Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Tricks

كتاب الحيل

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet (PBUH) said, "For every betrayer there will be a flag by which he will be recognized on the Day of Resurrection. " ھم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبداللھ بن دینار نے ، اور ان سے حضرت عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما نے بیان کیا ، کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ھر دھوکھ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ھو گا جس کے ذریعھ وھ پھچانا جائے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6966
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 96


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلاَ يَأْخُذْ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏


Chapter: Chapter

Narrated Um Salama: The Prophet (PBUH) said, "I am only a human being, and you people have disputes. May be some one amongst you can present his case in a more eloquent and convincing manner than the other, and I give my judgment in his favor according to what I hear. Beware! If ever I give (by error) somebody something of his brother's right then he should not take it as I have only, given him a piece of Fire." (See Hadith No. 638. Vol. 3) ھم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے ھشام نے ، ان سے عروھ نے ، ان سے زینت بنت ام سلمھ نے اور ان سے ام سلمھ رضی اللھ عنھا نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا میں تمھارے ھی جیسا انسان ھوں اور بعض اوقات جب تم باھمی جھگڑا لاتے ھو تو ممکن ھے کھ تم میں سے بعض اپنے فریق مخالف کے مقابلھ میں اپنا مقدمھ پیش کرنے میں زیادھ چالاکی سے بولنے والا ھو اور اس طرح میں اس کے مطابق فیصلھ کر دوں جو میں تم سے سنتا ھوں ۔ پس جس شخص کے لیے بھی اس کے بھائی کے حق میں سے ، میں کسی چیز کا فیصلھ کر دوں تو وھ اسے نھ لے ۔ کیونکھ اس طرح میں اسے جھنم کا ایک ٹکڑا دیتا ھوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6967
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 97


حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلاَ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ ‏"‏ إِذَا سَكَتَتْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ لَمْ تُسْتَأْذَنِ الْبِكْرُ وَلَمْ تَزَوَّجْ‏.‏ فَاحْتَالَ رَجُلٌ فَأَقَامَ شَاهِدَىْ زُورٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا بِرِضَاهَا، فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا، وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّ الشَّهَادَةَ بَاطِلَةٌ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَطَأَهَا، وَهْوَ تَزْوِيجٌ صَحِيحٌ‏.‏


Chapter: (Tricks) in marriage

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "A virgin should not be married till she is asked for her consent; and the matron should not be married till she is asked whether she agrees to marry or not." It was asked, "O Allah's Apostle! How will she(the virgin) express her consent?" He said, "By keeping silent." Some people said, "If a virgin is not asked for her consent and she is not married, and then a man, by playing a trick presents two false witnesses that he has married her with her consent and the judge confirms his marriage as a true one, and the husband knows that the witnesses were false ones, then there is no harm for him to consummate his marriage with her and the marriage is regarded as valid." ھم سے مسلم بن ابراھیم نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھشام نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمھ نے اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ۔ کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نھ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نھ لے لی جائے اور کسی بیوھ کا نکاح اس وقت تک نھ کیا جائے جب تک اس کا حکم نھ معلوم کر لیا جائے ۔ پوچھا گیا یا رسول اللھ اس کی ( کنواری کی ) اجازت کی کیا صورت ھے ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اس کی خاموشی اجازت ھے ۔ اس کے باوجود بعض لوگ کھتے ھیں کھ اگر کنواری لڑکی سے اجازت نھ لی گئی اور نھ اس نے نکاح کیا ۔ لیکن کسی شخص نے حیلھ کر کے دو جھوٹے گواھ کھڑے کر دئیے کھ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ھے اس کی مرضی سے اور قاضی نے بھی اس کے نکاح کا فیصلھ کر دیا ۔ حالانکھ شوھر جانتا ھے کھ وھ جھوٹا ھے کھ گواھی جھوٹی تھی اس کے باوجود اس لڑکی سے صحبت کرنے میں اس کے لیے کوئی حرج نھیں ھے بلکھ یھ نکاح صحیح ھو گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6968
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 98


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهْىَ كَارِهَةٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَىْ جَارِيَةَ قَالاَ فَلاَ تَخْشَيْنَ، فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهْىَ كَارِهَةٌ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ خَنْسَاءَ‏.‏

Narrated Al-Qasim: A woman from the offspring of Ja`far was afraid lest her guardian marry her (to somebody) against her will. So she sent for two elderly men from the Ansar, `AbdurRahman and Mujammi', the two sons of Jariya, and they said to her, "Don't be afraid, for Khansa' bint Khidam was given by her father in marriage against her will, then the Prophet (PBUH) cancelled that marriage." (See Hadith No. 78) ھم سے علی بن عبداللھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان نے ، کھا ھم سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے قاسم نے کھ جعفر رضی اللھ عنھ کی اولاد میں سے ایک خاتون کو اس کا خطرھ ھوا کھ ان کا ولی ( جن کی وھ زیرپرورش تھیں ) ان کا نکاح کر دے گا ۔ حالانکھ وھ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھیں ۔ چنانچھ انھوں نے قبیلھ انصار کے دو شیوخ عبدالرحمٰن اور مجمع کو جو جاریھ کے بیٹے تھے کھلا بھیجا انھوں نے تسلی دی کھ کوئی خوف نھ کریں ۔ کیونکھ خنساء بنت خذام رضی اللھ عنھا کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا تھا ۔ سفیان نے بیان کیا کھ میں نے عبدالرحمٰن کو اپنے والد سے یھ کھتے ھوئے سنا ھے کھ خنساء رضی اللھ عنھا آخر حدیث تک بیان کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6969
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 99


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ ‏"‏ أَنْ تَسْكُتَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنِ احْتَالَ إِنْسَانٌ بِشَاهِدَىْ زُورٍ عَلَى تَزْوِيجِ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ بِأَمْرِهَا، فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا إِيَّاهُ، وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْهَا قَطُّ، فَإِنَّهُ يَسَعُهُ هَذَا النِّكَاحُ، وَلاَ بَأْسَ بِالْمُقَامِ لَهُ مَعَهَا‏.‏

Narrated Abu Haraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "A lady slave should not be given in marriage until she is consulted, and a virgin should not be given in marriage until her permission is granted." The people said, "How will she express her permission?" The Prophet (PBUH) said, "By keeping silent (when asked her consent)." Some people said, "If a man, by playing a trick, presents two false witnesses before the judge to testify that he has married a matron with her consent and the judge confirms his marriage, and the husband is sure that he has never married her (before), then such a marriage will be considered as a legal one and he may live with her as husband." ھم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کھا ھم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمھ نے ، اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کسی بیوھ سے اس وقت تک شادی نھ کی جائے جب تک اس کا حکم نھ معلوم کر لیا جائے اور کسی کنواری سے اس وقت تک نکاح نھ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نھ لے لی جائے ۔ صحابھ نے پوچھا اس کی اجازت کا کیا طریقھ ھے ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ۔ یھ کھ وھ خاموش ھو جائے ۔ پھر بھی بعض لوگ کھتے ھیں کھاگر کسی شخص نے دو جھوٹے گواھوں کے ذریعھ حیلھ کیا ( اور یھ جھوٹ گھڑا ) کھ کسی بیوھ عورت سے اس نے اس کی اجازت سے نکاح کیا ھے اور قاضی نے بھی اس مرد سے اس کے نکاح کا فیصلھ کر دیا جبکھ اس مرد کو خوب خبر ھے کھ اس نے اس عورت سے نکاح نھیں کیا ھے تو یھ نکاح جائز ھے اور اس کے لیے اس عورت کے ساتھ رھنا جائز ھو جائے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6970
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 100


حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي قَالَ ‏"‏ إِذْنُهَا صُمَاتُهَا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ هَوِيَ رَجُلٌ جَارِيَةً يَتِيمَةً أَوْ بِكْرًا، فَأَبَتْ فَاحْتَالَ فَجَاءَ بِشَاهِدَىْ زُورٍ عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا، فَأَدْرَكَتْ فَرَضِيَتِ الْيَتِيمَةُ، فَقَبِلَ الْقَاضِي شَهَادَةَ الزُّورِ، وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ بِبُطْلاَنِ ذَلِكَ، حَلَّ لَهُ الْوَطْءُ‏.‏

Narrated `Aisha: Allah's Messenger (PBUH) said, "It is essential to have the consent of a virgin (for the marriage). I said, "A virgin feels shy." The Prophet; said, "Her silence means her consent." Some people said, "If a man falls in love with an orphan slave girl or a virgin and she refuses (him) and then he makes a trick by bringing two false witnesses to testify that he has married her, and then she attains the age of puberty and agrees to marry him and the judge accepts the false witness and the husband knows that the witnesses were false ones, he may consummate his marriage." ھم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے ابن ابی ملیکھ نے ، ان سے ذکوان نے ، اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ۔ کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی ۔ میں نے پوچھا کھ کنواری لڑکی شرمائے گی ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اس کی خاموشی ھی اجازت ھے ۔  اور بعض لوگوں کا کھنا ھے کھ کوئی شخص اگر کسی یتیم لڑکی یا کنواری لڑکی سے نکاح کا خواھشمند ھو ۔ لیکن لڑکی راضی نھ ھو اس پر اس نے حیلھ کیا اور دو جھوٹے گواھوں کی گواھی اس کی دلائی کھ اس نے لڑکی سے شادی کر لی ھے پھر جب وھ لڑکی جوان ھوئی اور اس نکاح سے وھ بھی راضی ھو گئی اور قاضی نے اس جھوٹی شھادت کو قبول کر لیا حالانکھ وھ جانتا ھے کھ یھ سارا ھی جھوٹ اور فریب ھے ۔ تب بھی اس سے جماع کرنا جائز ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6971
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 101



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.