Search hadith by
Hadith Book
Search Query
Search Language
English Arabic Urdu
Search Type Basic    Case Sensitive
 

Sahih Bukhari

Sales and Trade

كتاب البيوع

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَتَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمْ صَفْقٌ بِالأَسْوَاقِ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَكَانَ يَشْغَلُ إِخْوَتِي مِنَ الأَنْصَارِ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا مِنْ مَسَاكِينِ الصُّفَّةِ أَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَدِيثٍ يُحَدِّثُهُ ‏"‏ إِنَّهُ لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ، ثُمَّ يَجْمَعَ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ إِلاَّ وَعَى مَا أَقُولُ ‏"‏‏.‏ فَبَسَطْتُ نَمِرَةً عَلَىَّ، حَتَّى إِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَمَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ مِنْ شَىْءٍ‏.‏

Narrated Abu Huraira: You people say that Abu Huraira tells many narrations from Allah's Messenger (PBUH) and you also wonder why the emigrants and Ansar do not narrate from Allah's Messenger (PBUH) as Abu Huraira does. My emigrant brothers were busy in the market while I used to stick to Allah's Messenger (PBUH) content with what fills my stomach; so I used to be present when they were absent and I used to remember when they used to forget, and my Ansari brothers used to be busy with their properties and I was one of the poor men of Suffa. I used to remember the narrations when they used to forget. No doubt, Allah's Messenger (PBUH) once said, "Whoever spreads his garment till I have finished my present speech and then gathers it to himself, will remember whatever I will say." So, I spread my colored garment which I was wearing till Allah's Messenger (PBUH) had finished his saying, and then I gathered it to my chest. So, I did not forget any of that narrations. ھم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، ان سے شعیب نے بیان کیا ، ان سے زھری نے ، کھا کھ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمھ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کھ ابوھریر رضی اللھ عنھ نے کھا ، تم لوگ کھتے ھو کھ ابوھریرھ ( رضی اللھ عنھ ) تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے احادیث بھت زیادھ بیان کرتا ھے ، اور یھ بھی کھتے ھو کھ مھاجرین و انصار ابوھریرھ ( رضی اللھ عنھ ) کی طرح کیوں حدیث نھیں بیان کرتے ؟ اصل وجھ یھ ھے کھ میرے بھائی مھاجرین بازار کی خریدوفروخت میں مشغول رھا کرتے تھے ۔ اور میں اپنا پیٹ بھرنے کے بعد پھر برابر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر رھتا ، اس لیے جب یھ بھائی غیر حاضر ھوتے تو میں اس وقت بھی حاضر رھتا اور میں ( وھ باتیں آپ سے سن کر ) یاد کر لیتا جسے ان حضرات کو ( اپنے کاروبار کی مشغولیت کی وجھ سے یا تو سننے کا موقعھ نھیں ملتا تھا یا ) وھ بھول جایا کرتے تھے ۔ اسی طرح میرے بھائی انصار اپنے اموال ( کھیتوں اور باغوں ) میں مشغول رھتے ، لیکن میں صفھ میں مقیم مسکینوں میں سے ایک مسکین آدمی تھا ۔ جب یھ حضرات انصار بھولتے تو میں اسے یاد رکھتا ۔ ایک مرتبھ رسول کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے ایک حدیث بیان کرتے ھوئے فرمایا تھا کھ جو کوئی اپنا کپڑا پھیلائے اور اس وقت تک پھیلائے رکھے جب تک اپنی یھ گفتگو نھ پوری کر لوں ، پھر ( جب میری گفتگو پوری ھو جائے تو ) اس کپڑے کو سمیٹ لے تو وھ میری باتوں کو ( اپنے دل و دماغ میں ھمیشھ ) یاد رکھے گا ، چنانچھ میں نے اپنا کمبل اپنے سامنے پھیلا دیا ، پھر جب رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنا مقالھ مبارک ختم فرمایا ، تو میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے بعد پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث نھیں بھولا ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 34 Hadith no 2047
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 34 Hadith no 263


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ إِنِّي أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالاً، فَأَقْسِمُ لَكَ نِصْفَ مَالِي، وَانْظُرْ أَىَّ زَوْجَتَىَّ هَوِيتَ نَزَلْتُ لَكَ عَنْهَا، فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا‏.‏ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ، هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ قَالَ سُوقُ قَيْنُقَاعَ‏.‏ قَالَ فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَتَى بِأَقِطٍ وَسَمْنٍ ـ قَالَ ـ ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ، فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَزَوَّجْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ ‏"‏‏.‏ قَالَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَمْ سُقْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibrahim bin Sa`d from his father from his grandfather: `Abdur Rahman bin `Auf said, "When we came to Medina as emigrants, Allah's Messenger (PBUH) established a bond of brotherhood between me and Sa`d bin Ar-Rabi`. Sa`d bin Ar-Rabi` said (to me), 'I am the richest among the Ansar, so I will give you half of my wealth and you may look at my two wives and whichever of the two you may choose I will divorce her, and when she has completed the prescribed period (before marriage) you may marry her.' `Abdur-Rahman replied, "I am not in need of all that. Is there any marketplace where trade is practiced?' He replied, "The market of Qainuqa." `Abdur- Rahman went to that market the following day and brought some dried buttermilk (yogurt) and butter, and then he continued going there regularly. Few days later, `Abdur-Rahman came having traces of yellow (scent) on his body. Allah's Messenger (PBUH) asked him whether he had got married. He replied in the affirmative. The Prophet (PBUH) said, 'Whom have you married?' He replied, 'A woman from the Ansar.' Then the Prophet (PBUH) asked, 'How much did you pay her?' He replied, '(I gave her) a gold piece equal in weigh to a date stone (or a date stone of gold)! The Prophet (PBUH) said, 'Give a Walima (wedding banquet) even if with one sheep .' " ھم سے عبدالعزیز بن عبداللھ اویسی نے بیان کیا ، ان سے ابراھیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے دادا ( ابرھیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللھ عنھ ) نے بیان کیا کھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللھ عنھ نے کھا کھ جب ھم مدینھ آئے تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع انصاری کے درمیان بھائی چارھ کرا دیا ۔ سعد بن ربیع رضی اللھ عنھ نے کھا کھ میں انصار کے سب سے زیادھ مالدار لوگوں میں سے ھوں ۔ اس لیے اپنا آدھا مال میں آپ کو دیتا ھوں اور آپ خود دیکھ لیں کھ میری دو بیویوں میں سے آپ کو کون زیادھ پسند ھے ۔ میں آپ کے لیے انھیں اپنے سے الگ کر دوں گا ( یعنی طلاق دے دوں گا ) جب ان کی عدت پوری ھو جائے تو آپ ان سے نکاح کر لیں ۔ بیان کیا کھ اس پر عبدالرحمٰن رضی اللھ عنھ نے فرمایا ، مجھے ان کی ضرورت نھیں ۔ کیا یھاں کوئی بازار ھے جھاں کاروبار ھوتا ھو ؟ سعد رضی اللھ عنھ نے ” سوق قینقاع “ کا نام لیا ۔ بیان کیا کھ جب صبح ھوئی تو عبدالرحمٰن رضی اللھ عنھ پنیر اور گھی لائے ۔ راوی نے بیان کیا کھ پھر وھ تجارت کے لیے بازار آنے جانے لگے ۔ کچھ دنوں کے بعد ایک دن وھ رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئے تو زرد رنگ کا نشان ( کپڑے یا جسم پر ) تھا ۔ رسول اللھ نے دریافت فرمایا کیا تم نے شادی کر لی ھے ؟ انھوں نے کھا کھ ھاں ، آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا کھ کس سے ؟ بولے کھ ایک انصاری خاتون سے ۔ دریافت فرمایا اور مھر کتنا دیا ھے ؟ عرض کیا کھ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ھے یا ( یھ کھا کھ ) سونے کی ایک گٹھلی دی ھے ۔ پھر نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ، اچھا تو ولیمھ کر خواھ ایک بکری ھی کا ھو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 34 Hadith no 2048
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 34 Hadith no 264


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ فَآخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًى، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَأُزَوِّجُكَ‏.‏ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ‏.‏ فَمَا رَجَعَ حَتَّى اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا، فَأَتَى بِهِ أَهْلَ مَنْزِلِهِ، فَمَكَثْنَا يَسِيرًا ـ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ـ فَجَاءَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْيَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا سُقْتَ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas: When `Abdur-Rahman bin `Auf came to Medina, the Prophet (PBUH) established a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi al-Ansari. Sa`d was a rich man, so he said to `Abdur-Rahman, "I will give you half of my property and will help you marry." `Abdur-Rahman said (to him), "May Allah bless you in your family and property. Show me the market." So `Abdur-Rahman did not return from the market) till he gained some dried buttermilk (yogurt) and butter (through trading). He brought that to his house-hold. We stayed for sometime (or as long as Allah wished), and then `Abdur-Rahman came, scented with yellowish perfume. The Prophet (PBUH) said (to him) "What is this?" He replied, "I got married to an Ansari woman." The Prophet (PBUH) asked, "What did you pay her?" He replied, "A gold stone or gold equal to the weight of a date stone." The Prophet (PBUH) said (to him), "Give a wedding banquet even if with one sheep." ھم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، ان سے زھیر نے بیان کیا ، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللھ عنھ مدینھ آئے ، تو رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم نے ان کا بھائی چارھ سعد بن ربیع انصاری رضی اللھ عنھ سے کرا دیا ۔ سعد رضی اللھ عنھ مالدار آدمی تھے ۔ انھوں نے عبدالرحمٰن رضی اللھ عنھ سے کھا میں اور آپ میرے مال سے آدھا آدھا لے لیں ۔ اور میں ( اپنی ایک بیوی سے ) آپ کی شادی کرا دوں ۔ عبدالرحمٰن رضی اللھ عنھ نے اس کے جواب میں کھا اللھ تعالیٰ آپ کے اھل اور آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے ، مجھے تو آپ بازار کا راستھ بتا دیجئیے ، پھر وھ بازار سے اس وقت تک واپس نھ ھوئے جب تک نفع میں کافی پنیر اور گھی نھ بچا لیا ۔ اب وھ اپنے گھر والوں کے پاس آئے کچھ دن گزرے ھوں گے یا اللھ نے جتنا چاھا ۔ اس کے بعد وھ آئے کھ ان پر زردی کا نشان تھا ۔ آنحضرت صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا یھ زردی کیسی ھے ؟ عرض کیا ، یا رسول اللھ ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ھے ۔ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے دریافت فرمایا کھ انھیں مھر میں کیا دیا ھے ؟ عرض کیا ” سونے کی ایک گٹھلی “ یا ( یھ کھا کھ ) ” ایک گٹھلی برابر سونا “ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا کھ اچھا اب ولیمھ کر ، اگرچھ ایک بکری ھی کا ھو ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 34 Hadith no 2049
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 34 Hadith no 265


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمِجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ فَكَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا فِيهِ فَنَزَلَتْ ‏{‏لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ ‏}‏ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ‏.‏

Narrated Ibn `Abbas: `Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were marketplaces in the Pre-Islamic period of ignorance. When Islam came, Muslims felt that marketing there might be a sin. So, the Divine Inspiration came: "There is no harm for you to seek the bounty of your Lord (in the seasons of Hajj)." (2.198) Ibn `Abbas recited the Verse in this way. ھم سے عبداللھ بن محمد نے بیان کیا ، کھا ھم سے سفیان بن عیینھ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے ابن عباس رضی اللھ عنھما نے کھ عکاظ مجنھ ، اور ذوالمجاز عھد جاھلیت کے بازار تھے ۔ جب اسلام آیا تو ایسا ھوا کھ مسلمان لوگ ( خریدوفروخت کے لیے ان بازاروں میں جانا ) گناھ سمجھنے لگے ۔ اس لیے یھ آیت نازل ھوئی ” تمھارے لیے اس میں کوئی حرج نھیں اگر تم اپنے رب کے فضل ( یعنی رزق حلال ) کی تلاش کرو حج کے موسم میں “ یھ ابن عباس رضی اللھ عنھما کی قرآت ھے ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 34 Hadith no 2050
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 34 Hadith no 266


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ تَرَكَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنَ الإِثْمِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللَّهِ، مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ ‏"‏‏.‏


Chapter: Legal, illegal, and doubtful things

Narrated An-Nu`man bin Bashir: The Prophet (PBUH) said "Both legal and illegal things are obvious, and in between them are (suspicious) doubtful matters. So whoever forsakes those doubtful things lest he may commit a sin, will definitely avoid what is clearly illegal; and whoever indulges in these (suspicious) doubtful things bravely, is likely to commit what is clearly illegal. Sins are Allah's Hima (i.e. private pasture) and whoever pastures (his sheep) near it, is likely to get in it at any moment." ھم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے ابراھیم بن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے عبداللھ بن عون نے ، ان سے شعبی نے ، انھوں نے نعمان بن بشیر رضی اللھ عنھ سے سنا ، انھوں نے کھا کھ میں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے سنا ( دوسری سند امام بخاری نے کھا ) اور ھم سے علی بن عبداللھ نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے سفیان بن عیینھ نے بیان کیا ، ان سے ابوفروھ نے ، ان سے شعبی نے ، کھا کھ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللھ عنھ سے سنا ، اور انھوں نے نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے ( تیسری سند ) اور ھم سے عبداللھ بن محمد نے بیان کیا ، کھا کھ ھم سے سفیان بن عیینھ نے بیان کیا ، ان سے ابوفروھ نے ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے نعمان بن بشیر رضی اللھ عنھ سے سنا اور انھوں نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم سے ( چوتھی سند ) اور ھم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کھا کھ ھم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انھیں ابوفروھ نے ، انھیں شعبی نے اور ان سے سے نعمان بن بشیر رضی اللھ عنھ نے بیان کیا کھ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا حلال بھی کھلا ھوا ھے اور حرام بھی ظاھر ھے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبھ چیزیں ھیں ۔ پس جو شخص ان چیزوں کو چھوڑے جن کے گناھ ھونے یا نھ ھونے میں شبھ ھے وھ ان چیزوں کو تو ضروری ھی چھوڑ دے گا جن کا گناھ ھونا ظاھر ھے لیکن جو شخص شبھ کی چیزوں کے کرنے کی جرات کرے گا تو قریب ھے کھ وھ ان گناھوں میں مبتلا ھو جائے جو بالکل واضح طور پر گناھ ھیں ( لوگو یاد رکھو ) گناھ اللھ تعالیٰ کی چراگاھ ھے جو ( جانور بھی ) چراگاھ کے اردگرد چرے گا اس کا چراگاھ کے اندر چلا جانا غیر ممکن نھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 34 Hadith no 2051
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 34 Hadith no 267


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ جَاءَتْ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ‏"‏‏.‏ وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika: `Uqba bin Al-Harith said that a black woman came and claimed that she had suckled both of them (i.e. `Uqba and his wife). So, he mentioned that to the Prophet (PBUH) who turned his face from him and smiled and said, "How (can you keep your wife), and it was said (that both of you were suckled by the same woman)?" His wife was the daughter of Abu Ihab-al-Tamimi. ھم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کھا کھ ھم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انھیں عبداللھ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی ، ان سے عبداللھ بن ابی ملیکھ نے بیان کیا ، ان سے عقبھ بن حارث رضی اللھ عنھ نے کھ ایک سیاھ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کھ انھوں نے ان دونوں ( عقبھ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ھے ۔ عقبھ نے اس امر کا ذکر رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے اپنا چھرھ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا ۔ اب جب کھ ایک بات کھھ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رھ سکتے ھو ۔ ان کے نکاح میں ابواھاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں ۔

Share »

Book reference: Sahih Bukhari Book 34 Hadith no 2052
Web reference: Sahih Bukhari Volume 3 Book 34 Hadith no 268



Copyrights: if you have any objection regarding any shared content on pdf9.com please click here.