Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Judgments (Ahkaam)

كتاب الأحكام

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطُعِنَ فِي إِمَارَتِهِ، وَقَالَ ‏"‏ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمْرَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏


Chapter: Slanders made by ignorant people against the Amirs

Narrated Ibn `Umar: Allah's Messenger (PBUH) sent an army unit headed by Usama bin Zaid and the people criticized his leadership. The Prophet (PBUH) said (to the people), "If you are criticizing his leadership now, then you used to criticize his father's leadership before. By Allah, he (Usama's father) deserved the leadership and used to be one of the most beloved persons to me, and now his son (Usama) is one of the most beloved persons to me after him. " (See Hadith No. 745, Vol. 5) ھم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ انھوں نے کھا ھم سے عبد العزیز بن مسلم نے بیان کیا ، ان سے عبداللھ بن دینار نے بیان کیا‘انھوں نے کھا کھ میں نے عبداللھ بن عمر رضی اللھ عنھما سے سنا ‘ انھوں نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامھ بن زید رضی اللھ عنھ کو بنایا لیکن ان کی سرداری پر طعن کیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اس پر فرمایا کھ اگر آج تم ان کی امارت کو مطعون قرار دیتے ھو تو تم نے اس سے پھلے اس کے والد ( زید رضی اللھ عنھ ) کی امارت کو بھی مطعون قرار دیا تھا اور خدا کی قسم وھ امارت کے لیے سزا وار تھے اور وھ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادھ عزیز تھے اور یھ ( اسامھ رضی اللھ عنھ ) ان کے بعد سب سے زیادھ مجھے عزیز ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7187
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 297


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha: Allah's Messenger (PBUH) said, "The most hated person in the sight of Allah, is the most quarrelsome person." ھم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انھوں نے کھا ھم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ابن جریج نے بیان کیا ‘ انھوں نے ابن ابی ملیکھ سے سنا ‘ وھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا سے بیان کرتے تھے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اللھ کے نزدیک سب سے مبغوض وھ شخص ھے جو سخت جھگڑا لو ھو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7188
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 298


حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدًا ح وَحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا‏.‏ فَقَالُوا صَبَأْنَا صَبَأْنَا، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٌ مِنَّا أَسِيرَهُ، فَأَمَرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ، فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلاَ يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ‏.‏ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ‏"‏، مَرَّتَيْنِ‏.‏


Chapter: If a judge passes an unjust judgement

Narrated Ibn `Umar: The Prophet (PBUH) sent (an army unit under the command of) Khalid bin Al-Walid to fight against the tribe of Bani Jadhima and those people could not express themselves by saying, "Aslamna," but they said, "Saba'na! Saba'na! " Khalid kept on killing some of them and taking some others as captives, and he gave a captive to everyone of us and ordered everyone of us to kill his captive. I said, "By Allah, I shall not kill my captive and none of my companions shall kill his captive!" Then we mentioned that to the Prophet (PBUH) and he said, "O Allah! I am free from what Khalid bin Al-Walid has done," and repeated it twice. ھم سے محمود نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے عبدالرزاق نے بیان کھا ‘ کھا ھم کو معمر نے خبر دی ‘ انھیں زھری نے انھیں سالم نے اور انھیں ابن عمر رضی اللھ عنھما نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے خالد رضی اللھ عنھ کو بھیجا ۔ ( دوسری سند ) امام بخاری نے کھا اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا ‘ کھا ھم کو عبداللھ نے خبر دی ‘ کھا ھم کو معمر نے خبر دی ‘ انھیں زھری نے ‘ انھیں سالم نے ‘ انھیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللھ عنھ کو بنی جذیمھ ‘ کی طرف بھیجا ( جب انھیں اسلام کی دعوت دی ) تو وھ ” اسلمنا “ ( ھم اسلام لائے ) کھھ کر اچھی طرح اظھار اسلام نے کر سکے بلکھ کھنے لگے کھ صبانا صبانا ( ھم اپنے دین سے پھر گئے‘ھم اپنے دین سے پھر گئے ) اس پر خالد رضی اللھ عنھ انھیں قتل اور قید کرنے لگے اور ھم میں سے ھر شخص کو اس کا حصھ کا قیدی دیا اور ھمیں حکم دیا کھ ھر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے ۔ اس پر میں نے کھا کھ واللھ ! میں اپنے قیدی کو قتل نھیں کروں گا اور نھ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا ۔ پھر ھم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کھ اے اللھ ! میں اس سے برات ظاھر کرتا ھوں جو خالد بن ولید رضی اللھ عنھ رضی اللھ نے کیا ۔ دو مرتبھ ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7189
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 299


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ وَأَقَامَ وَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلاَةِ، فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَتَقَدَّمَ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ‏.‏ قَالَ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لاَ يُمْسَكُ عَلَيْهِ الْتَفَتَ فَرَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْضِهْ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لاَ تَكُونَ مَضَيْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَمْ يَكُنْ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ لِلْقَوْمِ ‏"‏ إِذَا نَابَكُمْ أَمْرٌ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ ‏"‏‏.‏


Chapter: The Imam going to establish peace among people

Narrated Sahl bin Sa`d As-Saidi: There was some quarrel (sighting) among Bani `Amr, and when this news reached the Prophet, he offered the Zuhr prayer and went to establish peace among them. In the meantime the time of `Asr prayer was due, Bilal pronounced the Adhan and then the Iqama for the prayer and requested Abu Bakr (to lead the prayer) and Abu Bakr went forward. The Prophet (PBUH) arrived while Abu Bakr was still praying. He entered the rows of praying people till he stood behind Abu Bakr in the (first) row. The people started clapping, and it was the habit of Abu Bakr that whenever he stood for prayer, he never glanced side-ways till he had finished it, but when Abu Bakr observed that the clapping was not coming to an end, he looked and saw the Prophet (PBUH) standing behind him. The Prophet (PBUH) beckoned him to carry on by waving his hand. Abu Bakr stood there for a while, thanking Allah for the saying of the Prophet (PBUH) and then he retreated, taking his steps backwards. When the Prophet saw that, he went ahead and led the people in prayer. When he finished the prayer, he said, "O Abu Bakr! What prevented you from carrying on with the prayer after I beckoned you to do so?" Abu Bakr replied, "It does not befit the son of Abi Quhafa to lead the Prophet (PBUH) in prayer." Then the Prophet (PBUH) said to the people, "If some problem arises during prayers, then the men should say, Subhan Allah!; and the women should clap." (See Hadith No. 652, Vol. 1) ھم سے ابو النعمان نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم المدینی نے بیان کیا اور ان سے سھل بن سعد الساعدی رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ قبیلھ بنی عمرو بن عوف میں باھم لڑائی ھو گئی ۔ جب آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظھر کی نماز پڑھی اور ان کے یھاں صلح کرانے کے لئے تشریف لائے ۔ جب عصر کی نماز کا وقت ھوا ( مدینھ میں ) تو بلال رضی اللھ عنھ نے اذان دی اور اقامت کھی ۔ آپ نے ابوبکر رضی اللھ عنھ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا ۔ چنانچھ وھ آ گئے بڑھے ‘ اتنے میں آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم تشریف لے آئے ابوبکر رضی اللھ عنھ نماز ھی میں تھے‘پھر آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم لوگوں کی صف کو چیرتے ھوئے آگے بڑھے اور ابوبکر رضی اللھ عنھ کے پیچھے کھڑے ھو گئے اور اس صف میں آ گئے جو ان سے قریب تھی ۔ سھل رضی اللھ عنھ نے کھا کھ لوگوں نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی آمد کو بتانے کے لیے ھاتھ مارے ۔ ابوبکر رضی اللھ عنھ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پھلے کسی طرف توجھ نھیں کرتے تھے ۔ جب انھوں نے دیکھا کھ ھاتھ پر ھاتھ مارنا رکتا ھی نھیں تو آپ متوجھ ھوئے اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اشارھ کیا کھ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ھاتھ سے اپنی جگھ ٹھھرے رھنے کا اشارھ کیا ۔ ابوبکر رضی اللھ عنھ تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے حکم پر اللھ کی حمد کرنے کے لیے ٹھھرے رھے ‘ پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے ۔ جب آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے یھ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی ۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا ‘ ابوبکر ! جب میں نے ارشاد کر دیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی ؟ انھوں نے عرض کیا ‘ ابن ابی قحافھ کے لیے مناسب نھیں تھا کھ وھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی امامت کرے اور آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ( نماز میں ) جب کوئی معاملھ پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللھ کھنا چاھئیے اور عورتوں کو ھاتھ پر ھاتھ مارنا چاھئے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7190
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 300


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ بَعَثَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ‏.‏ قُلْتُ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ‏.‏ قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلاَنِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ ‏{‏لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ‏}‏ إِلَى آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ اللِّخَافُ يَعْنِي الْخَزَفَ‏.‏


Chapter: It is desirable that a scribe should be honest and wise

Narrated Zaid bin Thabit: Abu Bakr sent for me owing to the large number of casualties in the battle of Al-Yamama, while `Umar was sitting with him. Abu Bakr said (to me), `Umar has come to my and said, 'A great number of Qaris of the Holy Qur'an were killed on the day of the battle of Al-Yamama, and I am afraid that the casualties among the Qaris of the Qur'an may increase on other battle-fields whereby a large part of the Qur'an may be lost. Therefore I consider it advisable that you (Abu Bakr) should have the Qur'an collected.' I said, 'How dare I do something which Allah's Messenger (PBUH) did not do?' `Umar said, By Allah, it is something beneficial.' `Umar kept on pressing me for that till Allah opened my chest for that for which He had opened the chest of `Umar and I had in that matter, the same opinion as `Umar had." Abu Bakr then said to me (Zaid), "You are a wise young man and we do not have any suspicion about you, and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Messenger (PBUH). So you should search for the fragmentary scripts of the Qur'an and collect it (in one Book)." Zaid further said: By Allah, if Abu Bakr had ordered me to shift a mountain among the mountains from one place to another it would not have been heavier for me than this ordering me to collect the Qur'an. Then I said (to `Umar and Abu Bakr), "How can you do something which Allah's Messenger (PBUH) did not do?" Abu Bakr said, "By Allah, it is something beneficial." Zaid added: So he (Abu Bakr) kept on pressing me for that until Allah opened my chest for that for which He had opened the chests of Abu Bakr and `Umar, and I had in that matter, the same opinion as theirs. So I started compiling the Qur'an by collecting it from the leafless stalks of the date-palm tree and from the pieces of leather and hides and from the stones, and from the chests of men (who had memorized the Qur'an). I found the last verses of Sirat-at-Tauba: ("Verily there has come unto you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves--' (9.128-129) ) from Khuza`ima or Abi Khuza`ima and I added to it the rest of the Sura. The manuscripts of the Qur'an remained with Abu Bakr till Allah took him unto Him. Then it remained with `Umar till Allah took him unto Him, and then with Hafsa bint `Umar. ھم سے محمد بن عبداللھ ابو ثابت نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے ابراھیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شھاب نے ‘ ان سے عبید بن سابق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللھ عنھ نے کھ جنگ یمامھ میں بکثرت ( قاری صحابھ کی ) شھادت کی وجھ سے ابوبکر رضی اللھ عنھ نے مجھے بلا بھیجا ۔ ان کے پاس عمر رضی اللھ عنھ بھی تھے ۔ ابوبکر رضی اللھ عنھ نے مجھ سے کھا کھ عمر میرے پاس آئے اور کھا کھ جنگ یمامھ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بھت ھوا ھے اور میرا خیال ھے کھ دوسری جنگوں میں بھی اسی طرح وھ شھید کئے جائیں گے اور قرآن اکثر ضائع ھو جائے گا ۔ میں سمجھتا ھوں کھ آپ قرآن مجید کو ( کتابی صورت میں ) جمع کرنے کا حکم دیں ۔ اس پر میں نے عمر رضی اللھ عنھ سے کھا کھ میں کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ھوں جسے رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے نھیں کیا ۔ عمر رضی اللھ عنھ نے کھا واللھ ! یھ تو کار خیر ھے ۔ عمر رضی اللھ عنھ اس معاملھ میں برابر مجھ سے کھتے رھے ‘ یھاں تک کھ اللھ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینھ کھول دیا جس طرح عمر رضی اللھ عنھ کا تھا اور میں بھی وھی مناسب سمجھنے لگا جسے عمر رضی اللھ عنھ مناسب سمجھتے تھے ۔ زید رضی اللھ عنھ نے بیان یا کھ مجھ سے ابوبکر رضی اللھ عنھ نے کھا کھ تم جوان ھو ‘ عقلمند ھو اور ھم تمھیں کسی بارے میں متھم بھی نھیں سمجھتے تم آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کی وحی بھی لکھتے تھے ‘ پس تم اس قرآن مجید ( کی آیات ) کو تلاش کرو اور ایک جگھ جمع کر دو ۔ زید رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ واللھ ! اگر ابوبکر رضی اللھ عنھ مجھے کسی پھاڑ کو اٹھا کر دوسری جگھ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنانھ محسوس کرتا جتنا کھ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ھوا ۔ میں نے ان لوگوں سے کھا کھ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ھیں جو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے نھیں کیا ۔ ابوبکرنے کھا کھ واللھ ! یھ خیر ھے ۔ چنانچھ مجھے آمادھ کرنے کی کوشش کرتے رھے ‘ یھاں تک کھ اللھ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینھ کھول دیا جس کے لئے ابوبکر وعمر رضی اللھ عنھما کا سینھ کھولا تھا اور میں بھی وھی مناسب خیال کرنے لگا جسے وھ لوگ مناسب خیال کر رھے تھے ۔ چنانچھ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی ۔ اسے میں کھجور کی چھال ‘ چمڑے وغیرھ کے ٹکڑوں ‘ پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا ۔ میں نے سورۃ التوبھ کی آخری آیت لقد جاء کم رسول من ا نفسکم آخر تک خزیمھ یا ابو خزیمھ رضی اللھ عنھ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کر لیا ۔ ( قرآن مجید کے یھ مرتب ) صحیفے ابوبکر رضی اللھ عنھ کے پاس رھے جب تک وھ زندھ ھے ۔ یھاں تک کھ اللھ تعالیٰ نے انھیں وفات دی ‘ پھر وھ عمر رضی اللھ عنھ کے پاس آ گئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رھے ۔ جب آپ کو بھی اللھ تعالیٰ نے وفات دی تو وھ حفصھ بن عمر رضی اللھ عنھ کے پاس محفوظ رھے ۔ محمد بن عبیداللھ نے کھا کھ ” اللخاف “ کے لفظ سے ٹھیکری مراد ھے جسے خزف کھتے ھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7191
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 301


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ، وَرِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُخْبِرَ مُحَيِّصَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ‏.‏ قَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَاللَّهِ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ، وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ ـ وَهْوَ أَكْبَرُ مِنْهُ ـ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ لِيَتَكَلَّمَ وَهْوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِمُحَيِّصَةَ ‏"‏ كَبِّرْ كَبِّرْ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ ‏"‏‏.‏ فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ بِهِ، فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ‏.‏ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتِ الدَّارَ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَرَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ‏.‏


Chapter: The writing of a letter by the ruler to representatives and by judge to workers

Narrated Abu Laila bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Sahl: Sahl bin Abi Hathma and some great men of his tribe said, `Abdullah bin 'Sahl and Muhaiyisa went out to Khaibar as they were struck with poverty and difficult living conditions. Then Muhaiyisa was informed that `Abdullah had been killed and thrown in a pit or a spring. Muhaiyisa went to the Jews and said, "By Allah, you have killed my companion." The Jews said, "By Allah, we have not killed him." Muhaiyisa then came back to his people and told them the story. He, his elder brother Huwaiyisa and `Abdur-Rahman bin Sahl came (to the Prophet) and he who had been at Khaibar, proceeded to speak, but the Prophet (PBUH) said to Muhaiyisa, "The eldest! The eldest!" meaning, "Let the eldest of you speak." So Huwaiyisa spoke first and then Muhaiyisa. Allah's Messenger (PBUH) said, "The Jews should either pay the blood money of your (deceased) companion or be ready for war." After that Allah's Messenger (PBUH) wrote a letter to the Jews in that respect, and they wrote that they had not killed him. Then Allah's Messenger (PBUH) said to Huwaiyisa, Muhaiyisa and `Abdur-Rahman, "Can you take an oath by which you will be entitled to take the blood money?" They said, "No." He said (to them), "Shall we ask the Jews to take an oath before you?" They replied, "But the Jews are not Muslims." So Allah's Apostle gave them one-hundred she-camels as blood money from himself. Sahl added: When those she-camels were made to enter the house, one of them kicked me with its leg. ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کھا ھم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انھیں ابن ابی لیلیٰ نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کھا کھ ھم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ان سے ابو لیلیٰ بن عبداللھ بن عبدالرحمٰن بن سھل نے ، ان سے سھل بن ابی حثمھ نے ، انھیں سھل اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمھ داروں نے خبر دی کھ عبداللھ سھل اور محیصھ رضی اللھ عنھ خیبر کی طرف ( کھجور لینے کے لیے ) گئے ۔ کیونکھ تنگ دستی میں مبتلا تھے ۔ پھر محیصھ کو بتایا گیا کھ عبداللھ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ھے ۔ پھر وھ یھودیوں کے پاس گئے اور کھا کھ واللھ ! تم نے ھی قتل کیا ھے ۔ انھوں نے کھا واللھ ! ھم نے انھیں نھیں قتل کیا ۔ پھر وھ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا ۔ اس کے بعد وھ اور ان کے بھائی حویصھ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سھل رضی اللھ عنھ آئے ‘پھر محیصھ رضی اللھ عنھ نے بات کرنی چاھی کیونکھ آپ ھی خیبر میں موجود تھے لیکن آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ان سے کھا کھ بڑے کو آگے کرو ‘ بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی ۔ چنانچھ حویصھ نے بات کی ، پھر محیصھ نے بھی بات کی ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ یھودی تمھارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنھ لڑائی کے لیے تیار ھو جائیں ۔ چنانچھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے یھودیوں کو اس مقدمھ میں لکھا ۔ انھوں نے جواب میں یھ لکھا کھ ھم نے انھیں نھیں قتل کیا ھے ۔ پھر آپ نے حویصھ ‘ محیصھ اور عبدالرحمٰن رضی اللھ عنھ سے کھا کھ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شھید ساتھی کے خون کے مستحق ھو سکتے ھیں ؟ ان لوگوں نے کھا کھ نھیں ( کیونکھ جرم کرتے دیکھا نھیں تھا ) پھر آپ نے فرمایا ‘ کیا آپ لوگوں کے بجائے یھودی قسم کھائیں ( کھ انھوں نے قتل نھیں کیا ھے ) ؟ انھوں نے کھا کھ وھ مسلمان نھیں ھیں اور وھ جھوٹی قسم کھا سکتے ھیں ۔ چنانچھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وھ اونٹ گھر میں لائے گئے ۔ سھل رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 93 Hadith no 7192
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 89 Hadith no 302



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.