Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Tricks

كتاب الحيل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ سَعْدًا، سَاوَمَهُ بَيْتًا بِأَرْبَعِمِائَةِ مِثْقَالٍ فَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ‏"‏‏.‏ لَمَا أَعْطَيْتُكَ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنِ اشْتَرَى نَصِيبَ دَارٍ، فَأَرَادَ أَنْ يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ، وَهَبَ لاِبْنِهِ الصَّغِيرِ وَلاَ يَكُونُ عَلَيْهِ يَمِينٌ‏.‏

Narrated 'Amr bin Ash-Sharid: Abu Rafi' said that Sa'd offered him four hundred Mithqal of gold for a house. Abu Rafi ' said, "If I had not heard Allah's Messenger (PBUH) saying, 'A neighbor has more right to be taken care of by his neighbor,' then I would not have given it to you." Some people said, "If one has bought a portion of a house and wants to cancel the right of preemption, he may give it as a present to his little son and he will not be obliged to take an oath." ھم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابراھیم بن میسرھ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن شرید نے ، ان سے ابورافع نے کھ حضرت سعد رضی اللھ عنھ نے ان کے ایک گھر کی چار سو مثقال قیمت لگائی تو انھوں نے کھا کھ اگر میں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو یھ کھتے نھ سنا ھوتا کھ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادھ مستحق ھے تو میں اسے تمھیں نھ دیتا ۔  اور بعض لوگ کھتے ھیں کھ اگر کسی نے کسی گھر کا حصھ خریدا اور چاھا کھ اس کا حق شفھ باطل کر دے تو اسے اس گھر کو اپنے چھوٹے بیٹے کو ھبھ کر دینا چاھیے ۔ اب نابالغ پر قسم بھی نھیں ھو گی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6978
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 107


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ اللُّتَبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلاَّنِي اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي‏.‏ أَفَلاَ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ، وَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، إِلاَّ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطِهِ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ بَصْرَ عَيْنِي وَسَمْعَ أُذُنِي‏.‏


Chapter: Tricks by an official person to obtain presents

Narrated Abu Humaid As-Sa`idi: Allah's Messenger (PBUH) appointed a man called Ibn Al-Lutabiyya to collect the Zakat from Bani Sulaim's tribe. When he returned, the Prophet (PBUH) called him to account. He said (to the Prophet, 'This is your money, and this has been given to me as a gift." On that, Allah's Messenger (PBUH) said, "Why didn't you stay in your father's and mother's house to see whether you will be given gifts or not if you are telling the truth?" Then the Prophet (PBUH) addressed us, and after praising and glorifying Allah, he said: "Amma Ba'du", I employ a man from among you to manage some affair of what Allah has put under my custody, and then he comes to me and says, 'This is your money and this has been given to me as a gift. Why didn't he stay in his father's and mother's home to see whether he will be given gifts or not? By Allah, not anyone of you takes a thing unlawfully but he will meet Allah on the Day of Resurrection, carrying that thing. I do not want to see any of you carrying a grunting camel or a mooing cow or a bleating sheep on meeting Allah." Then the Prophet (PBUH) raised both his hands till the whiteness of his armpits became visible, and he said, "O Allah! Haven't I have conveyed (Your Message)?" The narrator added: My eyes witnessed and my ears heard (that Hadith). ھم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے ابواسامھ نے بیان کیا ‘ ان سے ھشام نے ‘ ان سے ان کے والد عروھ نے اور ان سے ابوحمید الساعدی رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک شخص کو بنی سلیم کے صدقات کی وصولی کے لیے عامل بنایا ان کا نام ابن اللتیبھ تھا پھر جب یھ عامل واپس آیا اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کا حساب لیا ‘ اس نے سر کاری مال علیحدھ کیا اور کچھ مال کی نسبت کھنے لگا کھ یھ ( مجھے ) تحفھ میں ملا ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اس پر فرمایا پھر کیوں نھ تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھے رھے اگر تم سچے ھو تو وھیں یھ تحفھ تمھارے پاس آ جاتا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ھمیں خطبھ دیا اور اللھ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا امابعد ! میں تم میں سے کسی ایک کو اس کام پر عامل بناتا ھوں جس کا اللھ نے مجھے والی بنایا ھے پھر وھ شخص آتا ھے اور کھتا ھے کھ یھ تمھارا مال اور یھ تحفھ ھے جو مجھے دیا گیا تھا ۔ اسے اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رھنا چاھئیے تھا تاکھ اس کا تحفھ وھیں پھنچ جاتا ۔ اللھ کی قسم تم میں سے جو بھی حق کے سوا کوئی چیز لے گا وھ اللھ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کھ اس چیز کو اٹھائے ھوئے ھو گا بلکھ میں تم میں ھر اس شخص کو پھچان لوں گا جو اللھ سے اس حال میں ملے گا کھ اونٹ اٹھائے ھو گا جو بلبلا رھا ھو گا یا گائے اٹھائے ھو گا جو اپنی آواز نکال رھی ھو گی یا بکری اٹھائے ھو گا جو اپنی آواز نکال رھی ھو گی ۔ پھر آپ نے اپنا ھاتھ اٹھایا یھاں تک کھ آپ کے بغل کی سفیدی دکھائی دینے لگی اور فرمایا اے اللھ رضی اللھ عنھ کیا میں نے پھنچا دیا ۔ یھ فرماتے ھوئے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کو میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں سے سنا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6979
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 108


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنِ اشْتَرَى دَارًا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يَشْتَرِيَ الدَّارَ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَيَنْقُدَهُ تِسْعَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَتِسْعَمِائَةَ دِرْهَمٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وَيَنْقُدَهُ دِينَارًا بِمَا بَقِيَ مِنَ الْعِشْرِينَ الأَلْفَ، فَإِنْ طَلَبَ الشَّفِيعُ أَخَذَهَا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَإِلاَّ فَلاَ سَبِيلَ لَهُ عَلَى الدَّارِ، فَإِنِ اسْتُحِقَّتِ الدَّارُ، رَجَعَ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِمَا دَفَعَ إِلَيْهِ، وَهْوَ تِسْعَةُ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَتِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِرْهَمًا وَدِينَارٌ، لأَنَّ الْبَيْعَ حِينَ اسْتُحِقَّ انْتَقَضَ الصَّرْفُ فِي الدِّينَارِ، فَإِنْ وَجَدَ بِهَذِهِ الدَّارِ عَيْبًا وَلَمْ تُسْتَحَقَّ، فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا عَلَيْهِ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ‏.‏ قَالَ فَأَجَازَ هَذَا الْخِدَاعَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ دَاءَ وَلاَ خِبْثَةَ وَلاَ غَائِلَةَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Rafi`: The Prophet (PBUH) said, "The neighbor has more right to be taken care of by his neighbor (than anyone else)." Some men said, "If one wants to buy a house for 20,000 Dirhams then there is no harm to play a trick to deprive somebody of preemption by buying it (just on paper) with 20,000 Dirhams but paying to the seller only 9,999 Dirhams in cash and then agree with the seller to pay only one Dinar in cash for the rest of the price (i.e. 10,001 Dirhams). If the preemptor offers 20,000 Dirhams for the house, he can buy it otherwise he has no right to buy it (by this trick he got out of preemption). If the house proves to belong to somebody else other than the seller, the buyer should take back from the seller what he has paid, i.e., 9,999 Dirhams and one Dinar, because if the house proves to belong to somebody else, so the whole bargain (deal) is unlawful. If the buyer finds a defect in the house and it does not belong to somebody other than the seller, the buyer may return it and receive 20,000 Dirhams (instead of 9999 Dirham plus one Dinar) which he actually paid.' Abu `Abdullah said, "So that man allows (some people) the playing of tricks amongst the Muslims (although) the Prophet (PBUH) said, 'In dealing with Muslims one should not sell them sick (animals) or bad things or stolen things." ھم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ابراھیم بن میسرھ نے ‘ ان سے عمرو بن شرید نے اور ان سے حضرت ابورافع رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادھ حقدار ھے ۔  اور بعض لوگوں نے کھا اگر کسی شخص نے ایک گھر بیس ھزار درھم کا خریدا ( تو شفعھ کا حق ساقط کرنے کے لیے ) یھ حیلھ کرنے میں کوئی قباحت نھیں کھ مالک مکان کو نو ھراز نو سو ننانوے درھم نقد ادا کرے اب بیس ھزار کے تکملھ میں جو باقی رھے یعنی دس ھزار اور ایک درھم اس کے بدل مالک مکان کو ایک دینار ( اشرفی ) دیدے ۔ اس صورت میں اگر شفیع اس مکان کو لینا چاھے گا تو اس کو بیس ھزار درھم پر لینا ھو گا ورنھ وھ اس گھر کو نھیں لے سکتا ۔ ایسی صورت میں اگر بیع کے بعد یھ گھر ( بائع کے سوا ) اور کسی کا نکلا تو خریدار بائع سے وھی قیمت واپس لے گا جو اس نے دی ھے یعنی نو ھزار نو سو ننانوے درھم اور ایک دینار ( بیس ھزار دھم نھیں واپس سکتا ) کیونکھ جب وھ گھر کسی اور کا نکلا تو اب وھ بیع صرف جو بائع اور مشتری کے بیچ میں ھو گئی تھی بالکل باطل ھو گئی ( تو اصل دینار پھر نا لازم ھو گا نھ کھ اس کے ثمن ( یعنی دس ھزرا اور ایک درھم ) اگر اس گھر میں کوئی عیب نکلا لیکن وھ بائع کے سوا کسی اور کی ملک نھیں نکلا تو خریدار اس گھر کو بائع کو واپس اور بیس ھزار درھم اس سے لے سکتا ھے ۔ حضرت امام بخاری نے کھا تو ان لوگوں نے مسلمانوں کے آپس میں مکروفریب کو جائز رکھا اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے تو فرمایا ھے مسلمان کی بیع میں جو مسلمان کے ساتھ ھو نھ عیب ھونا چاھئیے ( بیماری ) نھ خباثت نھ کوئی آفت ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6980
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 109


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ، سَاوَمَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بَيْتًا بِأَرْبَعِمِائَةِ مِثْقَالٍ وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ‏"‏‏.‏ مَا أَعْطَيْتُكَ‏.‏

Narrated `Amr bin Ash-Sharid: Abu Rafi` sold a house to Sa`d bin Malik for four-hundred Mithqal of gold, and said, "If I had not heard the Prophet (PBUH) saying, 'The neighbor has more right to be taken care of by his neighbor (than anyone else),' then I would not have sold it to you." ھم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے ابراھیم بن میسرھ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن شرید نے کھ ابورافع رضی اللھ عنھ نے سعد بن مالک رضی اللھ عنھ کو ایک گھر چار سو مثقال میں بیچا اور کھا کھ اگر میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے یھ نھ سنا ھوتا کھ پڑوسی حق پڑوس کا زیادھ حقدار ھے تو میں آپ کو یھ گھر نھ دیتا ( اور کسی کے ھاتھ بیچ ڈالتا ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 90 Hadith no 6981
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 86 Hadith no 110



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.