Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

To make the Heart Tender (Ar-Riqaq)

كتاب الرقاق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ، إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلاَّ الْجَنَّةُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (PBUH) said, "Allah says, 'I have nothing to give but Paradise as a reward to my believer slave, who, if I cause his dear friend (or relative) to die, remains patient (and hopes for Allah's Reward). ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، کھا ھم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے حضرت ابوھریرھ رضی اللھ عنھ نے کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا اللھ تعالیٰ فرماتا ھے کھ میرے اس مومن بندے کا جس کی میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وھ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے ، تو اس کا بدلھ میرے یھاں جنت کے سوا اور کچھ نھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 81 Hadith no 6424
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 76 Hadith no 432


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهْوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ فَوَافَتْهُ صَلاَةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ ‏"‏ أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِشَىْءٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا، كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ ‏"‏‏.‏


Chapter: The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other

Narrated `Amr bin `Auf: (An ally of the tribe of Bani 'Amir bin Lu'ai and one of those who had witnessed the battle of Badr with Allah's Messenger (PBUH)) Allah's Messenger (PBUH) sent Abu 'Ubaida bin AlJarrah to Bahrain to collect the Jizya tax. Allah's Messenger (PBUH) had concluded a peace treaty with the people of Bahrain and appointed Al 'Ala bin Al-Hadrami as their chief; Abu Ubaida arrived from Bahrain with the money. The Ansar heard of Abu 'Ubaida's arrival which coincided with the Fajr (morning) prayer led by Allah's Messenger (PBUH). When the Prophet (PBUH) finished the prayer, they came to him. Allah's Messenger (PBUH) smiled when he saw them and said, "I think you have heard of the arrival of Abu 'Ubaida and that he has brought something." They replied, "Yes, O Allah's Messenger (PBUH)! " He said, "Have the good news, and hope for what will please you. By Allah, I am not afraid that you will become poor, but I am afraid that worldly wealth will be given to you in abundance as it was given to those (nations) before you, and you will start competing each other for it as the previous nations competed for it, and then it will divert you (from good) as it diverted them." ' ھم سے اسماعیل بن عبداللھ نے بیان کیا ، انھوں نے کھا کھ مجھ سے اسماعیل بن ابراھیم بن عقبھ نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبھ نے کھا کھ ابن شھاب نے بیان کیا کھ مجھ سے عروھ بن زبیر نے بیان کیا اور انھیں مسور بن مخرمھ رضی اللھ عنھ نے خبر دی کھ عمرو بن عوف رضی اللھ عنھ جو بنی عامر بن عدی کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ تھے ، انھوں نے انھیں خبر دی کھ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ابوعبیدھ بن الجراح رضی اللھ عنھ کو بحرین وھاں کا جزیھ لانے کے لئے بھیجا ، آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی اور ان پر علاء بن الحضرمی کو امیر مقرر کیا تھا ۔ جب ابوعبیدھ رضی اللھ عنھ بحرین سے جزیھ کا مال لے کر آئے تو انصار نے ان کے آنے کے متعلق سنا اور صبح کی نماز آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم کے ساتھ پڑھی اور جب آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا میرا خیال ھے کھ ابوعبیدھ کے آنے کے متعلق تم نے سن لیا ھے اور یھ بھی کھ وھ کچھ لے کر آئے ھیں ؟ انصار نے عرض کیا جی ھاں ، یا رسول اللھ ! آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، پھر تمھیں خوشخبری ھوتم اس کی امید رکھو جو تمھیں خوش کر دے گی ، خدا کی قسم ، فقر و محتاجی وھ چیز نھیں ھے جس سے میں تمھارے متعلق ڈرتا ھوں بلکھ میں تو اس سے ڈر تا ھوں کھ دنیا تم پر بھی اسی طرح کشادھ کر دی جائے گی ، جس طرح ان لوگوں پر کر دی گئی تھی جو تم سے پھلے تھے اور تم بھی اس کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی اسی طرح کوشش کرو گے جس طرح وھ کرتے تھے اور تمھیں بھی اسی طرح غافل کر دے گی جس طرح ان کو غافل کیا تھا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 81 Hadith no 6425
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 76 Hadith no 433


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ـ أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ ـ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا ‏"‏‏.‏

Narrated `Uqba bin 'Amir: The Prophet (PBUH) went out and offered the funeral prayer for the martyrs of the (battle of) Uhud and then ascended the pulpit and said, "I am your predecessor and I am a witness against you. By Allah, I am now looking at my Tank-lake (Al-Kauthar) and I have been given the keys of the treasures of the earth (or the keys of the earth). By Allah! I am not afraid that after me you will worship others besides Allah, but I am afraid that you will start competing for (the pleasures of) this world." ھم سے قتیبھ بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ، ان سے ابو الخیر نے بیان کیا اور ان سے عقبھ بن عامر رضی اللھ عنھ نے کھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم باھر تشریف لائے اور جنگ احد کے شھیدوں کے لئے اس طرح نماز پڑھی جس طرح مردھ پر نماز پڑھی جاتی ھے ۔ پھر آپ ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا آخرت میں میں تم سے آگے جاؤں گا اور میں تم پر گواھ ھوں گا ، واللھ میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رھا ھوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ھیں یا ( فرمایا کھ ) زمین کی کنجیاں دی گئی ھیں اور اللھ کی قسم ! میں تمھارے متعلق اس سے نھیں ڈرتاکھ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکھ مجھے تمھارے متعلق یھ خوف ھے کھ تم دنیا کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 81 Hadith no 6426
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 76 Hadith no 434


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَكْثَرَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الأَرْضِ ‏"‏‏.‏ قِيلَ وَمَا بَرَكَاتُ الأَرْضِ قَالَ ‏"‏ زَهْرَةُ الدُّنْيَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَا‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَقَدْ حَمِدْنَاهُ حِينَ طَلَعَ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرَةِ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَاجْتَرَّتْ وَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ، مَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ، فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ، كَانَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: Allah's Messenger (PBUH) said, "The thing I am afraid of most for your sake, is the worldly blessings which Allah will bring forth to you." It was said, "What are the blessings of this world?" The Prophet (PBUH) said, "The pleasures of the world." A man said, "Can the good bring forth evil?" The Prophet (PBUH) kept quiet for a while till we thought that he was being inspired divinely. Then he started removing the sweat from his forehead and said," Where is the questioner?" That man said, "I (am present)." Abu Sa`id added: We thanked the man when the result (of his question) was such. The Prophet (PBUH) said, "Good never brings forth but good. This wealth (of the world) is (like) green and sweet (fruit), and all the vegetation which grows on the bank of a stream either kills or nearly kills the animal that eats too much of it, except the animal that eats the Khadira (a kind of vegetation). Such an animal eats till its stomach is full and then it faces the sun and starts ruminating and then it passes out dung and urine and goes to eat again. This worldly wealth is (like) sweet (fruit), and if a person earns it (the wealth) in a legal way and spends it properly, then it is an excellent helper, and whoever earns it in an illegal way, he will be like the one who eats but is never satisfied." ھم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کھا کھ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے ، ان سے عطا ء بن یسار نے اور ان سے ابوسعید رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا میں تمھارے متعلق سب سے زیادھ اس سے خوف کھاتا ھوں کھ جب اللھ تعالیٰ زمین کی برکتیں تمھارے لئے نکال دے گا ۔ پوچھا گیا زمین کی برکتیں کیا ھیں ؟ فرمایا کھ دنیا کی چمک دمک ، اس پر ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم سے پوچھا کیا بھلائی سے برائی پیدا ھو سکتی ھے ؟ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم اس پر خاموش ھو گئے اور ھم نے خیال کیا کھ شاید آپ وحی نازل ھو رھی ھے ۔ اس کے بعد اپنی پیشانی کو صاف کرنے لگے اور دریافت فرمایا ، پوچھنے والے کھاں ھیں ؟ پوچھنے والے نے کھا کھ حاضر ھوں ۔ ابو سعید خدری رضی اللھ عنھ نے کھا کھ جب اس سوال کا حل ھمارے سامنے آ گیا تو ھم نے ان صاحب کی تعریف کی ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ بھلائی سے تو صرف بھلائی ھی پیدا ھوتی ھے لیکن یھ مال سرسبز اور خوشگوار ( گھاس کی طرح ) ھے اور جو چیزبھی ربیع کے موسم میں اگتی ھیں وھ حرص کے ساتھ کھانے والوں کو ھلاک کر دیتی ھیں یا ھلاکت کے قریب پھنچا دیتی ھیں ۔ سوائے اس جانور کے جو پیٹ بھر کے کھائے کھ جب اس نے کھا لیا اور اس کی دونوں کوکھ بھر گئیں تو اس نے سورج کی طرف منھ کر کے جگالی کر لی اور پھر پاخانھ پیشاب کر دیا اور اس کے بعد پھر لوٹ کے کھا لیا اور یھ مال بھی بھت شیریں ھے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور حق میں خرچ کیا تو وھ بھترین ذریعھ ھے اور جس نے اسے ناجائز طریقھ سے حاصل کیا تو وھ اس شخص جیسا ھے جو کھاتا ھے لیکن آسودھ نھیں ھوتا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 81 Hadith no 6427
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 76 Hadith no 435


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عِمْرَانُ فَمَا أَدْرِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ قَوْلِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏"‏ ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ‏"‏‏.‏

Narrated Zahdam bin Mudarrib: `Imran bin Husain said: The Prophet (PBUH) said, "The best people are my contemporaries (i.e., the present (my) generation) and then those who come after them (i.e., the next generation)." `Imran added: I am not sure whether the Prophet (PBUH) repeated the statement twice after his first saying. The Prophet (PBUH) added, "And after them there will come people who will bear witness, though they will not be asked to give their witness; and they will be treacherous and nobody will trust them, and they will make vows, but will not fulfill them, and fatness will appear among them." مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے غندر نے بیان کیا ، انھوں نے کھا ھم سے شعبھ نے بیان کیا ، کھا کھ میں نے ابوحمزھ سے سنا ، کھا کھ مجھ سے زھد م بن مضرب نے بیان کیا ، کھا کھ میں نے عمران بن حصین رضی اللھ عنھما سے سنا اور ان سے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بھتر میرا زمانھ ھے ، پھر ان لوگوں کا زمانھ ھے جو اس کے بعد ھوں گے ۔ عمران نے بیان کیا کھ مجھے نھیں معلوم آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے ارشاد کو دو مرتبھ دھرایا یا تین مرتبھ ۔ پھر اس کے بعد وھ لوگ ھوں گے کھ وھ گواھی دیں گے لیکن ان کی گواھی قبول نھیں کی جائے گی ، وھ خیانت کریں گے اور ان پر سے اعتماد جاتا رھے گا ۔ وھ نذر مانیں گے لیکن پوری نھیں کریں گے اور ان میں مٹاپا پھیل جائے گا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 81 Hadith no 6428
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 76 Hadith no 436


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah: The Prophet (PBUH) said, "The best people are those of my generation, and then those who will come after them (the next generation), and then those who will come after them (i.e. the next generation), and then after them, there will come people whose witness will precede their oaths, and whose oaths will precede their witness." ھم سے عبدان نے بیان کیا ، کھا ھم سے ابوحمزھ نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراھیم نے ، ان سے عبیدھ نے اور ان سے عبداللھ بن مسعود رضی اللھ عنھما نے کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، سب سے بھتر میرازمانھ ھے ، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ھوں گے پھر جو ان کے بعد ھوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ھوں گے جو قسم سے پھلے گواھی دیں گے کبھی گواھی سے پھلے قسم کھائیں گے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 81 Hadith no 6429
Web reference: Sahih Bukhari Volume 8 Book 76 Hadith no 437



@2019 Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.