Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Sacrifice on Occasion of Birth (`Aqiqa)

كتاب العقيقة

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلَىَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى‏.‏


Chapter: The naming of a newly born child, Al-'Al-'Aqiqa and its Tahnik

Narrated Abu Musa: A son was born to me and I took him to the Prophet (PBUH) who named him Ibrahim, did Tahnik for him with a date, invoked Allah to bless him and returned him to me. (The narrator added: That was Abu Musa's eldest son.) مجھ سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابواسامھ نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے یزید نے بیان کیا ، ان سے ابوبردھ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ میرے یھاںایک لڑکا پیدا ھوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اس کا نام ابراھیم رکھا اور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے بر کت کی دعا کی پھر مجھے دے دیا ۔ یھ ابوموسیٰ رضی اللھ عنھ کے سب سے بڑے لڑکے تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 71 Hadith no 5467
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 66 Hadith no 376


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ يُحَنِّكُهُ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ‏.‏

Narrated `Aisha: A boy was brought to the Prophet (PBUH) to do Tahnik for him, but the boy urinated on him, whereupon the Prophet had water poured on the place of urine. ھم سے مسدد نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے ھشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچھ لایا گیا تاکھ آپ اس کی تحنیک کر دیں اس بچھ نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا ، آپ نے اس پر پانی بھا دیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 71 Hadith no 5468
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 66 Hadith no 377


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ قُبَاءً فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا، لأَنَّهُمْ قِيلَ لَهُمْ إِنَّ الْيَهُودَ قَدْ سَحَرَتْكُمْ فَلاَ يُولَدُ لَكُمْ‏.‏

Narrated Asma' bint Abu Bakr: I conceived `Abdullah bin AzZubair at Mecca and went out (of Mecca) while I was about to give birth. I came to Medina and encamped at Quba', and gave birth at Quba'. Then I brought the child to Allah's Messenger (PBUH) and placed it (on his lap). He asked for a date, chewed it, and put his saliva in the mouth of the child. So the first thing to enter its stomach was the saliva of Allah's Messenger (PBUH). Then he did its Tahnik with a date, and invoked Allah to bless him. It was the first child born in the Islamic era, therefore they (Muslims) were very happy with its birth, for it had been said to them that the Jews had bewitched them, and so they would not produce any offspring. ھم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابواسامھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھشام بن عروھ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ حضرت عبداللھ بن زبیر رضی اللھ عنھما مکھ میں ان کے پیٹ میں تھے ۔ انھوں نے کھا کھ پھر میں ( جب ھجرت کے لیے ) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا ۔ مدینھ منورھ پھنچ کرمیں نے پھلی منزل قباء میں کی اور یھیں عبداللھ بن زبیر رضی اللھ عنھما پیدا ھو گئے ، میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں بچھ کو لے کر حاضر ھوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے کھجور طلب فرمائی اور اسے چبایا اور بچھ کے منھ میں اپنا تھوک ڈال دیا ۔ چنانچھ پھلی چیز جو اس بچھ کے پیٹ میں گئی وھ حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم کا تھوک مبارک تھا پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی ۔ یھ سب سے پھلا بچھ اسلام میں ( ھجرت کے بعد مدینھ منورھ میں ) پیدا ھوا ۔ صحابھ کرام رضی اللھ عنھم اس سے بھت خوش ھوئے کیونکھ یھ افواھ پھیلائی جا رھی تھی کھ یھودیوں نے تم ( مسلمانوں ) پر جادو کر دیا ھے ۔ اس لیے تمھارے یھاں اب کوئی بچھ پیدا نھیں ھو گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 71 Hadith no 5469
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 66 Hadith no 378


حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ‏.‏ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارِ الصَّبِيَّ‏.‏ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا ‏"‏‏.‏ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَمَعَهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ‏.‏ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، وَحَنَّكَهُ بِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik: Abu Talha had a child who was sick. Once, while Abu Talha was out, the child died. When Abu Talha returned home, he asked, "How does my son fare?" Um Salaim (his wife) replied, "He is quieter than he has ever been." Then she brought supper for him and he took his supper and slept with her. When he had finished, she said (to him), "Bury the child (as he's dead)." Next morning Abu Talha came to Allah's Messenger (PBUH) and told him about that. The Prophet (PBUH) said (to him), "Did you sleep with your wife last night?" Abu Talha said, "Yes". The Prophet (PBUH) said, "O Allah! Bestow your blessing on them as regards that night of theirs." Um Sulaim gave birth to a boy. Abu Talha told me to take care of the child till it was taken to the Prophet. Then Abu Talha took the child to the Prophet (PBUH) and Um Sulaim sent some dates along with the child. The Prophet (PBUH) took the child (on his lap) and asked if there was something with him. The people replied, "Yes, a few dates." The Prophet took a date, chewed it, took some of it out of his mouth, put it into the child's mouth and did Tahnik for him with that, and named him 'Abdullah. ھم سے مطر بن فضل نے بیان کیا ، کھا ھم سے یزید بن ھارون نے ، انھیں عبداللھ بن عون نے خبر دی ، انھیں انس بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ابوطلحھ رضی اللھ عنھ کا ایک لڑکا بیمار تھا ۔ ابوطلحھ کھیں باھر گئے ھوئے تھے کھ بچھ کا انتقال ھو گیا ۔ جب وھ ( تھکے ماندے ) واپس آئے تو پوچھا کھ بچھ کیسا ھے ؟ ان کی بیوی ام سلیم رضی اللھ عنھا نے کھا کھ وھ پھلے سے زیادھ سکون کے ساتھ ھے پھر بیوی نے ان کے سامنے کا کھانا رکھا اور ابوطلحھ رضی اللھ عنھ نے کھانا کھایا ۔ اس کے بعد انھوں نے ان کے ساتھ ھمبستری کی پھر جب فارغ ھوئے تو انھوں نے کھا کھ بچھ کو دفن کر دو ۔ صبح ھوئی تو ابوطلحھ رضی اللھ عنھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئے اور آپ کو واقعھ کی اطلاع دی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا تم نے رات ھمبستری بھی کی تھی ؟ انھوں نے عرض کیا کھ جی ھاں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دعا کی ” اے اللھ ! ان دونوں کو برکت عطا فرما ۔ “ پھر ان کے یھاں ایک بچھ پیدا ھوا تو مجھ سے ابوطلحھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ اسے حفاظت کے ساتھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ ۔ چنانچھ بچھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں لائے اور ام سلیم رضی اللھ عنھا نے بچھ کے ساتھ کچھ کھجوریں بھیجیں ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے بچھ کو لیا اور دریافت فرمایا کھ اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ھے ؟ لوگوں نے کھا کھ جی ھاں کھجوریں ھیں ۔ آپ نے اسے لے کر چبایا اور پھر اسے اپنے منھ میں نکال کر بچھ کے منھ میں رکھ دیا اور اس سے بچھ کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللھ رکھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 71 Hadith no 5470
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 66 Hadith no 379


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ‏.‏ وَقَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَتَادَةُ وَهِشَامٌ وَحَبِيبٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏


Chapter: 'Aqiqa is to remove what harms the child

Narrated Salman bin 'Amri Ad-Dabbi, the Prophet (PBUH) said, 'Aqiqa is to be offered for a (newly born) boy. ھم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کھا ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے محمد بن سیرین نے ، ان سے سلمان بن عامر رضی اللھ عنھ ( صحابی ) نے بیان کیا کھ بچھ کا عقیقھ کرنا چاھیئے ۔ اور حجاج بن منھال نے کھا ۔ ان سے حماد بن سلمھ نے بیان کیا ، کھا ھم کو ایوب سختیانی ، قتادھ ، ھشام بن حسان اور حبیب بن شھید ان چاروں نے خبر دی ، انھیں محمد بن سیرین نے اور انھیں حضرت سلمان بن عامر رضی اللھ عنھ نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے ۔ اور کئی لوگوں نے بیان کیا ، ان سے عاصم بن سلیمان اور ھشام بن حسان نے ، ان سے حفصھ بنت سیرین نے ، ان سے رباب بنت صلیع نے ، ان سے سلمان بن عامر رضی اللھ عنھ نے اور انھوں نے مرفوعاً نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے روایت کیا ھے اور اس کی روایت یزید بن ابراھیم تستری نے کی ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت سلمان بن عامر رضی اللھ عنھ نے اپنا قول موقوفاً ( غیر مرفوع ) ذکر کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 71 Hadith no 5471
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 66 Hadith no 379


وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَاصِمٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ قَوْلَهُ‏.‏ وَقَالَ أَصْبَغُ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ حَدَّثَنَا سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى ‏"‏‏.‏

Narrated Salman bin 'Amir Ad-Dabbi: I heard Allah's Messenger (PBUH) saying, "'Aqiqa is to be offered for a (newly born) boy, so slaughter (an animal) for him, and relieve him of his suffering." اور اصبغ بن فرج نے بیان کیا کھ مجھے عبداللھ بن وھب نے خبر دی ، انھیں جریر بن حازم نے ، انھیں حضرت ایوب سختیانی نے ، انھیں محمد بن سیرین نے کھ ھم سے حضرت سلمان بن عامر الضبی رضی اللھ عنھ نے بیان کیا ، کھاکھ میں نے رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : کھ لڑکے کے ساتھ اس کا عقیقھ لگا ھوا ھے اس لیے اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے بال دور کرو ۔ ( سر منڈا دو یا ختنھ کرو )

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 71 Hadith no 5472
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 66 Hadith no 380



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.