Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Wedlock, Marriage (Nikaah)

كتاب النكاح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏


Chapter: "If they be poor, Allah will enrich them out of His Bounty."

Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi: A woman came to Allah's Messenger (PBUH) and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! I have come to give you myself in marriage (without Mahr)." Allah's Messenger (PBUH) looked at her. He looked at her carefully and fixed his glance on her and then lowered his head. When the lady saw that he did not say anything, she sat down. A man from his companions got up and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! If you are not in need of her, then marry her to me." The Prophet (PBUH) said, "Have you got anything to offer?" The man said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (PBUH)!" The Prophet (PBUH) said (to him), "Go to your family and see if you have something." The man went and returned, saying, "No, by Allah, I have not found anything." Allah's Apostle said, "(Go again) and look for something, even if it is an iron ring." He went again and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (PBUH)! I could not find even an iron ring, but this is my Izar (waist sheet)." He had no rida. He added, "I give half of it to her." Allah's Messenger (PBUH) said, "What will she do with your Izar? If you wear it, she will be naked, and if she wears it, you will be naked." So that man sat down for a long while and then got up (to depart). When Allah's Messenger (PBUH) saw him going, he ordered that he be called back. When he came, the Prophet (PBUH) said, "How much of the Qur'an do you know?" He said, "I know such Sura and such Sura," counting them. The Prophet (PBUH) said, "Do you know them by heart?" He replied, "Yes." The Prophet (PBUH) said, "Go, I marry her to you for that much of the Qur'an which you have." ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبد العزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سھل بن سعد ساعدی رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ایک عورت نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کھ یا رسول اللھ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لئے وقف کرنے حاضر ھوئی ھوں ۔ راوی نے بیان کیا کھ پھر انحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا ۔ جب اس عورت نے دیکھا کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کے متعلق کوئی فیصلھ نھیں فرمایا تو وھ بیٹھ گئی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ھوئے اور عرض کیا یا رسول اللھ ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نھیں ھے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے ۔ آپ نے دریافت فرمایا تمھارے پاس ( مھر کے لئے ) کوئی چیز ھے ؟ انھوں نے عرض کیا کھ نھیں اللھ کی قسم یا رسول اللھ ! آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے فرمایا کھ اپنے گھر جا اور دیکھو ممکن ھے تمھیں کوئی چیز مل جائے ۔ وھ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا اللھ کی قسم میں نے کچھ نھیں پایا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فر مایا اگر لوھے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ ۔ وھ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا ۔ اللھ کی قسم ، یا رسول اللھ ! میرے پاس لوھے کی ایک انگوٹھی بھی نھیں البتھ میرے پاس ایک تھمد ھے ۔ انھیں ( خاتون کو ) اس میں سے آدھا دے دیجئیے ۔ حضرت سھل بن سعد رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ا ن کے پاس چادر بھی نھیں تھی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا یھ تمھارے اس تھمد کا کیا کرے گی ۔ اگر تم اسے پھنو گے تو ان کے لئے اس میں سے کچھ نھیں بچے گا اور اگر وھ پھن لے تو تمھارے لئے کچھ نھیں رھے گا ۔ اس کے بعد وھ صحابی بیٹھ گئے ۔ کافی دیر تک بیٹھے رھنے کے بعد جب وھ کھڑے ھوئے تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں دیکھا کھ وھ واپس جا رھے ھیں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے انھیں بلوایا جب وھ آئے تو آپ نے دریافت فرمایا کھ تمھیں قرآن مجید کتنا یاد ھے ؟ انھوں نے عرض کیا کھ فلاں فلاں سورتیں یاد ھیں ۔ انھوں نے گن کر بتا ئیں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے پو چھا کیا تم انھیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ھو ؟ انھوں نے عرض کیا کھ جی ھاں ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا پھر جاؤ ۔ میں نے انھیں تمھارے نکاح میں دیا ۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمھیں یاد ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5087
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 24


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ،، وَكَانَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبَنَّى سَالِمًا، وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهْوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلاً فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَمَوَالِيكُمْ‏}‏ فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ ـ وَهْىَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ ـ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ‏.‏

Narrated `Aisha: Abu Hudhaifa bin `Utba bin Rabi`a bin `Abdi Shams who had witnessed the battle of Badr along with the Prophet (PBUH) adopted Salim as his son, to whom he married his niece, Hind bint Al-Walid bin `Utba bin Rabi`a; and Salim was the freed slave of an Ansar woman, just as the Prophet (PBUH) had adopted Zaid as his son. It was the custom in the Pre-lslamic Period that if somebody adopted a boy, the people would call him the son of the adoptive father and he would be the latter's heir. But when Allah revealed the Divine Verses: 'Call them by (the names of) their fathers . . . your freed-slaves,' (33.5) the adopted persons were called by their fathers' names. The one whose father was not known, would be regarded as a Maula and your brother in religion. Later on Sahla bint Suhail bin `Amr Al-Quraishi Al-`Amiri-- and she was the wife of Abu- Hudhaifa bin `Utba--came to the Prophet (PBUH) and said, "O Allah's Messenger (PBUH)! We used to consider Salim as our (adopted) son, and now Allah has revealed what you know (regarding adopted sons)." The sub-narrator then mentioned the rest of the narration. ھم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کھا ھم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زھری نے ، انھیں عروھ بن زبیرنے خبر دی اور انھیں عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ ابوحذیفھ بن عتبھ بن ربیعھ بن عبد شمس ( مھشم ) نے جو ان صحابھ میں سے تھے جنھوںنے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ غزوھ بدر میں شرکت کی تھی ۔ سالم بن معقل رضی اللھ عنھ کو لے پالک بیٹا بنایا ، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ھندھ بنت الولید بن عتبھ بن ربیعھ سے کر دیا ۔ پھلے سالم رضی اللھ عنھ ایک انصاری خاتون ( شبیعھ بنت یعار ) کے آزاد کردھ غلام تھے لیکن حذیفھ نے ان کو اپنا منھ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے زید کو ( جو آپ ھی کے آزاد کردھ غلام تھے ) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاھلیت کے زمانے میں یھ دستور تھا کھ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصھ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یھ آیت اتری کھ ” انھیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو “ اللھ تعالیٰ کے فرمان ” وموالیکم “ تک تو لوگ انھیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نھ ھوتا تو اسے ” مولی “ اور دینی بھائی کھا جاتا ۔ پھر سھلھ بنت سھیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللھ عنھا جو حضرت ابوحذیفھ رضی اللھ عنھ کی بیوی ھیں نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئیں اور عرض کیا یا رسول اللھ ! ھم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللھ نے جو حکم اتارا وھ آپ کو معلوم ھے پھر آخر تک حدیث بیان کی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5088
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 25


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَجِدُنِي إِلاَّ وَجِعَةً‏.‏ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ حُجِّي وَاشْتَرِطِي، قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ‏"‏‏.‏ وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ‏.‏

Narrated `Aisha: Allah's Messenger (PBUH) entered upon Dubaa bint Az-Zubair and said to her, "Do you have a desire to perform the Hajj?" She replied, "By Allah, I feel sick." He said to her, "Intend to perform Hajj and stipulate something by saying, 'O Allah, I will finish my Ihram at any place where You stop me (i.e. I am unable to go further)." She was the wife of Al-Miqdad bin Al-Aswad. ھم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابواسامھ نے بیان کیا ان سے ھشام بن عروھ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ضباعھ بنت زبیر رضی اللھ عنھما کے پاس گئے ( یھ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمھارا ارادھ حج کا ھے ؟ انھوں نے عرض کیا اللھ کی قسم میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ھوں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے فرمایا کھ پھربھی حج کا احرام باندھ لے ۔ البتھ شرط لگا لینا اور یھ کھھ لینا کھ اے اللھ ! میں اس وقت حلال ھو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجھ سے ) روک لے گا ۔ اور ( ضباعھ بنت زبیر قریشی رضی اللھ عنھا ) مقداد بن اسود رضی اللھ عنھ کے نکاح میں تھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5089
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 26


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "A woman is married for four things, i.e., her wealth, her family status, her beauty and her religion. So you should marry the religious woman (otherwise) you will be a losers. ھم سے مسدد بن مسرھد نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحی بن سعید قطان نے ، ان سے عبیداللھ عموی نے ، کھ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوھریرھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ھے اس کے مال کی وجھ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجھ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجھ سے اور اس کے دین کی وجھ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر ، اگر ایسا نھ کرے تو تیرے ھاتھوں کومٹی لگے گی ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ھو گی ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5090
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 27


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْتَمَعَ‏.‏ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ ‏"‏ مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ يُسْتَمَعَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا ‏"‏‏.‏

Narrated Sahl: A man passed by Allah's Messenger (PBUH) and Allah s Apostle asked (his companions) "What do you say about this (man)?" They replied "If he asks for a lady's hand, he ought to be given her in marriage; and if he intercedes (for someone) his intercessor should be accepted; and if he speaks, he should be listened to." Allah's Messenger (PBUH) kept silent, and then a man from among the poor Muslims passed by, an Allah's Apostle asked (them) "What do you say about this man?" They replied, "If he asks for a lady's hand in marriage he does not deserve to be married, and he intercedes (for someone), his intercession should not be accepted; And if he speaks, he should not be listened to.' Allah's Messenger (PBUH) said, "This poor man is better than so many of the first as filling the earth.' ھم سے ابراھیم بن حمزھ نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبد العزیز بن ابی حازم نے ، ان سے ان کے والد سلمھ بن دینار نے ، ان سے سھل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کھ ایک صاحب ( جو مالدار تھے ) رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے سامنے سے گزرے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابھ سے پوچھا کھ یھ کیسا شخص ھے ؟ صحابھ نے عرض کیا کھ یھ اس لائق ھے کھ اگر یھ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے ، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے ، اگر کوئی بات کھے تو غور سے سنی جائے ۔ سھل نے بیان کیا کھ حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم اس پر چپ ھو رھے ۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے ، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا کھ اس کے متعلق تمھارا کیا خیال ھے ؟ صحابھ نے عرض کیا کھ یھ اس قابل ھے کھ اگر کسی کے یھاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نھ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نھ کی جائے ، اگر کوئی بات کھے تو اس کی بات نھ سنی جائے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اس پر فرمایا ، یھ شخص اکیلا پھلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بھتر ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5091
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 28


حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ ‏{‏وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى‏}‏ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا، وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ، قَالَتْ وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ‏}‏ إِلَى ‏{‏وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ‏}‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى فِي الصَّدَاقِ‏.‏


Chapter: The marriage of a poor man with a well-to-do lady

Narrated 'Urwa: that he asked `Aisha regarding the Verse: 'If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphans (4.3) She said, "O my nephew! This Verse refers to the orphan girl who is under the guardianship of her guardian who likes her beauty and wealth and wishes to (marry her and) curtails her Mahr. Such guardians have been forbidden to marry them unless they do justice by giving them their full Mahr, and they have been ordered to marry other than them. The people asked for the verdict of Allah's Messenger (PBUH) after that, so Allah revealed: 'They ask your instruction concerning the women . . . whom you desire to marry.' (4.127) So Allah revealed to them that if the orphan girl had beauty and wealth, they desired to marry her and for her family status. They can only marry them if they give them their full Mahr. And if they had no desire to marry them because of their lack of wealth and beauty, they would leave them and marry other women. So, as they used to leave them, when they had no interest, in them, they were forbidden to marry them when they had such interest, unless they treated them justly and gave them their full Mahr Apostle said, 'If at all there is evil omen, it is in the horse, the woman and the house." a lady is to be warded off. And the Statement of Allah: 'Truly, among your wives and your children, there are enemies for you (i.e may stop you from the obedience of Allah)' (64.14) مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کھا ھم سے لیث بن سعد نے ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شھاب نے ، انھیں عروھ بن زبیر نے خبر دی کھ انھوں نے عائشھ رضی اللھ عنھا سے آیت ” اور اگر تمھیں خوف ھو کھ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نھیں کر سکو گے ۔ “ ( سورۃ نساء ) کے متعلق سوال کیا ۔ عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھا میرے بھانجے اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ھوا ھے جو اپنے ولی کی پرورش میں ھو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یھ چاھے کھ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مھر میں کمی کرنے کا بھی ارادھ ھو ۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ھے جب وھ ان کا مھر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وھ ایسا نھ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کھ وھ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں ۔ عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ لوگوں نے رسول اللھ سے اس کے بعد سوال کیا تو اللھ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت ویستفتونک فی النساء سے وتر غبون ان تنکحوھن تک نازل کی ۔ اس آیت میں اللھ تعالیٰ نے یھ حکم دیا کھ یتیم لڑکیا ں اگر خوبصورت اور صاحب مال ھوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاھتے ھیں ، اس کا خاندان پسند کرتے ھیں اور مھر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ھیں ۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ھو اور مال بھی نھ ھو تو پھر ان کی طرف رغبت نھیں ھو گی اور وھ انھیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ھیں ۔ عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھا کھ آیت کا مطلب یھ ھے کھ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ھیں جب وھ نادار ھو اور خوبصورت نھ ھو ایسے ھی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاھئے جب وھ مالدار اور خوبصورت ھو البتھ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مھر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5092
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 29



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.