے ۔ لیکن وھاں پانی کھیں قریب میں نھ تھا ۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ کے پاس آئے اور کھا ” حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کیا کام کیا ؟ کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھھرا دیا ھے اور پانی بھی کھیں قریب میں نھیں ھے اور نھ لوگوں ھی کے ساتھ ھے ۔ “ پھر ابوبکر صدیق رضی اللھ عنھ تشریف لائے ، رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم اپنا سرمبارک میری ران پر رکھے ھوئے سو رھے تھے ۔ فرمانے لگے کھ تم نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم اور تمام لوگوں کو روک لیا ۔ حالانکھ قریب میں کھیں پانی بھی نھیں ھے اور نھ لوگوں کے پاس ھے ۔ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا کھتی ھیں کھ والد ماجد ( رضی اللھ عنھ ) مجھ پر بھت خفا ھوئے اور اللھ نے جو چاھا انھوں نے مجھے کھا اور اپنے ھاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کا سرمبارک میری ران پر تھا ۔ اس وجھ سے میں حرکت بھی نھیں کر سکتی تھی ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم جب صبح کے وقت اٹھے تو پانی کا پتھ تک نھ تھا ۔ پس اللھ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری اور لوگوں نے تیمم کیا ۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللھ عنھ نے کھا ” اے آل ابی بکر ! یھ تمھاری کوئی پھلی برکت نھیں ھے ۔ “ عائشھ ( رضی اللھ عنھا ) نے فرمایا ۔ پھر ھم نے اس اونٹ کو ھٹایا جس پر میں سوار تھی تو ھار اسی کے نیچے مل گیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 7 Hadith no 334
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 7 Hadith no 330


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ـ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ الْفَقِيرُ ـ قَالَ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ‏"‏‏.‏

Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet (PBUH) said, "I have been given five things which were not given to any one else before me. -1. Allah made me victorious by awe, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey. -2. The earth has been made for me (and for my followers) a place for praying and a thing to perform Tayammum, therefore anyone of my followers can pray wherever the time of a prayer is due. -3. The booty has been made Halal (lawful) for me yet it was not lawful for anyone else before me. -4. I have been given the right of intercession (on the Day of Resurrection). -5. Every Prophet used to be sent to his nation only but I have been sent to all mankind. ھم سے محمد بن سنان عوفی نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے ھشیم نے بیان کیا ( دوسری سند ) کھا اور مجھ سے سعید بن نضر نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھمیں خبر دی ھشیم نے ، انھوں نے کھا ھمیں خبر دی سیار نے ، انھوں نے کھا ھم سے یزید الفقیر نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھمیں جابر بن عبداللھ نے , نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ھیں جو مجھ سے پھلے کسی کو نھیں دی گئی تھیں ۔ ایک مھینھ کی مسافت سے رعب کے ذریعھ میری مدد کی گئی ھے اور تمام زمین میرے لیے سجدھ گاھ اور پاکی کے لائق بنائی گئی ۔ پس میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو ( جھاں بھی ) پالے اسے وھاں ھی نماز ادا کر لینی چاھیے ۔ اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ھے ۔ مجھ سے پھلے یھ کسی کے لیے بھی حلال نھ تھا ۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ۔ اور تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ھوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ھوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 7 Hadith no 335
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 7 Hadith no 331


حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً، فَوَجَدَهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ ذَلِكِ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا‏.‏


Chapter: What to do if neither water nor earth is available

Narrated `Urwa's father: Aisha said, "I borrowed a necklace from Asma' and it was lost. So Allah's Messenger (PBUH) sent a man to search for it and he found it. Then the time of the prayer became due and there was no water. They prayed (without ablution) and informed Allah's Messenger (PBUH) about it, so the verse of Tayammum was revealed." Usaid bin Hudair said to `Aisha, "May Allah reward you. By Allah, whenever anything happened which you did not like, Allah brought good for you and for the Muslims in that." ھم سے سے زکریابن یحییٰ نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبداللھ بن نمیر نے ، کھا ھم سے ھشام بن عروھ نے ، وھ اپنے والد سے ، وھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا سے کھ انھوں نے حضرت اسماء رضی اللھ عنھا سے ھار مانگ کر پھن لیا تھا ، وھ گم ھو گیا ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک آدمی کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ، جسے وھ مل گیا ۔ پھر نماز کا وقت آ پھنچا اور لوگوں کے پاس ( جو ھار کی تلاش میں گئے تھے ) پانی نھیں تھا ۔ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی ۔ پس اللھ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری جسے سن کر اسید بن حضیر نے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا سے کھا آپ کو اللھ بھترین بدلھ دے ۔ واللھ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسی بات پیش آئی جس سے آپ کو تکلیف ھوئی تو اللھ تعالیٰ نے آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اس میں خیر پیدا فرما دی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 7 Hadith no 336
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 7 Hadith no 332


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ‏.‏

Narrated Abu Juhaim Al-Ansari: The Prophet (PBUH) came from the direction of Bir Jamal. A man met him and greeted him. But he did not return back the greeting till he went to a (mud) wall and wiped his face and hands with its dust (performed Tayammum) and then returned back the greeting. ھم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے جعفر بن ربیعھ سے ، انھوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے ، انھوں نے کھا میں نے ابن عباس رضی اللھ عنھما کے غلام عمیر بن عبداللھ سے سنا ، انھوں نے کھا کھ میں اور عبداللھ بن یسار جو کھ حضرت میمونھ رضی اللھ عنھا زوجھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے غلام تھے ، ابوجھیم بن حارث بن صمھ انصاری ( صحابی ) کے پاس آئے ۔ انھوں نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ” بئر جمل “ کی طرف سے تشریف لا رھے تھے ، راستے میں ایک شخص نے آپ کو سلام کیا ( یعنی خود اسی ابوجھیم نے ) لیکن آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے جواب نھیں دیا ۔ پھر آپ دیوار کے قریب آئے اور اپنے چھرے اور ھاتھوں کا مسح کیا پھر ان کے سلام کا جواب دیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 7 Hadith no 337
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 7 Hadith no 333


حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ‏.‏ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ‏.‏


Chapter: Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face)

Narrated `Abdur Rahman bin Abza [??]: A man came to `Umar bin Al-Khattab and said, "I became Junub but no water was available." `Ammar bin Yasir said to `Umar, "Do you remember that you and I (became Junub while both of us) were together on a journey and you didn't pray but I rolled myself on the ground and prayed? I informed the Prophet (PBUH) about it and he said, 'It would have been sufficient for you to do like this.' The Prophet then stroked lightly the earth with his hands and then blew off the dust and passed his hands over his face and hands." ھم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے حکم بن عیینھ نے بیان کیا ، انھوں نے ذر بن عبداللھ سے ، انھوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے ، وھ اپنے باپ سے ، انھوں نے بیان کیا کھ ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللھ عنھ کے پاس آیا اور عرض کی کھ مجھے غسل کی حاجت ھو گئی اور پانی نھیں ملا ( تو میں اب کیا کروں ) اس پر عمار بن یاسر رضی اللھ عنھ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللھ عنھ سے کھا ، کیا آپ کو یاد نھیں جب میں اور آپ سفر میں تھے ، ھم دونوں جنبی ھو گئے ۔ آپ نے تو نماز نھیں پڑھی لیکن میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا ، اور نماز پڑھ لی ۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ تجھے بس اتنا ھی کافی تھا اور آپ نے اپنے دونوں ھاتھ زمین پر مارے پھر انھیں پھونکا اور دونوں سے چھرے اور پھنچوں کا مسح کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 7 Hadith no 338
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 7 Hadith no 334


حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ بِهَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ، ثُمَّ أَدْنَاهُمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ‏.‏ وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ الْحَكَمُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَمَّارٌ‏.‏


Chapter: Tayammum is for the hands and the face

Narrated Sa`id bin `Abdur Rahman bin Abza: (on the authority of his father who said) `Ammar said so (the above Statement). And Shu`ba stroked lightly the earth with his hands and brought them close to his mouth (blew off the dust) and passed them over his face and then the backs of his hands. `Ammar said, "Ablution (meaning Tayammum here) is sufficient for a Muslim if water is not available." ھم سے حجاج بن منھال نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے کھا کھ مجھے حکم بن عیینھ نے خبر دی ذر بن عبداللھ سے ، وھ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے ، وھ اپنے باپ سے کھ عمار نے یھ واقعھ بیان کیا ( جو پھلے گزر چکا ) اور شعبھ نے اپنے ھاتھوں کو زمین پر مارا ۔ پھر انھیں اپنے منھ کے قریب کر لیا ( اور پھونکا ) پھر ان سے اپنے چھرے اور پھنچوں کا مسح کیا اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کھ مجھے شعبھ نے خبر دی حکم سے کھ میں نے ذر بن عبداللھ سے سنا ، وھ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کے حوالھ سے حدیث روایت کرتے تھے ۔ حکم نے کھا کھ میں نے یھ حدیث ابن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے سنی ، وھ اپنے والد کے حوالھ سے بیان کرتے تھے کھ عمار نے کھا ( جو پھلے مذکور ھوا ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 7 Hadith no 339
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 7 Hadith no 335



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.