Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Witnesses

كتاب الشهادات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ،‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا وَأُسَامَةَ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْتَأْمِرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، فَأَمَّا أُسَامَةُ فَقَالَ أَهْلُكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا‏.‏ وَقَالَتْ بَرِيرَةُ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا أَغْمِصُهُ أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ يَعْذِرُنَا مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا ‏"‏‏.‏


Chapter: If a person attests the honouroable record of a witness

Narrated `Urwa bin Al-Musaiyab Alqama bin Waqqas and Ubaidullah bin `Abdullah: About the story of `Aisha and their narrations were similar attesting each other, when the liars said what they invented about `Aisha, and the Divine Inspiration was delayed, Allah's Messenger (PBUH) sent for `Ali and Usama to consult them in divorcing his wife (i.e. `Aisha). Usama said, "Keep your wife, as we know nothing about her except good." Buraira said, "I cannot accuse her of any defect except that she is still a young girl who sleeps, neglecting her family's dough which the domestic goats come to eat (i.e. she was too simpleminded to deceive her husband)." Allah's Messenger (PBUH) said, "Who can help me to take revenge over the man who has harmed me by defaming the reputation of my family? By Allah, I have not known about my family-anything except good, and they mentioned (i.e. accused) a man about whom I did not know anything except good." ھم سے حجاج بن منھال نے بیان کیا ، کھا ھم سے عبداللھ بن عمر نمیری نے بیان کیا ، کھا ھم سے ثوبان نے بیان کیا اور لیث بن سعد نے بیان کیا کھ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شھاب نے ، انھیں عروھ ، ابن مسیب ، علقمھ بن وقاص اور عبیداللھ نے عائشھ رضی اللھ عنھا کی حدیث کے متعلق خبر دی اور ان کی باھم ایک کی بات دوسرے کی بات کی تصدیق کرتی ھے کھ جب ان پر تھمت لگانے والوں نے تھمت لگائی تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے علی اور اسامھ رضی اللھ عنھما کو اپنی بیوی ( عائشھ رضی اللھ عنھا ) کو اپنے سے جدا کرنے کے متعلق مشورھ کرنے کے لیے بلایا ، کیونکھ آپ پر اب تک ( اس سلسلے میں ) وحی نھیں آئی تھی ۔ اسامھ رضی اللھ عنھ نے تو یھ کھا کھ آپ کی زوجھ مطھرھ ( عائشھ رضی اللھ عنھا ) میں ھم سوائے خیر کے اور کچھ نھیں جانتے ۔ اور بریرھ رضی اللھ عنھا ( ان کی خادمھ ) نے کھا کھ میں کوئی ایسی چیز نھیں جانتی جس سے ان پر عیب لگایا جا سکے ۔ اتنی بات ضرور ھے کھ وھ نوعمر لڑکی ھیں کھ آٹا گوندھتی اور پھر جا کے سو رھتی ھے اور بکری آ کر اسے کھا لیتی ھے ۔ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ( تھمت کے جھوٹ ثابت ھونے کے بعد ) فرمایا کھ ایسے شخص کی طرف سے کون عذر خواھی کرے گا جو میری بیوی کے بارے میں بھی مجھے اذیت پھنچاتا ھے ۔ قسم اللھ کی ! میں نے اپنے گھر میں خیر کے سوا اور کچھ نھیں دیکھا اور لوگ ایسے شخص کا نام لیتے ھیں جس کے متعلق بھی مجھے خیر کے سوا اور کچھ معلوم نھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 52 Hadith no 2637
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 48 Hadith no 805


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهْوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ ـ أَوْ زَمْزَمَةٌ ـ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادِ أَىْ صَافِ، هَذَا مُحَمَّدٌ‏.‏ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Messenger (PBUH) and Ubai bin Ka`b Al-Ansari went to the garden where Ibn Saiyad used to live. When Allah's Messenger (PBUH) entered (the garden), he (i.e. Allah's Messenger (PBUH) ) started hiding himself behind the date108 palms as he wanted to hear secretly the talk of Ibn Saiyad before the latter saw him. Ibn Saiyad wrapped with a soft decorated sheet was lying on his bed murmuring. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet hiding behind the stems of the date-palms. She addressed Ibn Saiyad saying, "O Saf, this is Muhammad." Hearing that Ibn Saiyad stopped murmuring (or got cautious), the Prophet (PBUH) said, "If she had left him undisturbed, he would have revealed his reality." (See Hadith No. 290, Vol 4 for details) ھم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم کو شعیب نے خبر دی زھری سے کھ سالم نے بیان کیا ، انھوں نے عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما سے سنا ، آپ کھتے تھے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللھ عنھ کو ساتھ لے کر کھجور کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد تھا ۔ جب حضور اکرم صلی اللھ علیھ وسلم باغ میں داخل ھوئے تو آپ درختوں کی آڑ میں چھپ کر چلنے لگے ۔ آپ چاھتے تھے کھ ابن صیاد آپ کو دیکھنے نھ پائے اور اس سے پھلے آپ اس کی باتیں سن سکیں ۔ ابن صیاد ایک روئیں دار چادر میں زمین پر لیٹا ھوا تھا اور کچھ گنگنا رھا تھا ۔ ابن صیاد کی ماں نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کو دیکھ لیا کھ آپ صلی اللھ علیھ وسلم درخت کی آڑ لیے چلے آ رھے ھیں تو وھ کھنے لگی اے صاف ! یھ محمد ( صلی اللھ علیھ وسلم ) آ رھے ھیں ۔ ابن صیاد ھوشیار ھو گیا ۔ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اگر اسے اپنے حال پر رھنے دیتی تو بات ظاھر ھو جاتی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 52 Hadith no 2638
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 48 Hadith no 806


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ‏"‏‏.‏ وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Aisha: The wife of Rifa`a Al-Qurazi came to the Prophet (PBUH) and said, "I was Rifa`a's wife, but he divorced me and it was a final irrevocable divorce. Then I married `Abdur-Rahman bin Az-Zubair but he is impotent." The Prophet (PBUH) asked her 'Do you want to remarry Rifa`a? You cannot unless you had a complete sexual relation with your present husband." Abu Bakr was sitting with Allah's Messenger (PBUH) and Khalid bin Sa`id bin Al-`As was at the door waiting to be admitted. He said, "O Abu Bakr! Do you hear what this (woman) is revealing frankly before the Prophet (PBUH) ?" ھم سے عبداللھ بن محمد نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان نے بیان کیا زھری سے اور ان سے عروھ نے اور ان سے عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ رفاعھ قرظی رضی اللھ عنھ کی بیوی رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئیں اور عرض کیا کھ میں رفاعھ کی نکاح میں تھی ۔ پھر مجھے انھوں نے طلاق دے دی اور قطعی طلاق دے دی ۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللھ عنھ سے شادی کر لی ۔ لیکن ان کے پاس تو ( شرمگاھ ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت کیا کیا تو رفاعھ کے پاس دوبارھ جانا چاھتی ھے لیکن تو اس وقت تک ان سے اب شادی نھیں کر سکتی جب تک تو عبدالرحمٰن بن زبیر کا مزا نھ چکھ لے اور وھ تمھارا مزا نھ چکھ لیں ۔ اس وقت ابوبکر رضی اللھ عنھ خدمت نبوی میں موجود تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللھ عنھ دروازے پر اپنے لیے ( اندر آنے کی ) اجازت کا انتظار کر رھے تھے ۔ انھوں نے کھا ، ابوبکر ! کیا اس عورت کو نھیں دیکھتے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے سامنے کس طرح کی باتیں زور زور سے کھھ رھی ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 52 Hadith no 2639
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 48 Hadith no 807


حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ‏.‏ فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلاَ أَخْبَرْتِنِي‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ يَسْأَلُهُمْ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا‏.‏ فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ‏"‏‏.‏ فَفَارَقَهَا، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika from `Uqba bin Al-Harith: `Uqba married the daughter of Abu Ihab bin `Aziz, and then a woman came and said, "I suckled `Uqba and his wife." `Uqba said to her, "I do not know that you have suckled me, and you did not inform me." He then sent someone to the house of Abu Ihab to inquire about that but they did not know that she had suckled their daughter. Then `Uqba went to the Prophet (PBUH) in Medina and asked him about it. The Prophet (PBUH) said to him, "How (can you keep your wife) after it has been said (that both of you were suckled by the same woman)?" So, he divorced her and she was married to another (husband). ھم سے حبان نے بیان کیا ، کھا کھ ھم کو عبداللھ نے خبر دی ، کھا ھم کو عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی ، کھا کھ مجھے عبداللھ بن ابی ملیکھ نے خبر دی اور انھیں عقبھ بن حارث رضی اللھ عنھ نے کھ انھوں نے ابواھاب بن عزیز کی لڑکی سے شادی کی تھی ۔ ایک خاتون آئیں اور کھنے لگیں کھ عقبھ کو بھی میں نے دودھ پلایا ھے اور اسے بھی جس سے اس نے شادی کی ھے ۔ عقبھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ مجھے تو معلوم نھیں کھ آپ نے مجھے دودھ پلایا ھے اور آپ نے مجھے پھلے اس سلسلے میں کچھ بتایا بھی نھیں تھا ۔ پھر انھوں نے آل ابواھاب کے یھاں آدمی بھیجا کھ ان سے اس کے متعلق پوچھے ۔ انھوں نے بھی یھی جواب دیا کھ ھمیں معلوم نھیں کھ انھوں نے دودھ پلایا ھے ۔ عقبھ رضی اللھ عنھ اب رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں مدینھ حاضر ھوئے اور آپ سے مسئلھ پوچھا ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اب کیا ھو سکتا ھے جب کھ کھا جا چکا ۔ چنانچھ آپ نے دونوں میں جدائی کرا دی اور اس کا نکاح دوسرے شخص سے کرا دیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 52 Hadith no 2640
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 48 Hadith no 808


حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْىِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَإِنَّ الْوَحْىَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الآنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ، وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَىْءٌ، اللَّهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ إِنَّ سَرِيرَتَهُ حَسَنَةٌ‏.‏

Narrated `Umar bin Al-Khattab: People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good. ھم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کھا ھم کو شعیب نے خبر دی زھری سے ، کھا کھ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا ، ان سے عبداللھ بن عتبھ نے اور انھوں نے عمر بن خطاب رضی اللھ عنھ سے سنا ۔ آپ بیان کرتے تھے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعھ مواخذھ ھو جاتا تھا ۔ لیکن اب وحی کا سلسلھ ختم ھو گیا اور ھم صرف انھیں امور میں مواخذھ کریں گے جو تمھارے عمل سے ھمارے سامنے ظاھر ھوں گے ۔ اس لیے جو کوئی ظاھر میں ھمارے سامنے خیر کرے گا ، ھم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے ۔ اس کے باطن سے ھمیں کوئی سروکار نھ ھو گا ۔ اس کا حساب تو اللھ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ھمارے سامنے ظاھر میں برائی کرے گا تو ھم بھی اسے امن نھیں دیں گے اور نھ ھم اس کی تصدیق کریں گے خواھ وھ یھی کھتا رھے کھ اس کا باطن اچھا ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 52 Hadith no 2641
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 48 Hadith no 809


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ ‏"‏ وَجَبَتْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ـ أَوْ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ ـ فَقَالَ ‏"‏ وَجَبَتْ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ، وَلِهَذَا وَجَبَتْ، قَالَ ‏"‏ شَهَادَةُ الْقَوْمِ، الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ ‏"‏‏.‏


Chapter: How many witnesses are sufficient to attest

Narrated Anas: A funeral procession passed in front of the Prophet (PBUH) and the people praised the deceased. The Prophet (PBUH) said, "It has been affirmed (Paradise)." Then another funeral procession passed by and the people talked badly of the deceased. The Prophet (PBUH) said, "It has been affirmed (Hell)." Allah's Messenger (PBUH) was asked, "O Allah's Messenger (PBUH)! You said it has been affirmed for both?" The Prophet (PBUH) said, "The testimony of the people (is accepted), (for) the believer are Allah's witnesses on the earth." ھم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کھا ھم سے حماد بن زید نے بیان کیا ثابت سے اور ان سے حضرت انس رضی اللھ عنھ نے کھا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس سے ایک جنازھ گزرا تو لوگوں نے اس میت کی تعریف کی ، آپ نے فرمایا کھ واجب ھو گئی ، پھر دوسرا جنازھ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی ، یا اس کے سوا اور الفاظ ( اسی مفھوم کو ادا کرنے کے لیے ) کھے ( راوی کو شبھ ھے ) آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اس پر بھی فرمایا کھ واجب ھو گئی ۔ عرض کیا گیا ، یا رسول اللھ ! آپ نے اس جنازھ کے متعلق بھی فرمایا کھ واجب ھو گئی اور پھلے جنازھ پر بھی یھی فرمایا ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ایمان والی قوم کی گواھی ( بارگاھ الٰھی میں مقبول ھے ) یھ لوگ زمین پر اللھ کے گواھ ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 52 Hadith no 2642
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 48 Hadith no 810



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.