Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Times of the Prayers

كتاب مواقيت الصلاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا وَهْوَ بِالْعِرَاقِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ بِهَذَا أُمِرْتُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ أَوَإِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقْتَ الصَّلاَةِ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ‏.‏

Narrated Ibn Shihab: Once `Umar bin `Abdul `Aziz delayed the prayer and `Urwa bin Az-Zubair went to him and said, "Once in 'Iraq, Al-Mughira bin Shu`ba delayed his prayers and Abi Mas`ud Al-Ansari went to him and said, 'O Mughira! What is this? Don't you know that once Gabriel came and offered the prayer (Fajr prayer) and Allah's Messenger (PBUH) prayed too, then he prayed again (Zuhr prayer) and so did Allah's Apostle and again he prayed (`Asr prayers and Allah's Messenger (PBUH) did the same; again he prayed (Maghrib-prayer) and so did Allah's Messenger (PBUH) and again prayed (`Isha prayer) and so did Allah's Apostle and (Gabriel) said, 'I was ordered to do so (to demonstrate the prayers prescribed to you)?'" `Umar (bin `Abdul `Aziz) said to `Urwa, "Be sure of what you Say. Did Gabriel lead Allah's Messenger (PBUH) at the stated times of the prayers?" `Urwa replied, "Bashir bin Abi Mas`ud narrated like this on the authority of his father." `Urwa added, "Aisha told me that Allah's Messenger (PBUH) used to pray `Asr prayer when the sunshine was still inside her residence (during the early time of `Asr). ھم سے عبداللھ بن مسلمھ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ میں نے امام مالک رحمھ اللھ علیھ کو پڑھ کر سنایا ابن شھاب کی روایت سے کھ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمھ اللھ علیھ نے ایک دن ( عصر کی ) نماز میں دیر کی ، پس عروھ بن زبیر رضی اللھ عنھ کے پاس تشریف لے گئے ، اور انھوں نے بتایا کھ ( اسی طرح ) مغیرھ بن شعبھ رضی اللھ عنھ نے ایک دن ( عراق کے ملک میں ) نماز میں دیر کی تھی جب وھ عراق میں ( حاکم ) تھے ۔ پس ابومسعود انصاری ( عقبھ بن عمر ) ان کی خدمت میں گئے ۔ اور فرمایا ، مغیرھ رضی اللھ عنھ ! آخر یھ کیا بات ھے ، کیا آپ کو معلوم نھیں کھ جب جبرائیل علیھ السلام تشریف لائے تو انھوں نے نماز پڑھی اور رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے بھی نماز پڑھی ، پھر جبرائیل علیھ السلام نے نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے بھی نماز پڑھی ، پھر جبرائیل علیھ السلام نے نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے بھی نماز پڑھی ، پھر جبرائیل علیھ السلام نے کھا کھ میں اسی طرح حکم دیا گیا ھوں ۔ اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمھ اللھ نے عروھ سے کھا ، معلوم بھی ھے آپ کیا بیان کر رھے ھیں ؟ کیا جبرائیل علیھ السلام نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کو نماز کے اوقات ( عمل کر کے ) بتلائے تھے ۔ عروھ نے کھا ، کھ ھاں اسی طرح بشیر بن ابی مسعود رضی اللھ عنھ اپنے والد کے واسطھ سے بیان کرتے تھے ۔ عروھ رحمھ اللھ علیھ نے کھا کھ مجھ سے عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب ابھی دھوپ ان کے حجرھ میں موجود ھوتی تھی اس سے بھی پھلے کھ وھ دیوار پر چڑھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 9 Hadith no 521, 522
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 10 Hadith no 500


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ ـ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَىِّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذْهُ عَنْكَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ ـ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَىَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ ‏"‏‏.‏


Chapter: The Statement of Alah

Narrated Ibn `Abbas: "Once a delegation of `Abdul Qais came to Allah's Messenger (PBUH) and said, "We belong to such and such branch of the tribe of Rab'a [??] and we can only come to you in the sacred months. Order us to do something good so that we may (carry out) take it from you and also invite to it our people whom we have left behind (at home)." The Prophet (PBUH) said, " I order you to do four things and forbid you from four things. (The first four are as follows): -1. To believe in Allah. (And then he: explained it to them i.e.) to testify that none has the right to be worshipped but Allah and (Muhammad) am Allah's Messenger (PBUH) -2. To offer prayers perfectly (at the stated times): -3. To pay Zakat (obligatory charity) -4. To give me Khumus (The other four things which are forbidden are as follows): -1. Dubba -2. Hantam -3. Muqaiyat [??] -4. Naqir (all these are utensils used for the preparation of alcoholic drinks). ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے عباد بن عباد بصریٰ نے ، اور یھ عباد کے لڑکے ھیں ، ابوجمرھ ( نصر بن عمران ) کے ذریعھ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللھ عنھما سے ، انھوں نے کھا کھ عبدالقیس کا وفد رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں آیا اور کھا کھ ھم اس ربیعھ قبیلھ سے ھیں اور ھم آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت والے مھینوں ھی میں حاضر ھو سکتے ھیں ، اس لیے آپ صلی اللھ علیھ وسلم کسی ایسی بات کا ھمیں حکم دیجیئے ، جسے ھم آپ صلی اللھ علیھ وسلم سے سیکھ لیں اور اپنے پیچھے رھنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ھوں اور چار چیزوں سے روکتا ھوں ، پھلے خدا پر ایمان لانے کا ، پھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کھ اس بات کی شھادت دینا کھ اللھ کے سوا کوئی معبود نھیں اور یھ کھ میں اللھ کا رسول ھوں ، اور دوسرے نماز قائم کرنے کا ، تیسرے زکوٰۃ دینے کا ، اور چوتھے جو مال تمھیں غنیمت میں ملے ، اس میں سے پانچواں حصھ ادا کرنے کا اور تمھیں میں تونبڑی حنتم ، قسار اور نقیر کے استعمال سے روکتا ھوں ۔ ( نوٹ : یھ تمام برتن شراب بنانے کے لیے استعمال ھوتے تھے ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 9 Hadith no 523
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 10 Hadith no 501


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ‏.‏


Chapter: To give the Bai'ah (pledge) for Iqamat-as-Salat [the offering of As-Salat (the prayers).

Narrated Jarir bin `Abdullah: I gave the pledge of allegiance to Allah's Messenger (PBUH) for to offer prayers perfectly, to pay Zakat regularly, and to give good advice to every Muslim. ھم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کھا کھ ھم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللھ رضی اللھ عنھ کی روایت سے بیان کیا کھ جریر بن عبداللھ بجلی رضی اللھ عنھ نے فرمایا کھ میں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے دست مبارک پر نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ دینے ، اور ھر مسلمان کے ساتھ خیرخواھی کرنے پر بیعت کی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 9 Hadith no 524
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 10 Hadith no 502


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا، كَمَا قَالَهُ‏.‏ قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ ـ أَوْ عَلَيْهَا ـ لَجَرِيءٌ‏.‏ قُلْتُ ‏"‏ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْىُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، وَلَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ‏.‏ قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا‏.‏ قَالَ أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ يُكْسَرُ‏.‏ قَالَ إِذًا لاَ يُغْلَقَ أَبَدًا‏.‏ قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ‏.‏ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ الْبَابُ عُمَرُ‏.‏


Chapter: As-Salat (the prayers) is expiation (of sins)

Narrated Shaqiq: that he had heard Hudhaifa saying, "Once I was sitting with `Umar and he said, 'Who amongst you remembers the statement of Allah's Messenger (PBUH) about the afflictions?' I said, 'I know it as the Prophet (PBUH) had said it.' `Umar said, 'No doubt you are bold.' I said, 'The afflictions caused for a man by his wife, money, children and neighbor are expiated by his prayers, fasting, charity and by enjoining (what is good) and forbidding (what is evil).' `Umar said, 'I did not mean that but I asked about that affliction which will spread like the waves of the sea.' I (Hudhaifa) said, 'O leader of the faithful believers! You need not be afraid of it as there is a closed door between you and it.' `Umar asked, Will the door be broken or opened?' I replied, 'It will be broken.' `Umar said, 'Then it will never be closed again.' I was asked whether `Umar knew that door. I replied that he knew it as one knows that there will be night before the tomorrow morning. I narrated a Hadith that was free from any misstatement" The subnarrator added that they deputized Masruq to ask Hudhaifa (about the door). Hudhaifa said, "The door was `Umar himself." ھم سے مسدد بن مسرھد نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش کی روایت سے بیان کیا ، اعمش ( سلیمان بن مھران ) نے کھا کھ مجھ سے شقیق بن مسلمھ نے بیان کیا ، شقیق نے کھا کھ میں نے حذیفھ بن یمان رضی اللھ عنھ سے سنا ۔ حذیفھ رضی اللھ عنھ نے فرمایا کھ ھم حضرت عمر رضی اللھ عنھ کی خدمت میں بیٹھے ھوئے تھے کھ آپ نے پوچھا کھ فتنھ سے متعلق رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ھے ؟ میں بولا ، میں نے اسے ( اسی طرح یاد رکھا ھے ) جیسے آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللھ عنھ بولے ، کھ تم رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے فتن کو معلوم کرنے میں بھت بے باک تھے ۔ میں نے کھا کھ انسان کے گھر والے ، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنھ ( کی چیز ) ھیں ۔ اور نماز ، روزھ ، صدقھ ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارھ ھیں ۔ حضرت عمر رضی اللھ عنھ نے فرمایا کھ میں تم سے اس کے متعلق نھیں پوچھتا ، مجھے تم اس فتنھ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ھوا بڑھے گا ۔ اس پر میں نے کھا کھ یا امیرالمؤمنین ! آپ اس سے خوف نھ کھائیے ۔ آپ کے اور فتنھ کے درمیان ایک بند دروازھ ھے ۔ پوچھا کیا وھ دروازھ توڑ دیا جائے گا یا ( صرف ) کھولا جائے گا ۔ میں نے کھا کھ توڑ دیا جائے گا ۔ حضرت عمر رضی اللھ عنھ بول اٹھے ، کھ پھر تو وھ کبھی بند نھیں ھو سکے گا ۔ شقیق نے کھا کھ ھم نے حذیفھ رضی اللھ عنھ سے پوچھا ، کیا حضرت عمر رضی اللھ عنھ اس دروازھ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے تو انھوں نے کھا کھ ھاں ! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا ۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ھے جو قطعاً غلط نھیں ھے ۔ ھمیں اس کے متعلق حذیفھ رضی اللھ عنھ سے پوچھنے میں ڈر ھوتا تھا ( کھ دروازھ سے کیا مراد ھے ) اس لیے ھم نے مسروق سے کھا ( کھ وھ پوچھیں ) انھوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کھ وھ دروازھ خود حضرت عمر رضی اللھ عنھ ھی تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 9 Hadith no 525
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 10 Hadith no 503


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ‏}‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذَا قَالَ ‏"‏ لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn Mas`ud: A man kissed a woman (unlawfully) and then went to the Prophet (PBUH) and informed him. Allah revealed: And offer prayers perfectly At the two ends of the day And in some hours of the night (i.e. the five compulsory prayers). Verily! good deeds remove (annul) the evil deeds (small sins) (11.114). The man asked Allah's Messenger (PBUH), "Is it for me?" He said, "It is for all my followers." ھم سے قتیبھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، سلیمان تیمی کے واسطھ سے ، انھوں نے ابوعثمان نھدی سے ، انھوں نے ابن مسعود رضی اللھ عنھما سے کھ ایک شخص نے کسی غیر عورت کا بوسھ لے لیا ۔ اور پھر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ کو اس حرکت کی خبر دے دی ۔ اس پر اللھ تعالیٰ نے یھ آیت نازل فرمائی ، کھ نماز دن کے دونوں حصوں میں قائم کرو اور کچھ رات گئے بھی ، اور بلاشبھ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ھیں ۔ اس شخص نے کھا کھ یا رسول اللھ ! کیا یھ صرف میرے لیے ھے ۔ تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ نھیں بلکھ میری تمام امت کے لیے یھی حکم ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 9 Hadith no 526
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 10 Hadith no 504


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي‏.‏


Chapter: Superiority of offering As-Salat (the prayers) at the stated times

Narrated `Abdullah: I asked the Prophet (PBUH) "Which deed is the dearest to Allah?" He replied, "To offer the prayers at their early stated fixed times." I asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To be good and dutiful to your parents" I again asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, 'To participate in Jihad (religious fighting) in Allah's cause." `Abdullah added, "I asked only that much and if I had asked more, the Prophet (PBUH) would have told me more." ھم سے ابوالولید ھشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے ، انھوں نے کھا کھ مجھے ولید بن عیزار کوفی نے خبر دی ، کھا کھ میں نے ابوعمر و شیبانی سے سنا ، وھ کھتے تھے کھ میں نے اس گھر کے مالک سے سنا ، ( آپ عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما کے گھر کی طرف اشارھ کر رھے تھے ) انھوں نے فرمایا کھ میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے پوچھا کھ اللھ تعالیٰ کی بارگاھ میں کون سا عمل زیادھ محبوب ھے ؟ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اپنے وقت پر نماز پڑھنا ، پھر پوچھا ، اس کے بعد ، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملھ رکھنا ۔ پوچھا اس کے بعد ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اللھ کی راھ میں جھاد کرنا ۔ ابن مسعود رضی اللھ عنھما نے فرمایا کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے مجھے یھ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم اور زیادھ بھی بتلاتے ۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 9 Hadith no 527
Web reference: Sahih Bukhari Volume 1 Book 10 Hadith no 505



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.