Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Holding Fast to the Qur'an and Sunnah

كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ـ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ـ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، حَدَّثَنَا أَوْ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَتْ مَلاَئِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ نَائِمٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ‏.‏ فَقَالُوا إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هَذَا مَثَلاً فَاضْرِبُوا لَهُ مَثَلاً‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ‏.‏ فَقَالُوا مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا، وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ‏.‏ فَقَالُوا أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ‏.‏ فَقَالُوا فَالدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ‏.‏ تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ جَابِرٍ، خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Jabir bin `Abdullah: Some angels came to the Prophet (PBUH) while he was sleeping. Some of them said, "He is sleeping." Others said, "His eyes are sleeping but his heart is awake." Then they said, "There is an example for this companion of yours." One of them said, "Then set forth an example for him." Some of them said, "He is sleeping." The others said, "His eyes are sleeping but his heart is awake." Then they said, "His example is that of a man who has built a house and then offered therein a banquet and sent an inviter (messenger) to invite the people. So whoever accepted the invitation of the inviter, entered the house and ate of the banquet, and whoever did not accept the invitation of the inviter, did not enter the house, nor did he eat of the banquet." Then the angels said, "Interpret this example to him so that he may understand it." Some of them said, "He is sleeping.'' The others said, "His eyes are sleeping but his heart is awake." And then they said, "The houses stands for Paradise and the call maker is Muhammad; and whoever obeys Muhammad, obeys Allah; and whoever disobeys Muhammad, disobeys Allah. Muhammad separated the people (i.e., through his message, the good is distinguished from the bad, and the believers from the disbelievers). ھم سے محمد بن عبادھ نے بیان کیا ‘ کھا ھم کو یزید بن ھاروں نے خبر دی ‘ کھا ھم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا اور یزید بن ھارون نے ان کی تعریف کی ‘ کھا ھم سے سعید بن میناء نے بیان کیا ‘ انھوں نے کھا کھ میں نے جابر بن عبداللھ رضی اللھ عنھ سے سنا ‘ انھوں نے بیان کیا کھ فرشتے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کے پاس آئے ( جبرائیل ومیکائیل ) اور آپ سوئے ھوئے تھے ۔ ایک نے کھا کھ یھ سوئے ھوئے ھیں ‘ دوسرے نے کھا کھ ان کی آنکھیں سو رھی ھیں لیکن ان کا دل بیدار ھے ۔ انھوں نے کھا کھ تمھارے ان صاحب ( آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم ) کی ایک مثال ھے پس ان کی مثال بیان کرو ۔ تو ان میں سے ایک کھا کھ یھ سو رھے ھیں ۔ دوسرے نے کھا کھ آنکھ سو رھی ھے اور دل بیدار ھے ۔ انھوں نے کھا کھ ان کی مثال اس شخص جیسی ھے جس نے ایک گھر بنایا اور وھاں کھانے کی دعوت کی اور بلانے والے کو بھیجا ‘ پس جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کر لی وھ گھر میں داخل ھو گیا اور دسترخوان سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نھیں کی وھ گھر میں داخل نھیں ھوا اور دسترخوان سے کھانا نھیں کھا یا‘پھر انھوں نے کھا کھ اس کی ان کے لیے تفسیر کر دو تاکھ یھ سمجھ جائیں ۔ بعض نے کھا کھ یھ تو سوئے ھوئے ھیں لیکن بعض نے کھا کھ آنکھیں گو سو رھی ھیں لیکن دل بیدار ھے ۔ پھر انھوں نے کھا کھ گھر تو جنت ھے اور بلانے والے محمد صلی اللھ علیھ وسلم ھیں ۔ پس جو ان کی اطاعت کرے گا وھ اللھ کی اطاعت کرے گا اور جو ان کی نافرمانی کرے گا وھ اللھ کی نافرمانی کرے گا اور محمد صلی اللھ علیھ وسلم اچھے اور برے لوگوں کے درمیانی فرق کرنے والے ھیں ۔ محمد بن عبادھ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبھ بن سعید نے بھی لیث سے روایت کیا ‘ انھوں نے خالد بن یزید مصری سے ‘ انھوں نے سعید بن ابی ھلال سے ‘ انھوں نے جابر سے کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم ھم پر بیدار ھوئے ‘ پھر یھی حدیث نقل کی اسے ترمذی نے وصل کیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 96 Hadith no 7281
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 92 Hadith no 385


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ اسْتَقِيمُوا فَقَدْ سُبِقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا فَإِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالاً، لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا‏.‏

Narrated Hammam: Hudhaifa said, "O the Group of Al-Qurra! Follow the straight path, for then you have taken a great lead (and will be the leaders), but if you divert right or left, then you will go astray far away." ھم سے ابونعیم فاضل بن دکین نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابراھیمی نے ‘ ان سے ھمام نے اور ان سے حذیفھ رضی اللھ عنھ نے کھا کھ اے قرآن و حدیث پڑھنے والو ! تم اگر قرآن و حدیث پر نھ جمو گے ‘ اھر ادھر دائیں بائیں راستھ لو گے تو بھی گمراھ ھو گے بھت ھی بڑے گمراھ ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 96 Hadith no 7282
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 92 Hadith no 386


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمًا فَقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَىَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ‏.‏ فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ فَأَدْلَجُوا، فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهَلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ، فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي، فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Musa: The Prophet (PBUH) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have brought." ھم سے ابو کریب محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے اسامھ نے بیان کیا ‘ ان سے برید نے ‘ ان سے ان کے دادا ابوبردھ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللھ عنھ نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللھ تعالیٰ نے بھیجا ھے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ھے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کھے اے قوم ! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ھے اور میں ننگ دھڑنگ تو کو ڈرانے والا ھوں ‘ پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروھ نے بات مان لی اور رات کے شروع ھی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگھ چلے گئے ۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگھ ھی پر موجود رھے ‘ پھر صبح سویرے ھی دشمن کے لشکر نے انھیں آ لیا اور انھیں ما را اور ان کو برباد کر دیا ۔ توبھ مثال ھے اس کی جو میری اعطاعت کریں اور جو دعوت میں لایا ھوں اس کی پیروی کریں اور اس کی مثال ھے جو میری نافرمانی کریں اور جو حق میں لے کر آیا ھوں اسے جھٹلائیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 96 Hadith no 7283
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 92 Hadith no 387


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ، إِلاَّ بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ‏.‏ قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ عَنِ اللَّيْثِ عَنَاقًا‏.‏ وَهْوَ أَصَحُّ‏.‏

Narrated Abu Huraira: When Allah's Messenger (PBUH) died and Abu Bakr was elected as a Caliph after him, some of the Arabs reverted to disbelief, `Umar said to Abu Bakr, "How dare you fight the people while Allah's Messenger (PBUH) said, I have been ordered to fight the people till they say 'None has the right to be worshipped but Allah' And whoever says: None has the right to be worshipped but Allah.' waves his wealth and his life from me unless he deserves a legal punishment lusty, and his account will be with Allah! Abu Bakr said, "By Allah, I will fight him who discriminates between Zakat and prayers, for Zakat is the Compulsory right to be taken from the wealth By Allah, if they refuse to give me even a tying rope which they use to give to Allah's Messenger (PBUH), I would fight them for withholding it." `Umar said, 'By Allah, It was nothing, except I saw that Allah had opened the chest of Abu Bakr to the fight, and I came to know for certain that was the truth." ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ‘ کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے زھری نے ‘ انھیں عبیداللھ بن عبداللھ بن عتبھ نے خبر دی ‘ ان سے ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ جب نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی وفات ھوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللھ عنھ کو خلیفھ بنایا گیا اور عرب کے کئی قبائل پھر گئے ۔ ابوبکر رضی اللھ عنھ نے ان سے لڑنا چاھا تو عمر رضی اللھ عنھ نے ابوبکر رضی اللھ عنھ سے کھا کھ آپ لوگوں سے کس بنیاد پر جنگ کریں گے جب کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے یھ فرمایا تھا کھ مجھے حکم دیا گیا ھے کھ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وھ کلمھ لا الھٰ الا اللھ کا اقرار نھ کر لیں پس جو شخص اقرار کر لے کھ لا الھٰ الا اللھ تو میری طرف سے اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ھے ۔ البتھ کسی حق کے بدل ھو تو وھ اور بات ھے ( مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے ) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللھ کے حوالے ھے لیکن ابوبکر رضی اللھ عنھ نے کھا کھ واللھ ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ھے کیونکھ زکوٰۃ مال کا حق ھے ‘ واللھ اگر وھ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکارپر بھی جنگ کروں گا ۔ عمر رضی اللھ عنھ نے کھا پھر جو میں نے غور کیا مجھے یقین ھو گیا کھ اللھ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللھ عنھ کے دل میں لڑائی کی تجویز ڈالی ھے تو میں نے جان لیا کھ وھ حق پر ھیں ۔ ابو بکیر اور عبداللھ بن صالح نے لیث سے ” عنا قا “ ( بجائے عقلاً کھا یعنی بکری کا بچھ اور یھی زیادھ صحیح ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 96 Hadith no 7284, 7285
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 92 Hadith no 388


حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ، وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُولاً كَانُوا أَوْ شُبَّانًا فَقَالَ عُيَيْنَةُ لاِبْنِ أَخِيهِ يَا ابْنَ أَخِي هَلْ لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الأَمِيرِ فَتَسْتَأْذِنَ لِي عَلَيْهِ قَالَ سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَأْذَنَ لِعُيَيْنَةَ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ، وَمَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ‏.‏ فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ بِأَنْ يَقَعَ بِهِ فَقَالَ الْحُرُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ‏}‏ وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ‏.‏ فَوَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلاَهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Abbas: Uyaina bin Hisn bin Hudhaifa bin Badr came and stayed (at Medina) with his nephew Al-Hurr bin Qais bin Hisn who was one of those whom `Umar used to keep near him, as the Qurra' (learned men knowing Qur'an by heart) were the people of `Umar's meetings and his advisors whether they were old or young. 'Uyaina said to his nephew, "O my nephew! Have you an approach to this chief so as to get for me the permission to see him?" His nephew said, "I will get the permission for you to see him." (Ibn `Abbas added: ) So he took the permission for 'Uyaina, and when the latter entered, he said, "O the son of Al-Khattab! By Allah, you neither give us sufficient provision nor judge among us with justice." On that `Umar became so furious that he intended to harm him. Al-Hurr, said, "O Chief of the Believers!" Allah said to His Apostle 'Hold to forgiveness, command what is good (right), and leave the foolish (i.e. do not punish them).' (7.199) and this person is among the foolish." By Allah, `Umar did not overlook that Verse when Al-Hurr recited it before him, and `Umar said to observe (the orders of) Allah's Book strictly." (See Hadith No. 166, Vol. 6) مجھ سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کھا مجھ سے عبداللھ بن وھب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس بن یزید ایلی نے ‘ ان سے ابن شھاب نے ‘ ان سے عبیداللھ بن عبداللھ بن عتبھ نے ‘ ان سے عبداللھ بن عباس رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ عیینھ بن حذیفھ بن بدر مدینھ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس بن حصن کے یھاں قیام کیا ۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جنھیں عمر رضی اللھ عنھ اپنے قریب رکھتے تھے ۔ قرآن مجید کے علماء عمر رضی اللھ عنھ کے شریک مجلس و مشورھ رھتے تھے ‘خواھ وھ بوڑھے ھوں یا جوان ۔ پھر عیینھ نے اپنے بھتیجے حر سے کھا ‘ بھتیجے ! کیا امیر المؤ منین کے یھاں کچھ رسوخ حاصل ھے کھ تم میرے لیے ان کے یھاں حاضری کی اجازت لے دو ؟ انھوں نے کھا کھ میں آپ کے لیے اجازت مانگوں گا ۔ ابن عباس رضی اللھ عنھما نے بیان کیا کھ پھر انھوں نے عیینھ کے لیے اجازت چاھی ( اور آپ نے اجازت دی ) پھر جب عیینھ مجلس میں پھنچے تو کھا کھ اے ابن خطاب ! واللھ ! تم ھمیں بھت زیادھ نھیں دیتے اور نھ ھمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلھ کرتے ھو ۔ اس پر عمر رضی اللھ عنھ غصھ ھو گئے ‘ یھاں تک کھ آپ نے انھیں سزا دینے کا ارادھ کر لیا ۔ اتنے میں حضرت الحر نے کھا ‘ امیر المؤ منین ! اللھ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے فرمایا کھ ” معاف کرنے کا طریقھ اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاھلوں سے اعراض کرو “ اور یھ شخص جاھلوں میں سے ھے ۔ پس واللھ ! عمر رضی اللھ عنھ کے سامنے جب یھ آیت انھوں نے تلاوت کی تو آپ ٹھنڈے ھو گئے اور عمر رضی اللھ عنھ کی عادت تھی کھ اللھ کی کتاب پر فوراً عمل کرتے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 96 Hadith no 7286
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 92 Hadith no 389


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، وَالنَّاسُ قِيَامٌ وَهْىَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ فَقُلْتُ آيَةٌ‏.‏ قَالَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ شَىْءٍ لَمْ أَرَهُ إِلاَّ وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَأُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوِ الْمُسْلِمُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا‏.‏ فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا عَلِمْنَا أَنَّكَ مُوقِنٌ‏.‏ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Asma' bint Abu Bakr: I came to `Aisha during the solar eclipse. The people were standing (offering prayer) and she too, was standing and offering prayer. I asked, "What is wrong with the people?" She pointed towards the sky with her hand and said, Subhan Allah!'' I asked her, "Is there a sign?" She nodded with her head meaning, yes. When Allah's Messenger (PBUH) finished (the prayer), he glorified and praised Allah and said, "There is not anything that I have not seen before but I have seen now at this place of mine, even Paradise and Hell. It has been revealed to me that you people will be put to trial nearly like the trial of Ad-Dajjal, in your graves. As for the true believer or a Muslim (the sub-narrator is not sure as to which of the two (words Asma' had said) he will say, 'Muhammad came with clear signs from Allah, and we responded to him (accepted his teachings) and believed (what he said)' It will be said (to him) 'Sleep in peace; we have known that you were a true believer who believed with certainty.' As for a hypocrite or a doubtful person, (the sub-narrator is not sure as to which word Asma' said) he will say, 'I do not know, but I heard the people saying something and so I said the same.' " ھم سے عبداللھ بن مسلمھ قعنبی نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ھشام بن عروھ نے ‘ ان سے فاطمھ بنت منذر نے ‘ ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ میں عائشھ رضی اللھ عنھا کے یھاں گئی ۔ جب سورج گرھن ھوا تھا اور لوگ نماز پڑھ رھے تھے عائشھ رضی اللھ عنھا بھی کھڑی نماز پڑھ رھی تھیں ۔ میں نے کھا لوگوں کو کیا ھو گیا ھے ( کھ بے وقت نماز پڑھ رھے ھیں ) تو انھوں نے ھاتھ سے آسمان کی طرف اشارھ کیا اور کھا سبحان اللھ ! میں نے کھا کوئی نشانی ھے ؟ انھوں نے سر سے اشارھ کیا کھ ھاں ۔ پھر جب رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نماز سے فارغ ھوئے تو آپ نے اللھ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ‘ کوئی چیز ایسی نھیں لیکن میں نے آج اس جگھ سے اسے دیکھ لیا ‘ یھاں تک کھ جنت ودوزخ بھی اور مجھے وحی کی گئی ھے کھ تم لوگ قبروں میں بھی آزمائے جاؤ گے ‘ دجال کے فتنے کے قریب قریب پس مومن یا مسلم مجھے یقین نھیں کھ اسماء رضی اللھ عنھا نے ان میں سے کون سا لفظ کھا تھا تو وھ ( قبر میں فرشتوں کے سوال پر کھے گا ) محمد صلی اللھ علیھ وسلم ھمارے پاس روشن نشانات لے کر آئیں اور ھم نے ان کی دعوت قبول کی اور ایمان لائے ۔ اس سے کھا جائے گا کھ آرام سے سو رھو ‘ ھمیں معلوم تھا کھ تم مومن ھو اور منافق یا شک میں مبتلا مجھے یقین نھیں کھ ان میں سے کون سا لفظ اسماء رضی اللھ عنھا نے کھا تھا ‘ تو وھ کھے گا ( آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے متعلق سوال پر کھ مجھے معلوم نھیں ‘ میں نے لوگوں کو جو کھتے سنا وھی میں نے بھی بک دیا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 96 Hadith no 7287
Web reference: Sahih Bukhari Volume 9 Book 92 Hadith no 390



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.