Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Wedlock, Marriage (Nikaah)

كتاب النكاح

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُرَاهُ فُلاَنًا ‏"‏‏.‏ لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ فُلاَنٌ حَيًّا، لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَىَّ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَةُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) that while Allah's Messenger (PBUH) was with her, she heard a voice of a man asking permission to enter the house of Hafsa. `Aisha added: I said, "O Allah's Messenger (PBUH)! This man is asking permission to enter your house." The Prophet (PBUH) said, "I think he is so-and-so," naming the foster-uncle of Hafsa. `Aisha said, "If so-and-so," naming her foster uncle, "were living, could he enter upon me?" The Prophet (PBUH) said, "Yes, for foster suckling relations make all those things unlawful which are unlawful through corresponding birth (blood) relations." ھم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے امام مالک نے ، ان سے عبداللھ بن ابوبکرنے ، ان سے عمرھ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی زوجھ مطھرھ عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیاکھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم ان کے یھاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کھ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصھ رضی اللھ عنھا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاھتے ھیں ۔ بیان کیا کھ میں نے عرض کیا یا رسول اللھ ! یھ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاھتا ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، میرا خیا ل ھے کھ یھ فلاں شخص ھے ، آپ نے حفصھ رضی اللھ عنھا کے ایک دودھ کے چچا کانام لیا ۔ اس پر عائشھ رضی اللھ عنھا نے پوچھا ، کیا فلاں ، جو ان کے دودھ کے چچا تھے ، اگر زند ھ ھوتے تومیر ے یھاں آ جا سکتے تھے ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ ھاں جیسے خون ملنے سے حرمت ھوتی ھے ، ویسے ھی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ھو جاتی ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5099
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 36


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلاَ تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ قَالَ ‏"‏ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ مِثْلَهُ‏.‏

Narrated Ibn `Abbas: It was said to the Prophet, "Won't you marry the daughter of Hamza?" He said, "She is my foster niece (brother's daughter). " ھم سے مسدد نے بیان کیا ، کھا ھم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبھ نے ، ان سے قتادھ نے ، ان سے حضرت جابر بن زید نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے کھا گیا کھ آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم حضرت حمزھ رضی اللھ عنھ کی بیٹی سے نکاح کیوں نھیں کر لیتے ؟ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ وھ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ھے ۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا ، ان سے شعبھ نے بیان کیا ، انھوں نے قتادھ سے سنا اور انھوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5100
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 37


حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ ‏"‏ أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ مَوْلاَةٌ لأَبِي لَهَبٍ كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ‏.‏

Narrated Um Habiba: (daughter of Abu Sufyan) I said, "O Allah's Messenger (PBUH)! Marry my sister. the daughter of Abu Sufyan." The Prophet (PBUH) said, "Do you like that?" I replied, "Yes, for even now I am not your only wife and I like that my sister should share the good with me." The Prophet (PBUH) said, "But that is not lawful for me." I said, We have heard that you want to marry the daughter of Abu Salama." He said, "(You mean) the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my step-daughter, she would be unlawful for me to marry as she is my foster niece. I and Abu Salama were suckled by Thuwaiba. So you should not present to me your daughters or your sisters (in marriage)." Narrated 'Urwa:Thuwaiba was the freed slave girl of Abu Lahb whom he had manumitted, and then she suckled the Prophet. When Abu Lahb died, one of his relatives saw him in a dream in a very bad state and asked him, "What have you encountered?" Abu Lahb said, "I have not found any rest since I left you, except that I have been given water to drink in this (the space between his thumb and other fingers) and that is because of my manumitting Thuwaiba." ھم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کھا ھم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زھری نے بیان کیا ، انھیں عروھ بن زبیر نے خبر دی ، انھیں زینب بنت ابی سلمھ نے خبر دی اور انھیں ام المؤمنین ام حبیبھ بنت ابی سفیان نے خبر دی کھ انھوں نے عرض کیا کھ یا رسول اللھ ! میری بھن ( ابوسفیان کی لڑکی ) سے نکاح کر لیجئے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے پسند کروگی ( کھ تمھاری سوکن بھن بنے ؟ ) میں نے عرض کیا ھاں میں توپسند کرتی ھوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ھوتی تو پسند نھ کرتی ۔ پھر میری بھن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ھو تو میں کیونکر نھ چاھوںگی ( غیروں سے تو بھن ھی اچھی ھے ) آپ نے فرمایا وھ میرے لئے حلال نھیں ھے ۔ حضرت ام حبیبھ رضی اللھ عنھا نے کھا یا رسول اللھ ! لوگ کھتے ھیں آپ ابوسلمھ کی بیٹی سے جو ام سلمھ کے پیٹ سے ھے ، نکاح کرنے والے ھیں ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اگر وھ میری ربیبھ اور میری پرورش میں نھ ھوتی ( یعنی میری بیوی کی بیٹی نھ ھوتی ) جب بھی میرے لئے حلال نھ ھوتی ، وھ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ھے ، مجھ کواور ابوسلمھ کے باپ کو دونوںکو ثوبیھ نے دودھ پلایا ھے ۔ دیکھو ، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بھنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لئے نھ کھو ۔ حضرت عروھ راوی نے کھا ثوبیھ ابولھب کی لونڈی تھی ۔ ابولھب نے اس کوآزاد کر دیا تھا ۔ ( جب اس نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے پیدا ھونے کی خبر ابولھب کو دی تھی ) پھر اس نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولھب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ھے کیا گزری ؟ وھ کھنے لگا جب سے میں تم سے جدا ھوا ھوں کبھی آرام نھیں ملا مگر ایک ذراسا پانی ( پیر کے دن مل جاتا ھے ) ابولھب نے اس گڑھے کی طرف اشارھ کیا جو انگوٹھے اور کلمھ کے انگلی کے بیچ میں ھوتا ھے یھ بھی اس وجھ سے کھ میں نے ثوبیھ کو آزاد کر دیا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5101
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 38


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha: that the Prophet (PBUH) entered upon her while a man was sitting with her. Signs of answer seemed to appear on his face as if he disliked that. She said, "Here is my (foster) brother." He said, "Be sure as to who is your foster brother, for foster suckling relationship is established only when milk is the only food of the child." ھم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، ان سے اشعث نے ، ان سے ان کے دادا نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کھ ان کے یھا ں ایک مرد بیٹھا ھوا ھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے چھر ے کا رنگ بدل گیا گویاکھ آپ نے اس کو پسند نھیں فرمایا حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے عرض کیا یا رسول اللھ ! یھ میرے دودھ والے بھائی ھیں آپ نے فرمایا دیکھوسوچ سمجھ کر کھو کون تمھارا بھائی ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5102
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 39


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَفْلَحَ، أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ـ وَهْوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ـ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ‏.‏


Chapter: The milk belongs to the husband

Narrated Aisha: that Aflah the brother of Abu Al-Qu'ais, her foster uncle, came, asking permission to enter upon her after the Verse of Al-Hijab (the use of veils by women) was revealed. `Aisha added: I did not allow him to enter, but when Allah's Messenger (PBUH) came, I told him what I had done, and he ordered me to give him permission. ھم سے عبداللھ بن یوسف نے بیان کیا ، کھا ھم کو امام مالک نے خبر دی ، انھیں ابن شھاب نے ، انھیں عروھ بن زبیر نے ، اور ان سے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ ابو قعیس کے بھائی افلح نے ان کے یھاں اندر آنے کی اجازت چاھی ۔ وھ حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا کے رضاعی چچا تھے ( یھ واقعھ پردھ کا حکم نازل ھونے کے بعد کا ھے حضرت عائشھ رضی اللھ عنھا نے بیان کیا کھ ) میں نے انھیں اندر آنے کی اجازت نھیں دی پھر جب رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے مجھے حکم دیا کھ میں انھیں اندر آنے کی اجازت دے دوں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5103
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 40


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ أَرْضَعْتُكُمَا‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ فُلاَنَةَ بِنْتَ فُلاَنٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ لِي إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا‏.‏ وَهْىَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، قُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، دَعْهَا عَنْكَ ‏"‏ وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِي أَيُّوبَ‏.‏


Chapter: The witness of a wet nurse

Narrated `Uqba bin Al-Harith: I married a woman and then a black lady came to us and said, "I have suckled you both (you and your wife)." So I came to the Prophet (PBUH) and said, "I married so-and-so and then a black lady came to us and said to me, 'I have suckled both of you.' But I think she is a liar." The Prophet (PBUH) turned his face away from me and I moved to face his face, and said, "She is a liar." The Prophet (PBUH) said, "How (can you keep her as your wife) when that lady has said that she has suckled both of you? So abandon (i.e., divorce) her (your wife). ھم سے علی بن عبداللھ مدینی نے بیان کیا ، کھا ھم سے اسماعیل بن ابراھیم نے ، کھا ھم کو ایوب سختیانی نے خبر دی ، انھیں عبداللھ بن ابی ملیکھ نے ، کھا کھ مجھ سے عبیداللھ بن ابی مریم نے بیان کیا ، ان سے عقبھ بن حارث رضی اللھ عنھ نے ( عبداللھ بن ابی ملیکھ نے ) بیان کیا کھ میں نے یھ حدیث خود عقبھ سے بھی سنی ھے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ھوئی حدیث زیادھ یاد ھے ۔ عقبھ بن حارث نے بیان کیا کھ میں نے ایک عورت ( ام یحییٰ بن ابی اھاب ) سے نکاح کیا ۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کھنے لگی کھ میں نے تم دونوں ( میاں بیوی ) کو دودھ پلایا ھے ۔ میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا اور عرض کیا کھ میں نے فلانی بنت فلاںسے نکاح کیا ھے ۔ اس کے بعد ھمارے یھاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کھنے لگی کھ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ھے ، حالانکھ وھ جھوٹی ھے ( آپ صلی اللھ علیھ وسلم کو عقبھ کا یھ کھنا کھ وھ جھوٹی ھے ناگوار گزرا ) آپ نے اس پر اپنا چھرھ مبارک پھیر لیا ۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وھ عورت جھوٹی ھے ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ” اس بیوی سے اب کیسے نکاح رھ سکے گا جبکھ یھ عورت یوں کھتی ھے کھ اس نے تم دونوںکو دودھ پلایاھے ، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو ۔ “ ( حدیث کے راوی ) اسماعیل بن علیھ نے اپنی شھادت اور بیچ کی انگلی سے اشارھ کر کے بتایا کھ ایوب نے اس طرح اشارھ کرکے

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 67 Hadith no 5104
Web reference: Sahih Bukhari Volume 7 Book 62 Hadith no 41



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.