Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Tricks

كتاب الحيل

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَخْطُبُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ هَاجَرَ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏


Chapter: Avoiding the use of tricks

Narrated `Umar bin Al-Khattab: The Prophet (PBUH) said, 'O people! The reward of deeds depends upon the intentions, and every person will get the reward according to what he has intended. So, whoever emigrated for Allah and His Apostle, then his emigration was for Allah and His Apostle, and whoever emigrated to take worldly benefit or for a woman to marry, then his emigration was for what he emigrated for." ھم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کھا ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے محمد بن ابراھیم تیمی نے ، ان سے علقمھ بن وقاص لیثی نے بیان کیا کھ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللھ عنھ سے خطبھ میں سنا انھوں نے کھا کھ میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کو یھ فرماتے ھوئے سنا تھا اے لوگو ! اعمال کا دارومدار نیتوں پر ھے اور ھر شخص کو وھی ملے گا جس کی وھ نیت کرے گا پس جس کی ھجرت اللھ اور اس کے رسول کی طرف ھو اسے ھجرت ( کا ثواب ملے گا ) اور جس کی ھجرت کا مقصد دنیا ھو گی کھ جسے وھ حاصل کر لے یا کوئی عورت ھو گی جس سے وھ شادی کر لے تو اس کی ھجرت اسی کے لیے ھو گی جس کے لیے اس نے ھجرت کی ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6953
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 85


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ‏"‏‏.‏


Chapter: (Tricks) in As-Salat

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "Allah does not accept prayer of anyone of you if he does Hadath (passes wind) till he performs the ablution (anew). مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ، ان سے ھمام نے ، ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اللھ تعالیٰ تم میں سے کسی ایسے شخص کی نماز قبول نھیں کرتا جسے وضو کی ضرورت ھو یھاں تک کھ وھ وضو کر لے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6954
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 86


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُ فَرِيضَةَ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ‏"‏‏.‏


Chapter: (Tricks) in Zakat

Narrated Anas: That Abu Bakr wrote for him, Zakat regulations which Allah's Messenger (PBUH) had made compulsory, and wrote that one should neither collect various portions (of the property) nor divide the property into various portions in order to avoid paying Zakat. ھم سے محمد بن عبداللھ الانصاری نے بیان کیا ، کھا ھم سے ھمارے والد نے بیان کیا ، کھا ھم سے ثمامھ بن عبداللھ بن انس نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ حضرت ابوبکر رضی اللھ عنھ نے انھیں ( زکوٰۃ ) کا حکم نامھ لکھ کر بھیجا جو رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرض قرار دیا تھا کھ متفرق صدقھ کو ایک جگھ جمع نھ کیا جائے اور نھ مجتمع صدقھ کو متفرق کیا جائے زکوٰۃ کے خوف سے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6955
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 87


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ ‏"‏ شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ قَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ‏.‏ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي عِشْرِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ حِقَّتَانِ‏.‏ فَإِنْ أَهْلَكَهَا مُتَعَمِّدًا، أَوْ وَهَبَهَا أَوِ احْتَالَ فِيهَا فِرَارًا مِنَ الزَّكَاةِ، فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ‏.‏

Narrated Talha bin 'Ubaidullah: A bedouin with unkempt hair came to Allah's Messenger (PBUH) and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! Tell me what Allah has enjoined on me as regards prayers." The Prophet (PBUH) said, "You have to offer perfectly the five (compulsory) prayers in a day and a night (24 hrs.), except if you want to perform some extra optional prayers." The bedouin said, "Tell me what Allah has enjoined on me as regards fasting." The Prophet (PBUH) said, "You have to observe fast during the month of Ramadan except if you fast some extra optional fast." The bedouin said, "Tell me what Allah has enjoined on me as regard Zakat." The Prophet (PBUH) then told him the Islamic laws and regulations whereupon the bedouin said, "By Him Who has honored you, I will not perform any optional deeds of worship and I will not leave anything of what Allah has enjoined on me." Allah's Messenger (PBUH) said, "He will be successful if he has told the truth (or he will enter Paradise if he said the truth)." And some people said, "The Zakat for one-hundred and twenty camels is two Hiqqas, and if the Zakat payer slaughters the camels intentionally or gives them as a present or plays some other trick in order to avoid the Zakat, then there is no harm (in it) for him. ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوسھیل نافع نے ، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے ، اور ان سے طلحھ بن عبیداللھ رضی اللھ عنھ نے کھ ایک دیھاتی ( تمام بن ثعلبھ ) رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ھوا کھ اس کے سر کے بال پراگندھ تھے اور عرض کیا یا رسول اللھ ! مجھے بتائیے کھ اللھ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ھیں ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ پانچ وقت کی نمازیں ۔ سوا ان نمازوں کے جو تم نفلی پڑھو ۔ اس نے کھا مجھے بتائیے کھ اللھ تعالیٰ نے کتنے روزے فرض کئے ھیں ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ رمضان کے مھینے کے روزے سوا ان کے جو تم نفلی رکھو ۔ اس نے پوچھا مجھے بتائیے کھ اللھ تعالیٰ نے زکوٰۃ کتنی فرض کی ھے ؟ بیان کیا کھ اس پر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے زکوٰۃ کے مسائل بیان کئے ۔ پھر اس دیھاتی نے کھا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یھ عزت بخشی ھے جو اللھ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ھے اس میں نھ میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نھ کمی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اگر اس نے صحیح کھا ھے تو جنت میں جائے گا اور بعض لوگوں نے کھا کھ ایک سو بیس اونٹوں میں دو حصے تین تین برس کی دو اونٹنیاں جو چوتھے برس میں لگی ھوں زکوٰۃ میں لازم آتی ھیں پس مگر کسی نے ان اونٹوں کو عمداً تلف کر ڈالا ( مثلاً ذبح کر دیا ) اور کوئی حیلھ کیا تو اس کے اوپر سے زکوٰۃ ساقط ھو گی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6956
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 88


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ فَيَطْلُبُهُ وَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ‏.‏ قَالَ وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا مَا رَبُّ النَّعَمِ لَمْ يُعْطِ حَقَّهَا، تُسَلَّطُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَخْبِطُ وَجْهَهُ بِأَخْفَافِهَا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ، فَخَافَ أَنْ تَجِبَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَبَاعَهَا بِإِبِلٍ مِثْلِهَا، أَوْ بِغَنَمٍ، أَوْ بِبَقَرٍ، أَوْ بِدَرَاهِمَ، فِرَارًا مِنَ الصَّدَقَةِ بِيَوْمٍ، احْتِيَالاً فَلاَ بَأْسَ عَلَيْهِ، وَهْوَ يَقُولُ إِنْ زَكَّى إِبِلَهُ قَبْلَ أَنْ يَحُولَ الْحَوْلُ بِيَوْمٍ أَوْ بِسَنَةٍ، جَازَتْ عَنْهُ‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "On the Day of Resurrection the Kanz (Treasure or wealth of which, Zakat has not been paid) of anyone of you will appear in the shape of a huge bald headed poisonous male snake and its owner will run away from it, but it will follow him and say, 'I am your Kanz.'" The Prophet (PBUH) added, "By Allah, that snake will keep on following him until he stretches out his hand and let the snake swallow it." Allah's Messenger (PBUH) added, "If the owner of camels does not pay their Zakat, then, on the Day of Resurrection those camels will come to him and will strike his face with their hooves." Some people said: Concerning a man who has camels, and is afraid that Zakat will be due so he sells those camels for similar camels or for sheep or cows or money one day before Zakat becomes due in order to avoid payment of their Zakat cunningly! "He has not to pay anything." The same scholar said, "If one pays Zakat of his camels one day or one year prior to the end of the year (by the end of which Zakat becomes due), his Zakat will be valid." مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کھا ھم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے ھمام نے اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانھ چتکبرا اژدھابن کر آئے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا لیکن وھ اسے تلاش کر رھا ھو گا اور کھے گا کھ میں تمھارا خزانھ ھوں ۔ فرمایا واللھ وھ مسلسل تلاش کرتا رھے گا یھاں تک کھ وھ شخص اپنا ھاتھ پھیلادے گا اور اژدھا اسے لقمھ بنائے گا ۔ اور رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ۔ جانوروں کے مالک جنھوں نے ان کا شرعی حق ادا نھیں کیا ھو گا قیامت کے دن ان پر وھ جانور غالب کردےئے جائیں گے اور وھ اپنی کھروں سے اس کے چھرے کو نوچیں گے ۔  اور بعض لوگوں نے یھ کھھ دیا کھ اگر ایک شخص کے پاس اونٹ ھیں اور اسے خطرھ ھے کھ زکوٰۃ اس پر واجب ھو جائے گی اور اس لیے وھ کسی دن زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حیلھ کے طور پر اسی جیسے اونٹ یا بکری یا گائے یا دراھم کے بدلے میں بیچ دے تو اس پر کوئی زکوٰۃ نھیں اور پھر اس کا یھ بھی کھنا ھے کھ اگر وھ اپنے اونٹ کی زکوٰۃ سال پورے ھونے سے ایک دن یا ایک سال پھلے دیدے تو زکوٰۃ ادا ھو جاتی ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6957, 6958
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 89


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِذَا بَلَغَتِ الإِبِلُ عِشْرِينَ، فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ، فَإِنْ وَهَبَهَا قَبْلَ الْحَوْلِ أَوْ بَاعَهَا، فِرَارًا وَاحْتِيَالاً لإِسْقَاطِ الزَّكَاةِ، فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ، وَكَذَلِكَ إِنْ أَتْلَفَهَا فَمَاتَ، فَلاَ شَىْءَ فِي مَالِهِ‏.‏

Narrated Ibn Abbas: Sa'd bin 'Ubada Al-Ansari sought the verdict of Allah's Messenger (PBUH) regarding a vow made by his mother who had died before fulfilling it. Allah's Messenger (PBUH) said, "Fulfill it on her behalf." Some people said, "If the number of camels reaches twenty, then their owner has to pay four sheep as Zakat; and if their owner gives them as a gift or sells them in order to escape the payment of Zakat cunningly before the completion of a year, then he is not to pay anything, and if he slaughters them and then dies, then no Zakat is to be taken from his property." ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شھاب نے ، ان سے عبیداللھ بن عتبھ نے ، اور ان سے ابن عباس رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ سعد بن عبادھ انصاری رضی اللھ عنھ نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں سوال کیا جو ان کی والدھ پر تھی اور ان کی وفات نذر پوری کرنے سے پھلے ھی ھو گئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ تو ان کی طرف سے پوری کر ۔  اس کے باوجود بعض لوگ یھ کھتے ھیں کھ جب اونٹ کی تعداد بیس ھو جائے تو اس میں چار بکریاں لازم ھیں ۔ پس اگر سال پورا ھونے سے پھلے اونٹ کو ھبھ کر دے یا اسے بیچ دے ۔ زکوٰۃ سے بچنے یا حیلھ کے طور پر تاکھ زکوٰۃ اس پر ختم ھو جائے تو اس پر کوئی چیز واجب نھیں ھو گی ۔ یھی حال اس صورت میں ھے اگر اس نے ضائع کر دیا اور پھر مرگیا تو اس کے مال پر کچھ واجب نھیں ھو گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6959
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 90



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.