حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ‏.‏ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ بَعْدُ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏

Narrated Salim's father: In the lifetime of the Prophet (PBUH) whosoever saw a dream would narrate it to Allah's Messenger (PBUH). I had a wish of seeing a dream to narrate it to Allah's Messenger (PBUH) (p.b.u.h) I was a grown up boy and used to sleep in the Mosque in the lifetime of the Prophet. I saw in the dream that two angels caught hold of me and took me to the Fire which was built all round like a built well and had two poles in it and the people in it were known to me. I started saying, "I seek refuge with Allah from the Fire." Then I met another angel who told me not to be afraid. I narrated the dream to Hafsa who told it to Allah's Messenger (PBUH). The Prophet said, "Abdullah is a good man. I wish he prayed Tahajjud." After that `Abdullah (i.e. Salim's father) used to sleep but a little at night. ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے حدیث بیان کی ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سالم نے ، انہیں ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دیتے ) میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ، میں ابھی نوجوان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتا تھا ۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے ( یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے ) اس کے دو جانب تھے ۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا ۔ میں کہنے لگا دوزخ سے خدا کی پناہ ! انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا ڈرو نہیں ۔ یہ خواب میں نے ( اپنی بہن ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ تعبیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے ۔ کاش رات میں نماز پڑھا کرتا ۔ ( راوی نے کہا کہ آپ کے اس فرمان کے بعد ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے ( زیادہ عبادت ہی کرتے رہتے ) ۔

Book reference: Sahih Bukhari Book 19 Hadith 1121, 1122
Web reference: Sahih Bukhari Volume 2 Book 21 Hadith 222