Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Beginning of Creation

كتاب بدء الخلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَا بَنِي تَمِيمٍ، أَبْشِرُوا ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا‏.‏ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، فَجَاءَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ، فَقَالَ ‏"‏ يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا قَبِلْنَا‏.‏ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ بَدْءَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ، رَاحِلَتُكَ تَفَلَّتَتْ، لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ‏.‏

Narrated `Imran bin Husain: Some people of Bani Tamim came to the Prophet (PBUH) and he said (to them), "O Bani Tamim! rejoice with glad tidings." They said, "You have given us glad tidings, now give us something." On hearing that the color of his face changed then the people of Yemen came to him and he said, "O people of Yemen ! Accept the good tidings, as Bani Tamim has refused them." The Yemenites said, "We accept them. Then the Prophet (PBUH) started taking about the beginning of creation and about Allah's Throne. In the mean time a man came saying, "O `Imran! Your she-camel has run away!'' (I got up and went away), but l wish I had not left that place (for I missed what Allah's Messenger (PBUH) had said). ھم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کھا ھم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انھیں جامع بن شداد نے ، انھیں صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کھ اے بنی تمیم کے لوگو ! تمھیں بشارت ھو ۔ وھ کھنے لگے کھ بشارت جب آپ نے ھم کو دی ھے تو اب ھمیں کچھ مال بھی دیجئیے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے چھرھ مبارک کا رنگ بدل گیا ، پھر آپ کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو آپ نے ان سے بھی فرمایا کھ اے یمن والو ! بنوتمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نھیں کیا ، اب تم اسے قبول کر لو ۔ انھوں نے عرض کیا کھ ھم نے قبول کیا ۔ پھر آپ مخلوق اور عرش الٰھی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے ۔ اتنے میں ایک ( نامعلوم ) شخص آیا اور کھا کھ عمران ! تمھاری اونٹنی بھاگ گئی ۔ ( عمران رضی اللھ عنھ کھتے ھیں ) کاش ، میں آپ کی مجلس سے نھ اٹھتا تو بھتر ھوتا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 59 Hadith no 3190
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 54 Hadith no 413


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَقَلْتُ نَاقَتِي بِالْبَابِ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا‏.‏ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالُوا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ هَذَا الأَمْرِ قَالَ ‏"‏ كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَىْءٍ، وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ‏"‏‏.‏ فَنَادَى مُنَادٍ ذَهَبَتْ نَاقَتُكَ يَا ابْنَ الْحُصَيْنِ‏.‏ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هِيَ يَقْطَعُ دُونَهَا السَّرَابُ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَا‏.‏

Narrated Imran bin Husain: I went to the Prophet (PBUH) and tied my she-camel at the gate. The people of Bani Tamim came to the Prophet (PBUH) who said "O Bani Tamim! Accept the good tidings." They said twice, 'You have given us the good tidings, now give us something" Then some Yemenites came to him and he said, "Accept the good tidings, O people of Yemem, for Bani Tamim refused them." They said, "We accept it, O Allah's Messenger (PBUH)! We have come to ask you about this matter (i.e. the start of creations)." He said, "First of all, there was nothing but Allah, and (then He created His Throne). His throne was over the water, and He wrote everything in the Book (in the Heaven) and created the Heavens and the Earth." Then a man shouted, "O Ibn Husain! Your she-camel has gone away!" So, I went away and could not see the she-camel because of the mirage. By Allah, I wished I had left that she-camel (but not that gathering). ھم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے اعمش نے بیان کیا ، کھا ھم سے جامع بن شداد نے بیان کیا ، ان سے صفوان بن مرحز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ میں نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا ۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ھی پر باندھ دیا ۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ھوئے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنوتمیم ! خوشخبری قبول کرو ۔ انھوں نے دوبار کھا کھ جب آپ نے ھمیں خوشخبری دی ھے تو اب مال بھی دیجئیے ۔ پھر یمن کے چند لوگ خدمت نبوی میں حاضر ھوئے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے بھی یھی فرمایا کھ خوشخبری قبول کر لو اے یمن والو ! بنوتمیم والوں نے تو نھیں قبول کی ۔ وھ بولے یا رسول اللھ ! خوشخبری ھم نے قبول کی ۔ پھر وھ کھنے لگے ھم اس لیے حاضر ھوئے ھیں تاکھ آپ سے اس ( عالم کی پیدائش ) کا حال پوچھیں ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اللھ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نھ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔ لوح محفوظ میں اس نے ھر چیز کو لکھ لیا تھا ۔ پھر اللھ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۔ ( ابھی یھ باتیں ھو ھی رھی تھیں کھ ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کھ ابن الحصین ! تمھاری اونٹنی بھاگ گئی ۔ میں اس کے پیچھے دوڑا ۔ دیکھا تو وھ سراب کی آڑ میں ھے ( میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ھے یعنی وھ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ھے ) اللھ تعالیٰ کی قسم ، میرا دل بھت پچھتایا کھ کاش ، میں اسے چھوڑ دیا ھوتا ( اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی حدیث سنی ھوتی ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 59 Hadith no 3191
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 54 Hadith no 414


وَرَوَى عِيسَى، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَقَامًا، فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ‏.‏

Narrated 'Umar: One day the Prophet (PBUH) stood up amongst us for a long period and informed us about the beginning of creation (and talked about everything in detail) till he mentioned how the people of Paradise will enter their places and the people of Hell will enter their places. Some remembered what he had said, and some forgot it. اور عیسیٰ نے رقبھ سے روایت کیا ، انھوں نے قیس بن مسلم سے ، انھوں نے طارق بن شھاب سے ، انھوں نے بیان کیا کھ میں نے عمر بن خطاب رضی اللھ عنھ سے سنا ، آپ نے کھا کھ ایک مرتبھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے منبر پر کھڑے ھو کر ھمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ھمیں خبر دی ۔ یھاں تک کھ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ھو جائیں گے اور جھنم والے اپنے ٹھکانوں کو پھنچ جائیں گے ( وھاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا ) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وھ بھول گیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 59 Hadith no 3192
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 54 Hadith no 414


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُرَاهُ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ شَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتِمَنِي، وَتَكَذَّبَنِي وَمَا يَنْبَغِي لَهُ، أَمَّا شَتْمُهُ فَقَوْلُهُ إِنَّ لِي وَلَدًا‏.‏ وَأَمَّا تَكْذِيبُهُ فَقَوْلُهُ لَيْسَ يُعِيدُنِي كَمَا بَدَأَنِي ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "Allah the Most Superior said, "The son of Adam slights Me, and he should not slight Me, and he disbelieves in Me, and he ought not to do so. As for his slighting Me, it is that he says that I have a son; and his disbelief in Me is his statement that I shall not recreate him as I have created (him) before." مجھ سے عبداللھ بن ابی شیبھ نے بیان کیا ، ان سے ابواحمد نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے ، اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اللھ تعالیٰ فرماتا ھے کھ ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نھ تھا کھ وھ مجھے گالی دیتا ۔ اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یھ بھی مناسب نھ تھا ۔ اس کی گالی یھ ھے کھ وھ کھتا ھے ، میرا بیٹا ھے اور اس کا جھٹلانا یھ ھے کھ وھ کھتا ھے کھ جس طرح اللھ نے مجھے پھلی بار پیدا کیا ، دوبارھ ( موت کے بعد ) وھ مجھے زندھ نھیں کر سکے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 59 Hadith no 3193
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 54 Hadith no 415


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ، فَهْوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "When Allah completed the creation, He wrote in His Book which is with Him on His Throne, "My Mercy overpowers My Anger." ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے مغیرھ بن عبدالرحمن قرشی نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ ھم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، جب اللھ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اپنی کتاب ( لوح محفوظ ) میں ، جو اس کے پاس عرش پر موجود ھے ، اس نے لکھا کھ میری رحمت میرے غصھ پر غالب ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 59 Hadith no 3194
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 54 Hadith no 416


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ لَهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الأَرْضَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith: from Abu Salama bin `Abdur-Rahman who had a dispute with some people on a piece of land, and so he went to `Aisha and told her about it. She said, "O Abu Salama, avoid the land, for Allah's Messenger (PBUH) said, 'Any person who takes even a span of land unjustly, his neck shall be encircled with it down seven earths.' " ھم سے علی بن عبداللھ مدینی نے بیان کیا ، کھا ھم کو اسماعیل بن علیھ نے خبر دی ، انھیں علی بن مبارک نے کھا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراھیم بن حارث نے ، ان سے ابوسلمھ بن عبدالرحمن نے ان کا ایک دوسرے صاحب سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا ۔ وھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا کی خدمت میں حاضر ھوئے اور ان سے واقعھ بیان کیا ۔ انھوں نے ( جواب میں ) فرمایا ، ابوسلمھ ! کسی کی زمین ( کے ناحق لینے ) سے بچو ، کیونکھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ھے کھ اگر ایک بالشت کے برابر بھی کسی نے ( زمین کے بارے میں ) ظلم کیا تو ( قیامت کے دن ) سات زمینوں کا طوق اسے پھنایا جائے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 59 Hadith no 3195
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 54 Hadith no 417



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.