حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ دَعَا النَّاسَ طَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ـ قَالَ ـ فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ، وَبَقِيَ ثَلاَثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ـ قَالَ ـ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا‏}‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik: When Allah's Messenger (PBUH) married Zainab bint Jahsh, he invited the people who took their meals and then remained sitting and talking. The Prophet (PBUH) pretended to be ready to get up, but the people did not get up. When he noticed that, he got up, and when he had got up, some of those people got up along with him and there remained three (who kept on sitting). Then the Prophet (PBUH) came back and found those people still sitting. Later on those people got up and went away. So I went to the Prophet (PBUH) and informed him that they had left. The Prophet (PBUH) came, and entered (his house). I wanted to enter(along with him) but he dropped a curtain between me and him. Allah then revealed: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's Houses until leave is given... (to His statement)... Verily! That shall be an enormity, in Allah's sight.' (33.53) ہم سے حسن بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے ، کہا میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ ابو مجلز ( حق بن حمید ) سے بیان کرتے تھے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا ۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن لوگ ( بےحد بیٹھے ہوئے تھے ) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لئے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ ( تین آدمی ) بھی جا چکے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے ۔ میں نے بھی اند ر جانا چاہا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ اے ایمان والو ! نبی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے ۔ ارشادہوا ” ان ذالکم عند اللہ اجرا عظیماً “ تک ۔

Book reference: Sahih Bukhari Book 79 Hadith 6271
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 74 Hadith 288