Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad)

كتاب الجهاد والسير

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِلاَّ الشَّهِيدَ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik: The Prophet (PBUH) said, "Nobody who dies and finds good from Allah (in the Hereafter) would wish to come back to this world even if he were given the whole world and whatever is in it, except the martyr who, on seeing the superiority of martyrdom, would like to come back to the world and get killed again (in Allah's Cause)." ھم سے عبداللھ بن محمد نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے معاویھ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کھا کھ ھم سے ابواسحاق نے بیان کیا‘ان سے حمید نے بیان کیا اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللھ عنھ سے سنا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کوئی بھی اللھ کا بندھ جو مر جائے اور اللھ کے پاس اس کی کچھ بھی نیکی جمع ھو وھ پھر دنیا میں آنا پسند نھیں کرتا گو اس کی ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ھے سب کچھ مل جائے مگر شھید پھر دنیا میں آنا چاھتا ھے کھ جب وھ ( اللھ تعالیٰ کے ( یھاں شھادت کی فضیلت کو دیکھے گا تو چاھے گا کھ دنیا میں دوبارھ آئے اور پھر قتل ھو ( اللھ تعالیٰ کے راستے میں ) ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 56 Hadith no 2795
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 52 Hadith no 53


وَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ مَوْضِعُ قِيدٍ ـ يَعْنِي سَوْطَهُ ـ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ لأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلأَتْهُ رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏‏.‏

Narrated Anas: The Prophet (PBUH) said, "A single endeavor (of fighting) in Allah's Cause in the afternoon or in the forenoon is better than all the world and whatever is in it. A place in Paradise as small as the bow or lash of one of you is better than all the world and whatever is in it. And if a houri from Paradise appeared to the people of the earth, she would fill the space between Heaven and the Earth with light and pleasant scent and her head cover is better than the world and whatever is in it." اور میں نے انس بن مالک رضی اللھ عنھ سے سنا وھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے کھ اللھ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ھے ، سب سے بھتر ھے اور کسی کے لئے جنت میں ایک ھاتھ کے برابر جگھ بھی یا ( راوی کو شبھ ھے ) ایک قید جگھ ، قید سے مراد کوڑا ھے ، دنیا وما فیھا سے بھتر ھے اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف جھانک بھی لے تو زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ منور ھو جائیں اور خوشبو سے معطر ھو جائیں ۔ اس کے سر کا دوپٹھ بھی دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بڑھ کر ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 56 Hadith no 2796
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 52 Hadith no 53


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ‏"‏‏.‏


Chapter: The wish for martyrdom

Narrated Abu Huraira: The Prophet (PBUH) said, "By Him in Whose Hands my life is! Were it not for some men amongst the believers who dislike to be left behind me and whom I cannot provide with means of conveyance, I would certainly never remain behind any Sariya' (army-unit) setting out in Allah's Cause. By Him in Whose Hands my life is! I would love to be martyred in Allah's Cause and then get resurrected and then get martyred, and then get resurrected again and then get martyred and then get resurrected again and then get martyred. ھم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کھا ھم کو شعیب نے خبر د ی ، ان سے زھری نے بیان کیا ، انھیں سعید بن مسیب نے ، ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ میں نے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم فرما رھے تھے اس ذات کی قسم جس کے ھاتھ میں میری جان ھے ! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نھ ھوتا کھ میں ان کو چھوڑ کر جھاد کے لئے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نھیں ھیں کھ ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلو ں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نھ رکتا جو اللھ کے راستے میں غزوھ کے لئے جا رھا ھوتا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ھاتھ میں میری جان ھے ! میری تو آرزو ھے کھ میں اللھ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندھ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندھ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندھ کیا جاؤں اور پھر قتل کر دیا جاؤں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 56 Hadith no 2797
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 52 Hadith no 54


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ ـ وَقَالَ ـ مَا يَسُرُّنَا أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ ‏"‏ مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ‏"‏‏.‏ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik: The Prophet (PBUH) delivered a sermon and said, "Zaid took the flag and was martyred, and then Ja`far took the flag and was martyred, and then `Abdullah bin Rawaha took the flag and was martyred too, and then Khalid bin Al-Walid took the flag though he was not appointed as a commander and Allah made him victorious." The Prophet (PBUH) further added, "It would not please us to have them with us." Aiyub, a sub-narrator, added, "Or the Prophet, shedding tears, said, 'It would not please them to be with us.'" ھم سے یوسف بن یعقوب صفار نے بیان کیا ، کھا ھم سے اسماعیل بن علیھ نے ، ان سے ایوب نے ، ان سے حمید بن ھلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے خطبھ دیا آپ نے فرمایا فوج کا جھنڈا اب زید نے اپنے ھاتھ میں لیا اور وھ شھید کر دیئے گئے پھر جعفر نے لے لیا اور وھ بھی شھید کر دیئے گئے پھر عبداللھ بن رواحھ نے لے لیا اور وھ بھی شھید کر دیئے گئے اور اب کسی ھدایت کا انتظار کئے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ھاتھ میں لے لیا ۔ اور ان کے ھاتھ پر اسلامی لشکر کو فتح ھوئی ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اور ھمیں کوئی اس کی خوشی بھی نھیں تھی کھ یھ لوگ جو شھید ھو گئے ھیں ھمارے پاس زندھ رھتے کیونکھ وھ بھت عیش و آرام میں چلے گئے ھیں ۔ ایوب نے بیان کیا یا آپ نے یھ فرمایا کھ انھیں کوئی اس کی خوشی بھی نھیں تھی کھ ھمارے ساتھ زندھ رھتے ، اس وقت آنحضرت کی صلی اللھ علیھ وسلم آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 56 Hadith no 2798
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 52 Hadith no 55


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ نَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ ‏"‏ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الأَخْضَرَ، كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ‏.‏ فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا‏.‏ فَقَالَتِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ‏.‏

Narrated Anas bin Malik: Um Haram said, "Once the Prophet (PBUH) slept in my house near to me and got up smiling. I said, 'What makes you smile?' He replied, 'Some of my followers who (i.e. in a dream) were presented to me sailing on this green sea like kings on thrones.' I said, 'O Allah's Messenger (PBUH)! Invoke Allah to make me one of them." So the Prophet (PBUH) invoked Allah for her and went to sleep again. He did the same (i.e. got up and told his dream) and Um Haran repeated her question and he gave the same reply. She said, "Invoke Allah to make me one of them." He said, "You are among the first batch." Later on it happened that she went out in the company of her husband 'Ubada bin As-Samit who went for Jihad and it was the first time the Muslims undertook a naval expedition led by Mu awiya. When the expedition came to an end and they were returning to Sham, a riding animal was presented to her to ride, but the animal let her fall and thus she died. ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا ، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے اور ان سے ان کی خالھ ام حرام بنت ملحان رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ ایک دن نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم میرے قریب ھی سو گئے ۔ پھر جب آپ صلی اللھ علیھ وسلم بیدار ھوئے تو مسکرا رھے تھے ، میں عرض کیا کھ آپ صلی اللھ علیھ وسلم کس بات پر ھنس رھے ھیں ؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوھ کرنے کے لئے اس بھتے دریا پر سوار ھو کر جا رھے تھے جیسے بادشاھ تخت پر چڑھتے ھیں ۔ میں نے عرض کیا پھر آپ صلی اللھ علیھ وسلم میرے لئے بھی دعا کر دیجئیے کھ اللھ تعالیٰ مجھے بھی انھیں میں سے بنا دے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی ۔ پھر دوبارھ آپ سو گئے اور پھلے ھی کی طرح اس مرتبھ بھی کیا ( بیدار ھوتے ھوئے مسکرائے ) ام حرام رضی اللھ عنھا نے پھلے ھی کی طرح اس مرتبھ بھی عرض کی اور آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے وھی جواب دیا ۔ ام حرام رضی اللھ عنھا نے عرض کیا آپ دعا کر دیں کھ اللھ تعالیٰ مجھے بھی انھیں میں سے بنا دے تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا تم سب سے پھلے لشکر کے ساتھ ھو گی چنانچھ وھ اپنے شوھر عبادھ بن صامت رضی اللھ عنھ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پھلے بحری بیڑے میں شریک ھوئیں معاویھ رضی اللھ عنھ کے زمانے میں غزوھ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو ام حرام رضی اللھ عنھا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکھ اس پر سوار ھو جائیں لیکن جانور نے انھیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ھو گیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 56 Hadith no 2799
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 52 Hadith no 56


حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَقْوَامًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ فِي سَبْعِينَ، فَلَمَّا قَدِمُوا، قَالَ لَهُمْ خَالِي أَتَقَدَّمُكُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلاَّ كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيبًا‏.‏ فَتَقَدَّمَ، فَأَمَّنُوهُ، فَبَيْنَمَا يُحَدِّثُهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ‏.‏ ثُمَّ مَالُوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلُوهُمْ، إِلاَّ رَجُلاً أَعْرَجَ صَعِدَ الْجَبَلَ‏.‏ قَالَ هَمَّامٌ فَأُرَاهُ آخَرَ مَعَهُ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ، فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ، فَكُنَّا نَقْرَأُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا‏.‏ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَبَنِي عُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم‏.‏


Chapter: (The reward of) the injured in Allah's Cause

Narrated Anas: The Prophet (PBUH) sent seventy men from the tribe of Bani Salim to the tribe of Bani Amir. When they reached there, my maternal uncle said to them, "I will go ahead of you, and if they allow me to convey the message of Allah's Messenger (PBUH) (it will be all right); otherwise you will remain close to me." So he went ahead of them and the pagans granted him security But while he was reporting the message of the Prophet (PBUH) , they beckoned to one of their men who stabbed him to death. My maternal uncle said, "Allah is Greater! By the Lord of the Ka`ba, I am successful." After that they attached the rest of the party and killed them all except a lame man who went up to the top of the mountain. (Hammam, a sub-narrator said, "I think another man was saved along with him)." Gabriel informed the Prophet (PBUH) that they (i.e the martyrs) met their Lord, and He was pleased with them and made them pleased. We used to recite, "Inform our people that we have met our Lord, He is pleased with us and He has made us pleased " Later on this Qur'anic Verse was cancelled. The Prophet (PBUH) invoked Allah for forty days to curse the murderers from the tribe of Ral, Dhakwan, Bani Lihyan and Bam Usaiya who disobeyed Allah and his Apostle. ھم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے ھمام نے ان سے اسحاق نے اور ان سے انس رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے بنو سلیم کے ( 70 ) ستر آدمی ( جو قاری تھے ) بنو عامر کے یھاں بھیجے ۔ جب یھ سب حضرات ( بئرمعونھ پر ) پھنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللھ عنھ نے کھا میں ( بنو سلیم کے یھاں ) آگے جاتا ھوں اگر مجھے انھوں نے اس بات کا امن دے دیا کھ میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی باتیں ان تک پھنچاؤں تو ۔ بھتر ورنھ تم لوگ میرے قریب تو ھو ھی ۔ چنانچھ وھ ان کے یھاں گئے اور انھوں نے امن بھی دے دیا ۔ ابھی وھ قبیلھ کے لوگوں کو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی باتیں سنا ھی رھے تھے کھ قبیلھ والوں نے اپنے ایک آدمی ( عامر بن طفیل ) کو اشارھ کیا اور اس نے آپ رضی اللھ عنھ کے جسم پر برچھا پیوست کر دیا جو آرپار ھو گیا ۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا اللھ اکبر میں کامیاب ھو گیا کعبھ کے رب کی قسم ! اس کے بعد قبیلھ والے حرام رضی اللھ عنھ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف ( جو ستر کی تعداد میں تھے ) بڑھے اور سب کو قتل کر دیا ۔ البتھ ایک صاحب جو لنگڑے تھے ‘ پھاڑ پر چڑھ گئے ۔ ھمام ( راوی حدیث ) نے بیان کیا میں سمجھتا ھوں کھ ایک اور ان کے ساتھ ( پھاڑ پر چڑھے تھے ) ( عمر بن امیھ ضمری ) اس کے بعد جبرائیل علیھ السلام نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کو خبر دی کھ آپ کے ساتھی اللھ تعالیٰ سے جا ملے ھیں پس اللھ خود بھی ان سے خوش ھے اور انھیں بھی خوش کر دیا ھے ۔ اس کے بعد ھم ( قرآن کی دوسری آیتوں کے ساتھ یھ آیت بھی ) پڑھتے تھے ( ترجمھ ) ھماری قوم کے لوگوں کو یھ پیغام پھنچا دو کھ ھم اپنے رب سے آ ملے ھیں ‘ پس ھمارا رب خود بھی خوش ھے اور ھمیں بھی خوش کر دیا ھے ۔ اس کے بعد یھ آیت منسوخ ھو گئی ‘ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے چالیس دن تک صبح کی نماز میں قبیلھ رعل ‘ ذکوان ‘ بنی لحیان اور بنی عصیھ کے لئے بددعا کی تھی جنھوں نے اللھ اور اس کے رسول صلی اللھ علیھ وسلم کی نافرمانی کی تھی ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 56 Hadith no 2801
Web reference: Sahih Bukhari Volume 4 Book 52 Hadith no 57



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.